تازہ ترین

9 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

وہ جن کے خیالوں کی ہوپروازبُلند
زِندگی میں وہی کرتے ہیں ہرآوازبُلند
جن کے افکار میں ہوتی ہے محبت کی چمک 
ایسے لوگوں کاہی دُنیامیں ہے انداز بُلند
ہرگھڑی دِل میں جورکھتے ہیں زمانے کی خبر
ساتھ رکھتے ہیں وہ اپنے پرِ پروازبُلند
یہ کسی طور بھی پھر دب نہ سکی حق کی بات
ہم نے دُنیا میں جوکی ہے کبھی آوازبلُند
زندگی میں نہیں ہوتی ہے جنہیں پستی قبول 
اُڑتے ہیں زِندگی میں وہ پرِ پرواز بُلند 
ناگوار اہلِ زمانہ کویہ اکثرگُذری 
میں نے حق کے لئے کی جب کبھی آوازبلند 
 جن کی ہربات میں پاکیزگی ہوتی ہے ہتاشؔ 
ہے بُلند اُن کی ادا اورہیں انداز بُلند
پیارے ہتاشؔ
رابطہ نمبر:8493853607
 
ہر ایک لب پر سلامِ الفت
ہے روئے دلبر مقامِ الفت
نگاہِ نازک میں جامِ الفت
ہے پیچِ گیسو کہ دامِ الفت
وہ ایک جنت، یہ ایک جنت
وہ بامِ وحدت، یہ بامِ الفت
ہے صاحبِ دل علامتِ دل
زبانِ الفت کلامِ الفت
نیازِ دلبر کہ روزِ محشر
حصولِ اکمل ہے شامِ الفت
ہے عالمِ رنگ و بُو کی رغبت
عروجِ الفت دوامِ الفت
فراق کے شب چراغ جیسے
خیالِ روشن بنامِ الفت
 
فاروق احمد فاروقؔ
 
اقبال کالونی، انچی ڈورہ
رابطہ؛9906482111
 
 
مرے قریب سے جب مہرباں روانہ ہوا
زمیں کھسک گئی اور آسماں روانہ ہوا
 
وہ  میرا گھر مرے اجداد  کی نشانی تھی
لگا کے آگ  جسے کارواں روانہ ہوا
 
ذرا سی دیر سنی ہوتی گفتگو میری
مرے خلاف لئے کیوں گماں روانہ ہوا
 
ہم ایک ساتھ رہیں گے کیے تھے قول و قرار
بنا کے مجھ کو تُو مجنوں کہاں روانہ ہوا
 
خموش رہتے ہو کیوں بار بار کہتا تھا
 وہ سن کے درد بھری داستاں روانہ ہوا
 
غمِ جدائی اب اک پل سہی نہیں جاتی
الٰہی مجھ کو بتا وہ کہاں روانہ ہوا
 
وہ جس کو خود سے لڑائی لڑی نہیں جاتی
اُٹھا کے کاندھوں پہ تیرو کماں روانہ ہوا
 
خدا ہمیشہ سلامت رکھے اُسے مہتاب
سکھا کے تجھ کو جو  اردو زباں روانہ ہوا
 
بشیر ـمہتابؔ
رابطہ؛رام بن ،9596955023      
 
 
آ دیکھ تر ے بن خلوت میں جیتے ہیں نہ ظالم مرتے ہیں
اِک تیرا تصور ہے ہر سو اِک تیری تمنا کرتے ہیں
ہر سمت ہے دشتِ تنہائی، اے عشق یہ کیسا روگ لگا
سب چھوٹ گیا جو اپنا تھا، آزار ہے ،آہیں بھرتے ہیں
اے عشق نہ تڑپا اور ہمیں پہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم
برباد ہے اپنے دل کا چمن اب مہر و وفا سے ڈرتے ہیں
کب تک میں سہوں یہ تنہائی، یہ رنج و الم اے ہرجائی
بے ساختہ کیوں ہم نام تیرا لکھ لکھ کے مٹایا کرتے ہیں
اب لوٹ بھی آئو اے جاناں بُجھنے کو چراغِ ہستی ہے
اِک تیری ضرورت ہے ہم کو رو رو کے دعائیں کرتے ہیں
ہے موت سے پہلے مار دیا، اسِ عشق نے ایسا حال کیا
اب جینا بھی دشوار ہوا چل ترکِ محبت کرتے ہیں
 
عقیلؔ فاروق 
رابطہ؛ گورنمنٹ ڈگری کالج شوپیان،موبائل نمبر؛8491994633
 
 
مرگِ انبوہ بر سرِ پیکار تیرے شہر میں
اب کے جینا ہے بڑا دشوار تیرے شہر میں
بیچ ڈالوں نا کہیں مجبور ہوکر حوصلے 
تیز تر ہے گر مئی بازار تیرے شہر میں
جس کو دیکھا الجھنیں سلجھا رہا ہے دمبدم 
ہے فقط اک دل میرا بے کار تیرے شہر میں
 میں تو سجدے میں ہوں مجھ کو کچھ نہیں معلوم کیا
 ہوگئے رب، درہم و دینار تیرے شہر میں
ہیں وفا کے نام سے آزادؔ سب نا آشنا
رونا اس عالم پہ ہے بیکار تیرے شہر میں
 
آزاد ؔشوکت حسین ملک
زلن گام کوکر ناگ،9596481278