تازہ ترین

پریس کالونی میں برزلہ کی خواتین کا احتجاج

مہلوک جنگجو کی لاش کی واپسی کا مطالبہ

10 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: مبشرخان    )

بلال فرقانی
سرینگر//کپوارہ کے کیرن سیکٹر میں29جون کو فوج کے ساتھ جھڑپ میں جان بحق جنگجو کی میت کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے برزلہ کی خواتین نے پریس کالونی میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور الزام لگایا کہ انتظامیہ و پولیس مدثر احمد کی نعش کو سپرد کرنے میں پس وپیش کر رہی ہے۔ پریس کالونی میں پیر کو اس وقت رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے جب برزلہ علاقے سے آئی ہوئی بیسوں خواتین نے احتجاج کرتے ہوئے کیرن سیکٹر میں جان بحق ہوئے نوجوان کی نعش کا مطالبہ کیا۔مقامی لوگوں کے مطابق مدثر احمد بٹ ولد غلام محمد بٹ نامی یہ نوجوان2سال قبل تک عیدگاہ برزلہ کے نزدیک کریانہ کی ایک دکان چلا رہا تھا،جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہوا۔احتجاجی خواتین کافی دیر تک روتی بلکتی رہیں،جس کی وجہ سے رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔احتجاجی خواتین میں مدثر احمد کی بہنیں اور قریبی رشتہ دار بھی تھے،جنہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ2سال قبل مدثر لاپتہ ہوااور گزشتہ دنوں انہیں بات کی اطلاع موصول ہوئی کہ کیرن سیکٹر میں29جون کو جھڑپ کے دوران جو جنگجو جان بحق ہوا،وہ انکا مدثر ہے۔ احتجاج میں شامل مدثر کی ہمشیرہ کوثر جان نے کہا کہ مہلوک مدثر کی نعش کیلئے انہوں نے پولیس سے بھی رابطہ قائم کیا تھاتاہم انہیں نعش کی سپردگی میں بہانے تراشے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے ڈی این ائے کرنے کو کہا گیا تھا،اور اب جب ڈی این ائے بھی کیا گیا تو پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی رپورٹ کا انتظار ہے۔کوثر نے مزید کہا کہ دانستہ طور پر انکے بھائی کی نعش کی سپردگی میں تاخیر کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ کچھ اور نہیں صرف اپنے برادر کی نعش کا مطالبہ کر رہے ہیں،جو کہ ان کا حق ہے۔انکا کہنا تھا کہ پورا خاندان ایک طرف غم سے نڈھال ہے،اور دوسری طرف دفاتروں کا طواف کرنے کی ان میں سکت نہیں،بلکہ یہ اہل خانہ کا جائزہ اور بنیادی حق ہے کہ انہیں نعش فراہم کی جائے۔