تازہ ترین

کم سِن دلہنیں بےحمیت سماج!

رنج و غم کا یہ بیاباںاور اپنی بیٹیاں

28 جون 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

رضیہ فرید
پنج ستارہہوٹل کا خنک ایوان روشنیوں سے جگ مگ کر رہا تھا، بہ ظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ یہاں ’’برائیڈل شو‘‘ ہےلیکن ایسا نہیں تھا،ٹھنڈے ایوان میں کم سن بچیوں کی شادی کے موضوع پر ایک این جی او کی جانب سے ورک شاپ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اسٹیج کے ارد گرد کم سن بچیاں عروسی ملبوسات میں کھڑی تھیں۔ کسی کے ہاتھ میں گڑیا تھی اور کسی کے ہاتھ میں اسکول کے بستے ، کسی کے ماتھے پر احتجاج کی پٹی بندھی تھی ، تو کسی کے ہونٹوں پر ٹیپ۔ ’’یہ سب کیا ہے؟ ‘‘ٹھنڈے ماحول میں ایک گرم سوال گونجا، لیکن جواب ندارد ،یہ چہار سو خاموشی میں چھوٹا سا ماتم تھا، سوال بار بار دہرایا گیا، تو ایک ماں کی آواز ایسی ابھری کہ ہزاروں کوششوں کے بعد بھی کوئی اسے خاموش نہ کروا سکا۔سوال کرنے والے کو بھرپور جواب مل گیا تھا۔ دُکھیاری ماں کی زبان سے الفاظ نہیں نکلے تھے بلکہ تھری ناٹ تھری کی گولیاں تھیں، جو شرکاء کے دل میں اُترگئی تھیں، اس نے بآواز بلند کہا، میری نا سمجھ پھول جیسی بچی کی شادی اس کے باپ اور جرگے والوں نے زبردستی کردی، ہمارے گھر سے ایک ڈولی گئی اور دوسری ڈولی آئی، میری دس سالہ بچی کو ستّر سالہ مرد کے نکاح میں دے دیا گیا، اس کے بدلے میں میرا پچھتر سالہ شوہر نو سالہ بچی بیاہ لایا۔ کیا میں اس پر احتجاج نہیں کر سکتی؟پوچھا جا رہا ہے: یہ سب کیا ہے؟ اس ماں نے دوسری ماں کو حوصلہ دیا، اب وہ رو رو کر دُہائی دے رہی تھی کہ میری چار بیٹیاں خاندانی رسم و رواج کی بھینٹ چڑھتے ہوئے اس عمر میں بیاہ دی گئیں، جب ان کے کھیلنے کودنے کے دن تھے۔ وہ دس ،گیا رہ سال کی عمر میں کیسے ماں بن سکتی تھیں، چاروں زچگی کے دوران مر گئیں۔ اب ایک بچی میرے پاس ہے، ا س کا باپ اسے بھی جلد ہی بیا ہ دے گا۔ کون اسے روکے گا؟ 
 
منہ سے نکلے ہوئے الفاظ اور لہجےمختلف ہوسکتے ہیں،مگر آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو توایک جیسے ہوتے ہیں ،جوآنسو دکھی ماں کے چہرے کوبھگورہے تھے ،اب وہ آنسوورکشاپ کے شر کاء کے رخساروں سے بہہ رہے تھے ،گر چہ ہر بچے اور بچی کی شادی پر احتجاج کی آواز نہیں بلند ہوتی، لیکن اس وقت کم سن بچیوں کی شادی کے خلاف ایسی آوازیں گونجیں کہ دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر اُدھم مچ گیا۔دوسرے دن کے اخبارات میںشہ سرخیاں لگیں اور تو اور ورک شاپ کے اختتام کے چند گھنٹوں کے بعد سڑکوں پر بھی احتجاج شروع ہو گیا۔ ورک شاپ میںمعزز مہمان اپنی پیشانیوں پر فکر وتر ود کی لکیریں کھینچے ،لچھے دار باتوں سے حاضرین کو جوش بھی دلارہے تھے اور یقین بھی کہ ،اب قانون نافذ ہوچکا ہے ،کسی بچی کی شادی اُس کی اٹھا رہ سال کی عمر سے پہلے نہیں ہوگی ،کسی بچی کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی ۔سب باری باری بول رہے تھے ،یہ ورکشاپ کا ’’اوپن سیشن ‘‘ تھا ۔کسی کے پاس الفاظ کا ذخیرہ تھا اور کسی کے پاس بلند لہجے کا کمال ،کوئی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیق کےپتھر پھینک رہاتھا، لیکن ان کے چہرے بتا رہے تھے کہ صورت حال سے نا بلد ہیں، صرف تصویری سیشن اور نام کے ساتھ بے معانی بیان ،ماخبارات میں جگہ ملنے کا شوق انہیں یہاں لایا ہے۔نرم ٹھنڈے ماحول میں محفل کا پارہ گرم ہوا ہی تھا کہ روشنیاں گل کردی گئیں اورایک کم سن دلہن اسٹیج پر آئی ۔سرخ رنگ کا دوپٹہ ،اس پر بکھرے ہوئے بہت سے پھول اور ان پھولوں میں اُس کا چہرہ خزاں کے پھولوں کی طرح اُداس بھی تھا اور دل کش بھی ۔وہ اسٹیج پر لگی ہوئی کرسیوں میں سے ایک پر کچھ ایسے انداز میں بیٹھی کہ جیسے وہ خود سے کر سی پر بیٹھ بھی نہیں سکتی، اس کی خوف زدگی اور ہچکچاہٹ کے باوجود اس کے چہرے میں ایسی کوئی بات ضرور تھی ،جسے لفظوں میں بیان کرناآسان نہیں۔اس کی زندگی کی ایک تصویر شر کاء اور میڈیا کے سامنے پیش کی جارہی تھی ۔میزبان نےاُس کا ہاتھ پکڑ کر اسٹیج پر کھڑا کیا تو وہ بے اختیار ہنس دی ،یہی سین کیمرے کی آنکھ نے فوکس کر کے دکھایا تولگا ، ابھی تو اس کے دودھ کے والے دانت ٹوٹنے کے بعد نئے دانت بھی پوری طرح سے نہیں آئے تھے، شادی شدہ ہے لیکن وہ اس لفظ کے معنی تک نہیں جانتی ،البتہ وہ اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اپنے باپ کی جہالت اور لالچ کے باعث شادی کے نام پر ہونے والے سودے کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی ۔ورکشاپ کے شر کاء کو ایک این جی اوکی نمائندہ خاتون بتا رہی تھی ،اس معصوم بچی کا نام چندا ہے، یہ رخصتی کے وقت ڈولی میں بیٹھنے کےبہ جائے اتنی تیزی سے بھاگی کہ دیکھنے والے دیکھتے رہ گئے۔ شادی ہال کے قریب اس کی نانی کا گھر تھا،وہ وہاں چلی گئی نانی ،اسے لے کرفوری مددگار انٹرنیشنل کے دفتر پہنچ گئی اور ان کو صورت حال بتا کر بچی کے تحفظ کے لیے قانونی مدد مانگی، جس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچی کو شیلٹر ہوم بھیج دیا۔یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت ہوا تھا۔ یوں یہ بچی اپنے باپ کی جہالت اور لالچ کی نذر ہونے سے بچ گئی۔ چندا شیلٹر ہوم کی نگراں کے ساتھ اس ورک شاپ میں آئی تھی ۔اس کے ہاتھ میں مائیک دیا ، تو اس نے پُر اعتماد لہجے میں بتایا : ’’میں روزانہ بچوں کی شادی کے خلاف ایک تصویر بناتی ہوں، جلد ہی میری تصاویر کی نمائش اسکول میں ہو گی، جہاں میں پانچویں جماعت میں پڑھتی ہوں۔ یہ میرا کم سنی کی شادی کے خلاف احتجاج کا ایک رنگ ہے، جس میں، نانی اور خالہ میرا ساتھ دے رہی ہیں۔ ‘‘
 
ورک شاپ میں بچیاں اپنا دفاع خود کر رہی تھیں،ان کی عمریں آٹھ سے بارہ سال تک تھیں۔ ہر بچے کی طرح یہ بھی آنے والے لمحوں کے عذاب اور ثواب و گناہ سے ناواقف تھیں۔ وہ اس وقت دلہن بنیں ، جب ان کی دنیا کھلونوں کے گرد گھومتی تھی۔ بابا بابا بلیک شیپ اور ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل اسٹار کی متحرک نظمیں ان کے لبوں تک آکر مچل جاتی تھیں۔ وہ بھی ہر بچے کی طرح کھیل کھیل میں کبھی اسکول ٹیچر بنتیں، تو کبھی دوستوں کے ساتھ گڈے گڑیا کی شادی رچاتیں، لیکن اُنہیں یہ نہیں پتا تھا کہ ایک دن ان کے ہاتھوں سے گڑیاں چھین لی جائیں گی۔ ورک شاپ میں کم سن دلہنیں پُر اعتماد لہجے میں کہہ رہی تھیں کہ، ہمارے بڑوں نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا، لیکن اب ہم اپنے ساتھیوں کے لیے آگے بڑھیں گے۔ بچیوںکی شادیوں کےخلاف اس وقت تک احتجاج کرتے رہیں گے، جب تک یہ سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔‘‘
 
انوکھی مگر موثر ورک شاپ ختم ہوئی، توہال میں خاموشی تھی۔ لیکن شرکاء اپنی کرسیوں پر ایسے جم کر بیٹھے تھے، جیسے پروگرام کا آغاز اب ہوگا۔ بچیوں کی فر یادیں محفل میں پرانے اخبار کی طرح اڑتی رہیں۔ملی ، جلی آوازیں احتجاج کا اظہار کر تی رہیں۔ کم سن بچیوں کی شادیوں کے خلاف کل بھی احتجاج ہوا، آج بھی ہو رہا ہے۔ لیکن جب بھی ہوا، وقتی ہوا، احتجاج کے بعدشور تھم جاتااور سب بھول جاتے کہ کل کس کی بچی بیاہی گئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس بھول کی دھول جب تک سسٹم کی آنکھوں پر پڑی رہے گی، تب تک معصوم بچیاں بیاہی جاتی رہیں گی، کبھی ادلے بدلے میں ، کبھی ونی اور اور سورہ جیسی فرسودہ رسومات ، کبھی جہالت، لالچ، جنسی ہوس اور بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہوئے ان کے نکاح ایسے شخص کے ساتھ ہوتے رہیں گے،جو عمر میں ان سے کافی بڑے ہوں گے۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ان بچیوں سے بے فکری کا زمانہ قبل از وقت چھین لیا جاتا ہے۔ صبح و شام ان کے اپنے نہیں رہتے ۔ کمزور جسم سخت کاموں کا بوجھ نہیں جھیل پاتا، یوں شادی جیسا حسین تصور ان کے لیے ایک بھیانک تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ایسا صرف پاکستان میں نہیں ،مشرق سے مغرب تک ایسا ہی ہو رہا ہے، دنیا بھر میں ہر تین سیکنڈ بعد اٹھارہ برس سے کم عمر لڑکی جبراً بیاہ دی جاتی ہے۔ لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ اب بیش تر ممالک میں بچیاں اپنی شادیوں کے خلاف ’’از خود ایکشن‘‘ لے رہی ہیں۔ غالباً یہ حوصلہ ’’یمن کی نو سالہ نجود علی‘‘ نے انہیںدیا، جو دنیا بھر میں ہمت و حوصلے کی مثال بن چکی ہے۔نجود 2010سے یمن میں کم عمری کی شادی کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔ اُس نے مہم کیوں چلائی؟ اس بارے میں اس نے یمن کے ایک اخبار اور ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا،’’میری شادی مارچ 2008میں اُس وقت ہوئی، جب میں نو سال کی تھی۔ شادی کے ایک ماہ بعد میں گھر سے بھاگ کر عدالت چلی گئی، یہ راہ مجھے میری خالہ نے سوجھائی تھی ۔ شوہر اور سسرال والوں کے ظلم سے میں تنگ آگئی تھی۔ مجھے پڑھنے کا شوق تھا، باپ نے کہا، لڑکیوں کے گھر جتنے جلد بس جائیں، اتنا ہی اچھا ہوتا ہے، لیکن میرے ساتھ سسرال میں کچھ اچھا نہ ہوا۔ مجھے نوکرانی سے بھی بدتر درجہ دیا گیا، نتیجہ یہ نکلا کہ میں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور سسرال کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کردیا۔ جب میری شادی ہوئی تو مجھے شادی، طلاق، خلع کے بارے میں علم نہیں تھا، لیکن دس سال کی عمر میں ان الفاظ کے معنی پتا چل گئے۔ بچیوں کی کم عمری میں شادی اکثر والدین اپنے سر سے بوجھ کم کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی جیب گرم کرنے کے لیےبھی کرتے ہیں۔ میرے اس اقدام سے میرے ملک میںاب کوئی کم عمر بچیوں کی شادی نہیں کرسکےگا ۔ ایسا میری جاری مہم اور بغاوت سے ممکن ہوا۔‘‘
 
نجود علی کی شادی تو خاموشی سے ہو گئی، لیکن ’’خلع‘‘ یمن سمیت دنیا بھر میں ’’بریکنگ نیوز‘‘ بن گئی، کم و بیش ہر چینل نے اسے نشر کیا اور ہر اخبار کی سرخی بنی۔ نو برس کی نجود کی شادی 30سالہ فیض علی تھامر سے مارچ 2008میں ہوئی، لیکن صرف ایک ماہ بعد 2اپریل 2008کی صبح وہ شوہر کے گھر سے جاتے ہی بغیر کسی کو بتائے عدالت چلی گئی۔ وہ عدالت کےا حاطے میں کھڑے ہر آنے جانے والے سے باآواز بلند کہتی، مجھے ’’جج‘‘ سے ملنا ہے۔ بالآخر جج مہمد ال غدا کے کانوں میں اس کی صدا پہنچ گئی۔ وہ کمرہ عدالت سے باہر آئے اور نجود کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا، بیٹی کیا بات ہے؟ اس نے روتے ہوئے کہا،کوئی میری بات نہیں سن رہا، مجھے اپنے شوہر سے علیحدگی چاہیے۔ یہ سن کر جج نے حیرت سےاسے دیکھا، بعد ازاں جج نے نجود کو عارضی پناہ فراہم کرتے ہوئے ایک خاتون وکیل شاوا نصیر سے کہا کہ بچی کی بات سنو۔ آشاوا انسانی حقوق کی علم بردار اور فیملی مقدمات کو دیکھتی ہے۔ نجود کی بات سننے کے بعد اس نے نجود کی طرف سے خلع کی درخواست دائر کر دی، جلد مقدمے کی کارروائی شروع ہو گئی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتےاس مقدمے نے نہ صرف ملک گیر شہرت حاصل کرلی، بلکہ عالمی میڈیا کو بھی چونکا دیا۔ یہ صرف یمن نہیں، بلکہ دنیا بھر میں پہلی بار کوئی 9سالہ بچی اپنے حقوق کی جنگ لڑنے میدان میں اُتری تھی۔ قدامت پرست پریس بچی کے پیچھے پڑ گیا تھا۔ اس کا باپ بھی بچی کی عمر زیادہ بتا کر کیس کا رخ موڑنا چاہتا تھا۔ عدالت نے شوہر اور باپ سے بھی باز پرس کی، بہرحال ہزار مشکلات کے باوجود صرف چند سماعتوں کے بعد نجود مقدمہ جیت کر دنیا کی سب سے کم عمر خلع یافتہ بن گئی۔نجود علی نے میڈیا کو بتایا ’’میں وکیل بن کر بچوں کے حقوق کی جنگ لڑنا چاہتی ہوںا ور دنیا بھر کی ان بچیوں کے لیے جو کم عمری میں بیاہی گئی ہیں، ان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کروں گی۔‘‘ایک طرف نجود علی مہم چلا رہی ہے، دوسری طرف برطانیہ میں مقیم بھارت کی جسوندر سنگھیڑا ، کم سنی کی شادی کے خلاف آواز بلند کررہی ہے، ایسا وہ اپنے تجربے کی روشنی میںکیا۔جسوندر ، آٹھ سال کی تھی جب والدین نے اس کا رشتہ طے کر دیا تھا، دس سال کی ہوئی تو اسے شادی کا مژدہ سنادیا گیا، لیکن اس نے رشتہ قبول کرنے سے انکار کردیا اور گھر سے فرار ہوگئی، پھر اس نے جو کچھ کیا، اس نے برطانیہ میں مقیم بھارتی شہریوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔جسوندر سنگھیڑا کے والدین پچاس کی دہائی میں بھارت سے برطانیہ منتقل ہوئےتھے۔یہ سکھ خاندان برطانیہ کے مشرقی اور صنعتی شہر ’’ڈربی‘‘ میں جاکرمقیم ہوا۔ جسوندر نے زندگی کی پہلی سانس بھی اسی سرزمین پرلی۔
 
(بقیہ اگلے گوشہ خواتین میں ملاحظہ فرمائیں)