تازہ ترین

اردو میں سیرت نگاری

بعداز خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

10 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

جاوید احمد ملک ۔۔۔ اچھہ بل رفیع آباد
 برصغیر  کی تاریخ کے ابتدائی دورمیں گیارہ سوسال تک اگر چہ علم فقہ، اصول فقہ، ادبیات ، علم منطق اور تصوف میں کافی کام نظر آتا ہے ،تاہم علوم سیرت پاک ؐ کے حوالے سے یہاں وہ دلچسپی نہیں دکھائی دیتی جو ہر مسلمان معاشرہ میں ہونی چاہئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عرب دنیا میں علوم سیرت پر بڑا قابل ذکر کام ہورہا تھا۔ اگرچہ عربی اور فارسی جو یہاں سرکاری زبان رہی ہے ، میں صدیوں پہلے سیرت کا کام ہوا تھا ۔ جیسے شیخ عبدالحق محدثؒ جنہوں نے شمالی ہندستان میں پہلی بار علم حدیث متعارف کرایا اور اسی طرح انہوں نے علم سیرت کو اس طرح متعارف کرایا کہ ڈاکٹر محمود غازی فرماتے ہیں :
اگر ان کو ہندستان میں علم سیرت کا جد امجد قرار دیا جائے توغلط نہیں ہوگا۔                      
حضرت شیخ عبدالحق بر صغیر اور شمالی ہندوستان کے پہلے سیرت نگار تھے۔ 
( محاضرات سیرت ص ۵۹۷)
انہوں نے ’’ـمدارج النبوۃ‘‘ دو جلدوں میں لکھی جو برصغیر میں سیرت طیبہ ؐپر سب سے پہلی اور مستند کتاب ہے۔ اسی طرح ان کے معاصر مجددالف ثانی شیخ احمد سرہندی ؒ نے بھی سیرت کے حوالہ سے مقام نبوتؐ اور علوم نبوت ؐکے بارہ میں اپنے گراں قدر مکتوبات میں غلط فہمیوں کی تردید فرمائی۔ آگے چل کر امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے ابن سید الناس کی کتاب ’’عیون الاثر فی فروع المغازی و الشمائل والسیر‘‘ کی تلخیص فرمائی جو فارسی میں ایک درسی کتاب تھی اور ’’ سرور المحزون ‘‘اس کا نام تھا۔اس کااردو ترجمہ   ’’دُرّ مکنون‘‘  کے نام سے شوکت علی شاہ جہاں پوری نے کیا تھا۔
اس کے علاوہ بھی کچھ کتب سیرت پر ملتی ہے، جو اس زمانہ میں یا اس سے پہلے لکھی گئیں، مگر اردو میں اب تک کوئی کتاب علوم سیرت پر لکھنی باقی تھی۔ اردو میں سیرت کا آغاز نظم میں ہوا جس کی شروعات مولود نامے، میلاد نامے، معراج نامے، نور نامے اور شمائل نامے وغیرہ سے ہوئی اور اس طرح سینکڑوں کتابیں وجود میں آئیں۔: 
۔۔ چنانچہ گیسو دراز بندہ نواز سید محمد حسینی کے کلام میں نعتیہ اشعار بھی ملتے ہیں۔ ( ڈاکٹر رفیع الدین ، اردو کی نعتیہ شاعری ص ۹ )
سترہویں صدی کے اواخر سے لے کر اٹھارویں صدی کے اواخر تک سیرت پا ک ؐ پر لکھی جانے والی تقریبًا ساری کتابیں منظومات تھیں۔ ۱۸۷۵ء سے پہلے اردو میں سیرت نثر میں سیرت پر چند کتابیں لکھی گئیں ، جن میں دو کتب قابل ذکر ہے:ایک حیدر آباد دکن کے ایک مشہور عالم قاضیبدر الدولہ کی ہے،اُن کی کتاب کا نام ’’فوائدبدریہ ‘‘دوجلدوں پر مشتمل قدیم اردو زبان میں لکھی جانے والی سیرت پہ ایک اچھی کتاب ہے۔ اردو نثرمیں سیرت پر سب سے پہلی کتاب یہی قاضی بدرالدولہ ساحب کی تھے اور بعض فرماتے ہیں :
ـ۔۔سلطنت کے دور زوال میں محمد باقر آگاہ ۱۲۲۰ھ نے  ریاض السیر کے نام سےاردو میں سیرت پر ایک کتاب مرتب کی جو بلاشبہ اردو نثر میں سیرت پر پہلی کاوش ہے۔ 
(ڈاکٹر خالد انور محمود ، اردو نثر میں سیرت رسول ص۲۱۹ )
دوسری کتاب مفتی عنایت اللہ کاکوری ؒ کی ہے جنہوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دے کر عملًا  انگریز مخالف تحریک جہاد میں حصہ لیا اور بعد میں کالا پانی جزائر انڈیمان میں پابند سلاسل بنائے گئے۔ انہوں نے اسیری کی حالت میں محض اپنی یاداشت سے سیرت پر ایک کتاب لکھی ، جو’’ تواریخ حبیب الٰہ‘‘  کے نام سے موسوم ہوکر شائع ہوئی۔ گو اس میں بھی سند کے اعتبار سے بہت سی روایات کمزور ہے۔  مولانا کرامت علی جونپوری جو سید احمد شہید ؒ کے تلامذہ میں سے تھے، انہوں نے شمائل ترمذی کا اردو ترجمہ کیا جو ’’انوارِ محمدی‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اسی طرح ابن القیمؒ کی’’ زاد المعاد‘‘ کا اردو ترجمہ نواب مصطفی خان شیفتہ ؔ، جو مرزا غالب ؔکے استاد کے درجہ میں تھے، نے کیا جو نامکمل ہی رہا۔اسی طرح سیرت ابن ہشام کا ترجمہ مولوی انشاء اللہ نے بعض مفید حواشی و تشریحات کے ساتھ کیا۔ قاضی عیاضؒ کی ’’ا لشفاء ‘‘ کا ترجمہ’’ شمیم الریاض ‘‘کے نام سے مولانا اسماعیل کاندھلوی نے کیا، جو مولانا ادریس کاندھلوی ؒ کے والد ماجد تھے۔ تحقیق و تدقیق کی کسوٹی پہ دیکھا جائے تو ان میں اکثر کتب کے معیار پر کلامکی گنجائش ہے ۔ اس لئے ضرورت اس بات کی تھی کہ سیرت پر تالیف کتب کے اسلوب میں تبدیلی لائی جائے ۔ روایتی مولود ناموں سے ہٹ کر مستند اور جامع کتب ِسیرت کی تصنیف و تالیف کا آغاز کیا جائے۔ انیسویں صدی کا آخری حصہ اور بیسویں صدی اردو سیرت نگاری میں زریں عید کہلاتا ہے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد جب انگریزوں نے ایک طرف مسلمانوں میں عیسائیت کی تبلیغ شروع کی، دوسری طرف مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے لئے اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات اقدس پر حملہ کرنے کے لئے کتابیں لکھنا شروع کیں،اسی ضمن میں یوپی کے لفٹینیٹ گورنر سر ولیم میور نے چار جلدوں میں  The life of Muhammad کے نام سے ایک کتاب لکھی جو ۱۸۶۴ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں غلط سلط تاویلیں کرکے رسول اللہ ﷺ پر بے جا اعتراضات کئے گئے تھے، اس لئے اس کتاب نے مسلمانوں کے قلوب کو متزلزل کردیا۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کہتے ہیں:
اس کتاب کو دیکھ کر سب سے پہلے سر سید احمد خان کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اس کتاب کا ایک عالمانہ جواب دیا جائے۔ یوں سیرت نگاری کا ایک نیا دبستان وجود میں جس کو میں دبستان سرسید کہنا چاہتا ہوں۔  (محاضرات سیرت ص ۶۱۸)
 ۱۸۶۹ ء میں سرسید احمد خان نے انگلستان جا ئو ئوکر ولیم میور کی کتاب کا جواب لکھا جس کا نام ’’خطبات احمدیہ‘‘ قرار پایا۔ اس میں بارہ خطبات ہیں جن میں موصوف نے مستشرق معترض کے اعتراضات جیسے نبی ﷺ کے بنی اسماعیل نہ ہونے کا دعویٰ، ابراہیم ؑ کو کعبہ شریف کاموجد نہ ہونے کا دعویٰ وغیرہ جیسے اعتراضات کا ابطال کر کے ان کے نقلی و عقلی اورعلمی جوابات دئے ہیں۔ چونکہ یہ جوابات دفاع کے طور پر دئے گئے ہیں ،اس لئے سرسید احمدخان اور ان کے خوشہ چینوں میں یورپی نشاۃ ثانیہ اور مغربی علوم میں انہماک کی بوجہ معذرت خواہانہ ا ور دفاعی انداز غیر شعوری طور پر آگیا۔ اس وجہ سے آگے چل کر خود انہوں نے اور ان کے جانشینوں نے قرآن وحدیث کے تعلق سے خود ساختہ اصول وضع کر کے اسلامی عقائدکی غلط سلط تاویلیں کرتے ہوئے بہت سارے مسائل اور امور میں جمہور کا مسلک چھوڑ دیا۔(دیکھو  تفسیر القرآن از سر سید احمد خان، علامہ شبلی کی ’’سیرۃ النبی‘‘ غزوہ بدر کا باب)
نیز سرسیداحمد خان نے  ایک کتاب لکھی جس میں معجزات وغیرہ کی تفصیلات کو بہت اہتمام سے بیان کیا گیا ہے لیکن بعد میں ان کی فکری و ذہنی روش بدلنے سے انہوں نے اس کتاب سے لا تعلقی ظاہر کی۔ اس کتاب کا نام’’ جلاء القلوب بذکر المحبوب ‘‘ تھا۔ دبستان سرسید کے دوبڑے نام بہت مشہور ہیں:ایک علامہ شبلی جو کافی عرصہ تک سرسید احمد خان کے ساتھ علی گڈھ میں رہے۔علامہ شبلی نے ’’سیرۃ النبی ‘‘ﷺ کے نام سے سیرت پر کتاب لکھی جس کو بعد میں ان کے شاگرد سید سلیمان ندوی ؒ نے مکمل فرمایا اور دوسرے قاضی سلیمان منصورپوری ، جنہوں نے ’’رحمۃ للعالمین  ؐ‘‘کے نام سے کتاب لکھی۔
اسی طرح مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے سیرت طیبہ ؐ پر ایک کتاب لکھی جس کا نام ’’ نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب ‘‘ ہے۔ یہ کتاب عوام کے لئے لکھی گئی تھی، استناد کا درجہ بھی اونچا رکھا گیا ہے۔ ایک دور میں مقبول رہی لیکن بعد میں مزید آسان کتبِ سیرتؐ کی فراہمی سے یہ کتاب عوام کی آنکھوں سے اوجھل ہوگئی۔ تاہم بعض اہل علم حضرات نے کتاب مذکورہ کے اول باب’’ نور محمدی‘‘ کی روایات کو موضوع قرار دیا ہے۔ اسی دور میں مولانا ابو رشید عبدالعزیز کی ’’حضرت رسول اللہ ‘‘ ـ، علامہ سید سلیمان ندوی ؒ کی ’’خطبات مدراس‘‘ ، پروفیسر نواب علی کی کتاب’’ سیرت رسول اللہ ‘‘ ، حکیم عبدالرؤف داناپوری (م ۱۹۴۸ء) کی’’اصح السیر‘‘ ، سید مناظر احسن گیلانی (م ۱۹۵۶ء) کی ’’النبی الخاتم‘‘ ، چودھری افضل حق (م ۱۹۴۳ء) کی ’’محبوب خداؐ‘‘ نمایاں نظر آتی ہیں۔
 مغازی و سیرت کے عسکری پہلو پر بھی اردو زبان میں متعدد کتب لکھی گئیں۔ پاکستان کے بریگیڈیر مرحوم گلزار احمد نے دس جلدوں پہ ایک کتاب لکھی جس کا نام ’’غزوات نبوی ؐ‘‘ہے۔ ہر ایک غزوہ کی تفصیل الگ الگ بیان کی گئی ہے۔ڈاکٹر حمیداللہ کی اس موضوع پر ’’رسول اللہؐ کی سیاسی زندگی‘‘ قابل قدرعلمی کاوش ہے۔ اسی طرح مولانا مودودی ؒکی ’’سیرت سرور عالمؐ‘‘ بھی ایک ضخیم کتاب ہے جس میں مقام نبوت، سیرت کا سیاسی پہلو، ماحولیات سیرت اور عادات عرب وغیرہ پر اچھا خاصا مواد موجود ہے۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ کی ’’نبی ٔرحمت ؐ‘‘ ادبیات سیرت اور ماحولیات سیرت میں ایک قابل قدر کتاب ہے۔ غیر منقوط کتب میں مولانا ولی رازی کی ’’ہادیٔ عالم ‘‘ اس سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے۔اردو زبان میں سیرت پر لکھی جانے والی جامع ترین کتاب’’ سیرۃ المصطفیٰ  ؐ‘‘ہے جو مولانا ادریس کاندھلوی ؒ کی تصنیف ہے۔تحقیق و تدقیق کے جس معیار پر مذکورہ کتاب فائز ہے، مراجع و مصادر کا جس طرح تتبع اور اسلاف و جمہور علماء کے انداز و طریقہ سے جس طرح سر مو انحراف نہیں کیا گیا ہے، حدیث و متقدمین کی شروحات کے اصل مصادر پر جس طرح سے یہ کتاب مبنی ہے ، اردو کی کسی دوسری کتاب کو یہ مقام حاصل نہیں۔ 
مولانا موصوف نے اس کتاب میں سرسید احمد خان اور علامہ شبلی کے بعض نظریات اور ان کے مذعومہ خیالات و استدلالات کی مدلل انداز میں تردید کی ہے اور جو معذرت خواہانہ رویہ دونوں صاحبوں نے یورپی مصنفین کے اثر کی وجہ سے اختیار کیا ہے، اس کو نقل و عقل کی کسوٹی پررکھ کر مولانا موصوف نے برملا انداز میں کتاب و سنت اور جمہور کے مسلک کی رو سے غلط ثابت کیا ہے۔ اس وجہ سے اگر ایک طرف دبستان سرسید کے کتاب و سنت بالخصوص احادیث کے بارہ میںعدمِ رسوخ اور سطحی مطالعہ کا پتہ چلتا ہے تو دوسری طرف مولانا کاندھلوی ؒ کی علمی شان و محدثانہ جلال اور راسخ العلم و سچا عاشق رسولؐ ہونے کا ثبوت بھی ملتا ہے۔
مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے جب مولف کی زبان سے کتاب کے چند مقامات سنے ، تو اس کتاب کو بہت سراہا اور کتاب پر اپنی رائے ظاہر کرکے بطور تقریظ چند جامع کلمات تحریر فرمائے۔ دور جدید میں ڈاکٹر خالد محمود اس کتاب کے بارہ میں فرماتے ہیں :
یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ پُرفتن دور میں ایسی کتب سیرت کی اشد ضرورت ہے ۔ جنہیں پڑھ کر مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ مبارکہ کو مشعل راہ بنا سکیں۔ سیرۃ المصطفیٰ یقینا ایک ایسی کتاب ہے جو اپنی افادیت کے اعتبار سے علمی دنیا میں ایک درخشندہ باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ (ڈاکٹر خالد محمود  ایضاً ص ۲۱۹)
ڈاکٹر محمود احمد غازی علامہ شبلی، سید سلیمان ندوی اور ڈاکٹر حمیداللہ وغیرہم کی کتب کا تذکرہ کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ایک اور کتاب جو قدیم محدثانہ انداز کی ہے وہ مولانا محمد ادریس کاندھلوی ؒ کی سیرۃالمصطفیٰ ہے۔ چارضخیم جلدوں پر مشتمل یہ کتاب تمام قدیم کتبِ سیرت کا نچوڑہے۔ جدید سیرت نگاروں سے جہاں جہاں غلطیاںہوئیں یا کمزوریاں سرزد ہوئیں ،ان کا جواب دیا گیا ہے۔ معجزات اور بشارتوں پر خاص زور دیا گیا ہے۔   
(محاضرات سیرت ص ۶۸۱)
