تازہ ترین

مزید خبرں

12 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

۔13 جولائی کویوم شہداء منانے کی مخالفت

جموں ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کاتعطیل نہ منانے کااعلان

یوگیش سگوترہ 
جموں//1931کے شہداء کی یاد میں 13جولائی کو یومِ شہدا منائے جانے پر جموں ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے اعتراض جتاتے ہوئے اس دن کی مناسبت سے عام تعطیل کی بھی  مخالفت کی ہے ۔ ایسو سی ایشن نے امسال 13جولائی کو تعطیل نہ منانے کا اعلان کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے احاطہ میں حکومت مخالف مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ اس روز ہونے والی عام تعطیل کو منسوخ کیا جا سکے ۔ایسو سی ایشن کے جنرل سیکرٹری پریم سڈھوترہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 13جولائی کو یوم شہداء کے طور پر منایا جانا کشمیر کی اقلیتوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اُس روز کچھ وطن دشمن عناصر نے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کی تھی جو موجودہ حالات کا موجب بنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی قوم پرست طاقتیں تاریخ کی اس حقیقت کو فراموش نہیں کر سکتیں اور وہ تب تک اسے یوم سیاہ کے طور پر مناتی رہیں گی جب تک کہ عام تعطیل کو منسوخ نہیں کیا جاتا۔سڈھوترہ نے کہا کہ بار ایسو سی ایشن 13جولائی کو مفت قانونی کیمپ منعقد کرے گی تا کہ تعطیل کی مخالفت کی جا سکے ۔ قابل ذکر ہے کہ جموں نشین پارٹیوں کے علاوہ کشمیری پنڈتوں کی کچھ تنظیمیں بھی گزشتہ چند برس سے اسے یوم سیاہ کے طور پر مناتی آئی ہیں۔ 
 

 وزیراعظم جموں وکشمیرکے تمام لیڈروں کی کانفرنس طلب کریں:بھیم سنگھ

جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی اور اسٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی کے ایکزیکیوٹیو چیرمین پروفیسربھیم سنگھ نے وزیراعظم نریندرمودی سے جموں وکشمیر کی جموں وکشمیر کی مقامی سیاسی پارٹی حریت کے تینوں دھڑوں سمیت تمام تسلیم شدہ سیاسی جماعتوںکے نمائندوں کی میٹنگ طلب کرنے کا مطالبہ کیا جس سے ریاست میں امن بحالی اور لوگوں میں اعتماد پیدا کرنے کے لئے جلد حکمت عملی وضع کی جاسکے۔پنتھرس سربراہ نے اس سلسلہ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈروں سے ملاقات کی ہے۔انہوں نے صدر جمہوریہ رامناتھ کووند اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ  سے بھی ملاقات کرکے ان سے اس سلسلہ میں مداخلت کرنے اپیل کی ہے جس سے  جموں وکشمیر میں ہر طرح کے تشدد کا خاتمہ ہوسکے اور ریاست کے لوگوں خا ص طورپر نوجوانوں میں اعتماد بحال ہوسکے۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے ریاست میں امن بحالی کے لئے کچھ اقدامات بھی تجویز کئے ہیں جن میں تمام سیاسی جماعتوں کے لوگوں ،جنہیں ریاست کے اندر یا باہر سے حراست میں  لیا گیا ہے، رہا کیا جائے، سیاسی امور پر ریاست کے اندر اور باہر عدالتوں میں زیرالتوا تمام معاملات واپس لئے جائیں، سیاسی جماعتوں خاص طورپر جموں وکشمیر نیشنل پنتھر پارٹی کے کارکنوں کے خلاف جموں، ادھمپور، ریاسی ، ڈوڈہ اور دیگر مقامات پر درج معاملات فوری طورپر واپس لئے جائیں اور  لوگوں میں بے چینی کی وجہ اور بوجھ بن چکی  جموں وکشمیر کی موجودہ اسمبلی کو تحلیل کیا جائے جس کا گورنر کو جموں وکشمیر کے سیکشن 53 کے تحت اختیار حاصل ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ لوگ خاص طورپر نوجوان  ریاست میں امن اور عام آدمی کے مفاد میں مناسب اتھارٹی کے سامنے ہتھیاروں کے ساتھ خودسپردگی کردیں گے۔
 
 
 

دھونی بھارتی کرکٹ ٹیم کے ایک اہم ستون : عرفان پٹھان 

جموں // بھارتی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے مایہ ناز کرکٹر مہندر سنگھ دھونی کو بھارتی کرکٹ ٹیم کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ دھونی جس طرح کھلاڑی کی سرپرستی کرتے ہیں وہ قابل تعریف ہے۔ پٹھان نے یو این آئی کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں بتایا ’ماہی (ایم ایس دھونی) انڈین کرکٹ ٹیم کے ایک اہم ستون ہیں۔ جس طرح وہ میدان کے اندر اور میدان سے باہر ساتھی کھلاڑیوں کی سرپرستی کرتے ہیں، وہ قابل تعریف ہے‘۔ 2019 میں کھیلے جانے والے عالمی کپ کرکٹ کے لئے بھارتی ٹیم میں شامل کئے جانے کے امکانات پر عرفان پٹھان نے کہا ’میں کرکٹ کھیلتا رہوں گا اور اس سے لطف اندوز ہوتا رہوں گا۔ جب کھلاڑی مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس کے لئے راہیں کھلی ہوتی ہیں‘۔ پٹھان نے بھارتی کرکٹ ٹیم میں کھیلنے کا آغاز 2003 میں سورو گانگولی کی کپتانی میں کیا تھا۔ بھارتی کرکٹ میں اب تک کی بہترین کپتانی کے بارے میں پوچھے جانے پر عرفان نے کہا ’کپتانوں کا ایک دوسرے سے موازنہ کرنا بہت مشکل ہے۔ گانگولی نے بحیثیت کپتان جو خدمات انجام دیں، وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ایم ایس دھونی جنہوں نے ملک کو مسلسل جیت دلائی، کی خدمات بھی قابل تعریف ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’اس وقت بھی بھارتی ٹیم وراٹ کوہلی کی کپتانی میں اچھی کارکردگی کا مظاہر کررہی ہے‘۔ بتادیں کہ جموں وکشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن نے عرفان پٹھان کو آنے والے رانجی ٹرافی سیزن کے لئے ریاست کے کھلاڑیوں کا کوچ مقرر کیا ہے۔ یو این آئی 
 
 

گورنمنٹ ہائی سکول ستی بنی کی عمارت کی غیرمعیاری تعمیر،تحقیقاتی کمیٹی تشکیل 

 حافظ قریشی  
کٹھوعہ //کشمیرعظمیٰ کے 5 جولائی کے شمارے میں صفحہ نمبر 5پرشائع خبرزیرعنوان ’’ہائی سکول ستی بنی کی عمارت تعمیرکے 5ماہ کے بعدہی کھنڈرات میں تبدیل ‘‘ کاسنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے چیف ایجوکیشن افسر کٹھوعہ بشن سنگھ نے گورنمنٹ ہائی سکول بنی کی عمارت کی غیرمعیاری تعمیرکی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دی ہے جس کے ممبران میں اشوک کمارکھجوریہ پرنسپل ہائرسکینڈری سکول بنی، محمدایوب بٹ اور ترون پوری اے ای ایس ایس اے ،سی ای اودفترکٹھوعہ شامل ہیں۔یہ کمیٹی تحقیقات مکمل کرکے سی ای اوکٹھوعہ کوسونپے گی۔تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ ہائی سکول ستی کی عمارت تعمیر مکمل ہوئے  محض پانچ ماہ ہی گذرے ہیں لیکن عمارت کھنڈرات میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ذرائع کے مطابق  بنی قصبہ سے لگ بھگ 16 کلومیٹر دور ستی گاؤں میں قائم سکول میں طلباء کو عمارت کے کمروں کے اندر بارش کے دوران پانی جمع ہوجاتا ہے،متبادل انتظام نہ ہونے کے سبب طلبہ کواسی ہال میں بیٹھناپڑتاہے جس کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔اس بارے میں سکولی طلباء نے بتایاکہ اسکول میں نہ ہی بیت الخلا ہے،نہ ہی کھیل کود کیلئے کھیل کا میدان اور ناہی اسکول میں بیٹھنے کے لئے کمروں کی سہولت ہے کیونکہ کمروں میں پانی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسکول میں زیر تعلیم 350 کے قریب بچے ہیں اور اسکول کی عمارت صرف چھ کمروں پر مشتمل ہے جس میں ایک ہیڈ ماسٹر کاروم ہے  بچوں کیلئے صرف پانچ کمرے ہیں ۔انہوں نے مزیدبتایاکہ اسکول کی پرانی عمارت کو توڑ کر پانچ ماہ قبل دو کمروں والی عمارت بن کرتیارہوئی تھی تو تب اسکول کے بچوں میں نئی عمارت بننے کے سبب خوشی کی لہر دوڑ پڑی تھی اوروہ بے حد خوش تھے لیکن ان بچوں کی خوشی محض پانچ مہینوں کے اندرہی ختم ہوگئی ہے ،کیونکہ یہ عمارت محض پانچ مہینوں کے دوران ہی اتنی زیادہ خستہ حالت ہوگئی ہے کہ اس کانظارہ کرنے سے یہ سکول نہیں کھنڈرہی دکھائی دیتی ہے۔انہوں نے بتایاکہ سکول عمارت کے  کمروں کے اندر پانی ہی پانی جمع ہو جاتا ہے ، نہ جانے عمارت کو کس ڈھنگ سے تعمیر کیا گیا ہے ۔اس عمارت کے کمرے بارش کے دوران تالاب میں تبدیل ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے طلبا ء کومشکلات جھیلناپڑرہی ہیں۔اس بارے میں کشمیرعظمیٰ کو مقامی لوگوں نے متعلقہ محکمہ کے جے ای پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جے ای کی  غیر موجودگی میں عمارت تعمیر ہوئی ہے اوراس عمارت کی خستہ حالی کیلئے جے ای ذمہ دار ہے۔انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ جو بھی اس عمارت کی تعمیر کروانے میں قصور وار ہے اس کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے ۔انہوں نے کہاکہ عمارت اسقدر خراب ہو گئی ہے کہ عمارت کبھی بھی حادثہ کاسبب بن سکتی ہے اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوتاہے تو اس میں ہونے والے جانی یامالی نقصان کیلئے تعمیرکرنے والامحکمہ ہوگا۔انہوں نے مزیدکہاکہ سابقہ ریاستی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہی ثابت ہوئی ہے۔ انتخابات سے قبل حکمران بڑے بڑے دعوے کرتے تھے لیکنجوں ہی اقتدار ملا تو سب کے وعدے بھول گئے ۔انہوں نے گورنر سے اپیل کی کہ وہ ان علاقوں میں دورہ کرے تاکہ ان علاقوں میں بنیادی سہولیات کا ازالہ کیا جائے ۔
 
 
 

جموں و کشمیر میں سرکار بنانے کی خبریں بے بنیاد :بی جے پی 

ہم لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کی تیاریاں کر رہے ہیں:اروڑہ 

وویک ماتھر
جموں //ریاست جموں و کشمیر میں بی جے پی کی جانب سے سرکار بنانے کے کاوشوںکی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔ ان باتوں کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر اور ممبر قانون ساز کونسل رمیش اروڑہ نے کہا کہ ہم لوک سبھا اور قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کی تیاریاں کر رہے ہیں۔کشمیر اعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے اروڑہ نے کہا کہ’’ ہم جموں و کشمیر میں سرکار نہیں بنا رہے ہیں۔ہمارا پارٹی کیڈر ریاست بھر میں نریندر مودی سرکار کی پالسیاں پھیلانے میں مشغول ہے ،کیونکہ ہمارا نشانہ2019 پارلیمانی انتخابات کے بعد اسمبلی انتخاب ہے۔اسلئے ریاستی بی جے پی کی جانب سے سرکار بنانے کیلئے دل بدلو میں ملوث ہونے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ پارٹی کے بعض ممبران دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر انہیں مطلوبہ تعداد حاصل ہو تو وہ سرکار بنانے کیلئے آزاد ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں اس پر بحث نہیں کرنا چاہتا ہوں کہ کون کیا کہتا ہے لیکن ہمیں مرکز سے واضع ہدایات ہیں کہ پارٹی کو زمینی سطح پر مستحکم بنایا جائے۔اسلئے سرکار تشکیل دینے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔اروڑہ نے مزید کہا کہ پارٹی کوریاست بھر میں مستحکم بنانے کے لئے مختلف پروگرام منعقد کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بدھ کے روز ضلع ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا ،جہاں پر پارٹی کے سینئر لیڈروں نے بوتھ لیول ورکروں کو ’’ ایک بوتھ 9 یوتھ‘‘کی طریقہ کار لاگو کرنے کے لئے کہا گیا ۔بی جے پی ایم ایل سی نے مزید کہا کہ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ پارٹی کے ساتھ منسلک 6 دنوں  بشمول شیاما پرساد مکرجی کو تہواروں کے طور پر منایا جائے۔پارٹی کے یہ پروگرام زمینی سطح تک لیجانے کا عمل پارلیمانی انتخابات اور قانون ساز اسمبلی کے انتخاب منعقد ہونے تک جاری رہیں گے۔