تازہ ترین

صدقہ فطر: فضائل واحکام

زکوٰۃ الفطر

15 جون 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی
رمضان المبارک میں صدقہ فطر کا وجوب جہاں روزہ میں ہونے والے خطا اور غلطیوں اور رمضان کی لغویات اور فضولیات کا مداوا اور علاج ہے، وہیں یہ غریب کی غربت کے خاتمہ اور محتاج کی محتاجگی کے ازالہ کا بھی ایک ذریعہ اور سبب ہے ۔اس کی وجوبیت کی وجہ کو بیان کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ صدقہ فطر اس لئے واجب کیا گیا کہ روزے لغو اور بے حیائی کی باتوں سے پاک ہوجائیں اور مسکینوں کے لئے کھانے کا انتظام ہو (ابوداؤد)۔اس روایت سے پتہ چلا کہ صدقہ فطر کے وجوب کی دو وجوہ ہیں:   ۱ ؍ رزہ کی کوتاہیوں کی تلافی ۲ ؍امت کے مسکینوں کے لئے عیدکے دن کے روزق کا انتظام کے وہ بھی عید کی خوشیوں میں اوروں کے مثل برابر کے شریک ہو ں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رمضان کے آخر میں لوگوں سے فرمایا: تم لوگ اپنے روزے کا صدقہ نکالو اوریہ مقدار رسول اللہ ﷺ نے کھجور ارو جو سے ایک صاع اور گندم سے آدھا صاع ، ہر آزاد غلام ، چھوٹے اور بڑے کی جانب سے مقرر فرمائی ہے( بخاری)  ایک دوسری روایت میں کشمش سے ایک صاع دینے کا تذکرہ بھی ہے ۔
 
لہٰذا ان چار اشیاء سے صدقۃ الفطر دیا جائے گا، گندم ، کشمش، جو ، کھجور کی مقدار تفصیل درج ذیل ہے۱: گیہوں آدھا صاع = دو کلو تقریباً،۲؍کشمش ایک صاع =چار کلو تقریبا، ۳جو ۔ ایک صاع = چار کلو تقریباً، ۴ ؍کھجور ۔  ایک صاع = چار کلو تقریبا۔بہت سارے باحیثیت لوگ صرف گہیوں سے صدقہ فطر اد کر کے خوش ہوجاتے ہیں ، صدقہ الفطر کے وجوب کا مقصد ایک تو روزہ کی حالت میں جو جھوٹ اور لغویات ہم سے سرزد ہوئیں ان کی معانی وپاکی ہے ، اب اپنے لغویات کے ارتکاب کے بقدر لغویات وفضولیات کے ارتکاب کے مقدار فطرہ ادا کریں ، تاکہ روزوں میں پاکیزگی بھی آئے اور غرباء کی مالی اعانت بھی ہو ، اس لئے اگر آدمی کشمش یا کھجور سے صدقہ فطر ادا کرے گا تو فقراء ومساکین کی بھر پور امداد ہوگی اور اگر حیثیت والا ہونے کے باوجود صرف گندم سے 60 ۔ 70 روپے کی ادائیگی کرے توضرورت مندوں کی بھرپور امداد نہ ہوسکے گی ۔
 
صدقۃ الفطر واجب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ شخص مسلمان ہو ، البتہ بالغ اور صحیح العقل ہونا ضروری نہیں ، نابالغ اور فاتر العقل ہو ؛ لیکن صاحب ثروت ہو تو اس کا ولی اس کے پیسوں سے اس کا صدقہ کرے گا (بدائع الصنائع : 2؍69)  ہاں مالدار ، مالدار ہونے کا معیار میں فقہاء کی رائیں مختلف ہیں ،۔اکثر فقہاء کا خیال ہے کہ جس کے پاس ایک دن ورات کی خوراک کے علاوہ اتنی مقدار ہو کہ صدقہ الفطر ادا کرسکے ( المغنی : 2؍359) حنفیہ کی رائے یہ ہے کہ جس کے پاس بنیادی ضروریات (حوائج اصلیہ ) رہائشی مکان، سامان خورد ونوش، استعمالی کپڑے کے علاوہ کرایہ کے مکانات ، زمین ، رکھے ہوئے کپڑے ، فاضل اجناس ، سونا، چاندی یا رقم اتنی مقدار میں ہو کہ ان کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کو پہنچ جائے تو ان پر صدقۃ الفطر واجب ہوگا ( الفتاوی الہندیۃ : 1؍191) ۔البتہ صدقہ فطر کے وجوب کے لئے نصاب پر سال گذرنے کی ضرورت نہیں ، زکوٰۃ کے ادائیگی کے لئے نصاب پر سال گذرنا ضروری ہے ( کتاب النوازل:7؍241)۔غریب آدمی پر صدقہ فطر دینا لازم نہیں اوراگر ادا کردے تو منع نہیں ( کتاب النوزال: ۷؍۲۴۹)۔صدقۃ الفطر کی ادائیگی کا اصل وقت عید الفطر کے دن نماز عید سے پہلے ، البتہ رمضان کے آخر میں کسی بھی وقت ادا کیا جاسکتا ہے ( نور الأنوار ، مبحث الأمر ، 56) رات میں بچہ پیدا ہو تو صدقۃ الفطر ادا کرے گا، رات میں انتقال ہوگیا تو اس کی طرف سے صدقہ ادا نہیں کرے گا(بدائع الصنائع: 2؍74) ۔اگر عید کا دن گذر گیا اور صدقہ ادا نہیں کیا تو صدقہ معاف نہیں ہوا ، زندگی میں کبھی بھی ادا کرلے ، البتہ جہاں تک ممکن ہو عجلت کرے ( کتاب الفتاوی : 3؍ 355)لیکن فطرہ کا مقصد اپنے غریب بھائیوں کو عید کی خوشی میں شریک کرنا ہے ، یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب عید سے پہلے بلکہ رمضان المبارک ہی میں فطرہ ادا کردیا جائے ، اس لئے نہ صرف نماز عید ؛ بلکہ عید کے دن سے بھی پہلے صدقۃ الفطر ادا کردینا افضل ہے، اگر پہلے ادا نہ کرسکا تب بھی ذمہ میں واجب رہتا ہے ، عید کے بعد ادا کردینا ضروری ہے ؛ البتہ ایسی صورت میں اجر کم ہوگا ۔ 
 
رمضان کا الوداعی پیغام
 نوجوانانِ ملت کے نام
ذرا سوچئے
 مران غنی صبا
 مدیر اعزازی ’’اردو نیٹ‘‘ جاپان
مسلمانو! میں جا رہا ہوں۔ نوجوانو! میں جا رہا ہوں۔ کیا پتہ پھر تمہیں میری رفاقت نصیب ہو نہ ہو۔ آئو! اس سے پہلے کہ میں تم سے بچھڑ جائوں۔ مجھے گلے سے لگا لو۔ میرے فیوض و برکات سے اپنے سینوں کو منور کر لو۔ دیکھو! اللہ کے صالح اور نیک بندے، عابد و زاہد بندے اپنی صالحیت کے باوجود رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہیں، گڑگڑا رہے ہیں، گناہوں سے توبہ کر رہے ہیں۔ آئندہ گناہوں سے بچنے کی توفیق طلب کر رہے ہیں۔ اللہ سے رحمت و مغفرت کی، اس کے جود و سخا کی بھیک مانگ رہے ہیں۔تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھو۔ انبیاء، رسلؑ، صحابہ کرامؓ، اولیاء اللہؒ جن کی صالحیت کی قسمیں کھائی جاتی ہیں، اعمالِ صالحہ کی کثرت کے باوجود اللہ سے رو رو کر اُس کی رحمت طلب کرتے تھے۔ کیا تمہارے اعمال ان پاک نفوس سے بھی تجاوز کر چکے ہیں کہ تمہیں اپنے رب کو راضی کرنے کی فکر نہیں۔۔۔؟مسلمانو! ائے قوم کے غیور جوانو! میں تمہاری تربیت کے لیے آیا ہوں۔ کیا تمہیں نہیں پتہ کہ ایک فوجی کو سخت ترین فوجی تربیت اسی لیے دی جاتی ہے تا کہ وہ اپنی سرحد کی سر دھڑ کی بازی لگاکر حفاظت کر سکے۔ تم بھی دین و شریعت کے ایک فوجی ہو، ایک سپہ سالار ہو۔ اسلام تمہاری سرحد ہے۔ شیطان اور تمہارا سرکش نفس ہر لحظہ تمہاری سرحد میں داخل ہو کر تمہیں بے گھر کرنے کی فراق میں ہے۔ آئو، قسم کھا لو، مجھے یقین دلا دو کہ تم اپنے ایمان کی سرحد میں شیطان اور اپنے سرکش نفس کو داخل نہیں ہونے دو گے۔ 
 
مسلمانو! ائے میرے عزیز نوجوانو! میں جا رہا ہوں لیکن جاتے جاتے تمہیں تقویٰ کی صفت سے متصف دیکھنا چاہتا ہوں۔ کیوں کہ میرے آنے کا مقصد اولین تمہارے اندر تقوے کی صفت پیدا کرنا ہے۔ قرآن کے اوراق پلٹ کر دیکھو وہ کیا کہتا ہے۔’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض تھے تاکہ تم متقی اور پرہیز گار بن جائو۔‘‘(سورۃ البقرۃ)۔ آئو میں تمہیں قرآن کی ہی زبانی بتاتا ہوں کہ متقی کسے کہتے ہیں۔ سورۃ البقرۃ کی ابتدائی آیات کے مفہوم پر غور کرو۔:
 
الف۔ لام۔ میم۔ یہ کتابِ الٰہی ہے۔ اس کے کتاب ہونے میں کوئی شک نہیں۔ ہدایت ہے متقیوں کے لیے۔ جو ایمان رکھتے ہیں غیب پر، نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘(سورۃ البقرۃ)
 
غور کرو۔ قرآن متقیوں کی تین صفتیں بتا رہا ہے۔ غیب پر ایمان لانا۔ نماز قائم کرنا اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔ اپنے اندر اتر کر خود کا جائزہ لو کہ کیا میری تربیت کے بعد تمہارے اندر یہ تین صفتیں پیدا ہو سکی ہیں یا نہیں؟ اب بھی وقت ہے۔ اپنے رب کو منا لو۔ دنیا بہت مانگ لی۔ اب ذرا اپنا دستِ سوال تقویٰ و پرہیزگاری مانگنے کے لیے بھی دراز کر لو۔ ایک بھکاری کی طرح اُس کے در پر ڈٹ جائو کہ بغیر لیے نہیں جائوں گا۔ اپنے دامن کو آنسوئوں سے بھر دو۔ شاید اسے ترس آ جائے۔ شاید اُس کی رحمت جوش میں آجائے۔ شاید کہ عرقِ انفعال کے قطرے موتی سمجھ کر چن لیے جائیں۔دیکھو دیکھو، محسوس کرو، کوئی آواز دے رہا ہے کہ’’ ہے کوئی ہدایت کا متلاشی جسے ہدایت بخش دی جائے، ہے کوئی خیر کا متلاشی جسے خیر و عافیت عطا کی جائے۔‘‘ دوڑو، لپکو، اگر اب بھی محروم رہ گئے تو تم سے بڑا بدنصیب کوئی نہیں ہوگا   ؎
 
لے کے خود پیرِ مغاں ہاتھ میں مینا آیا
مے کشو! شرم کہ اس پربھی نہ پینا آیا
 
اے میرے چاہنے والو! جاتے جاتے مجھ سے وعدہ کرو کہ میرے جانے کے بعد مجھے بھول نہیں جائو گے۔ مساجد کو ویران نہیں ہونے دو گے۔ شیطان کو اپنی سرحد میں داخل ہونے سے باز رکھو گے۔ قرآن سے اپنا تعلق نہیں توڑو گے۔ غربا ء و مساکین پر دست شفقت رکھو گے۔ ہدایت کو عام کرو گے۔ مظلوموں کا ساتھ دو گے۔ ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہو گے۔ اپنے اعمال سے یہ ثابت کروگے کہ ’’میری نماز، میری قربانی، میرا جینا و مرنا سب اللہ کے لیے ہے۔‘‘مجھ سے وعدہ کرو۔۔ ۔۔ مجھے یقین دلا دو تاکہ میں ہنسی خوشی تم سے رخصت ہو سکوں۔