تازہ ترین

معاملہ 35اے کا: 27اگست تک سماعت ملتوی

۔ 60برس پرانے معاملے کا فیصلہ ایک دن میں نہیں کیا جاسکتا

7 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک

 کیس  5رکنی آئینی بنچ کے سپرد کرنے کے امکان پر غور ہوگا :چیف جسٹس

 
نئی دہلی//سپریم کورٹ نے سوموار کو جموں کشمیر سے متعلق آئین ہند کی شق 35 اے کی سماعت 27 اگست تک کیلئے ملتوی کر دی۔سپریم کورٹ میں 35 اے کی آئینی و قانونی حیثیت چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت سوموارکوصبح ٹھیک11بجے شروع ہوئی ۔جسٹس ڈی وائی چندرچوڑکی عدم موجودگی میں چیف جسٹس ،جسٹس دیپک مشرااورجسٹس اے ایم کھانولکرپرمشتمل دونفری بینچ نے کیس کی سماعت کی اور ریمارکس دیئے کہ بینچ میں شامل ایک جج کی عدم موجودگی میں کیس کی سماعت نہیں ہوسکتی لہٰذا کیس کو 27اگست تک کیلئے ملتوی کیا جاتا ہے۔تاہم آئین کی شق کو چیلنج کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کے وکیل نے استدعا کی کہ کیس کو سنا جائے تاہم بینچ نے کہا کہ اس معاملہ کو آئینی بنچ کو سونپنے کا تعین کرنے کیلئے تین رکنی بنچ تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔مرکز اور جموں و کشمیر حکومت نے ریاست میں ہونے والے پنچایتی انتخابات کے پیش نظر کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی کورٹ سے درخواست کی۔ریاستی سرکارکے قانونی صلاح کاروں نے معاملے کی سماعت دسمبر تک ملتوی کرنے پرزوردیالیکن دونفری بینچ نے اس دلیل کونامنظورکرتے ہوئے کہاکہ کسی ایسے معاملے جودہائیوں پُراناہو،کوصرف ایک دن کی سماعت کے بعدحل نہیں کیاجاسکتا۔چیف جسٹس کاکہناتھاکہ شایدجموں وکشمیرکے قانونی صلاح کاروں کوآرٹیکل35-Aکے بارے کچھ زیادہ نہیں کہناہے،اسلئے سپریم کورٹ آج یہاں اٹارنی جنرل آف انڈیاکی بات سنے گاتاہم ریاست کے قانونی صلاح کاروں کی کونسل ایڈیشنل سالسٹر جنرل تشہارمہتااورراکیش دویدی نے اس پراعتراض کرتے ہوئے کہاکہ ریاست جموں وکشمیرکی سرکارکواس حساس معاملے پرکافی کچھ کہناہے۔ایڈیشنل سولیسٹرجنرل  تشہارمہتاعدالت عظمیٰ میں جموں وکشمیرسرکارکی جانب سے پیش ہوئے اوراس معاملے کو دسمبرتک یہ کہتے ہوئے ملتوی رکھنے کی دلیل دی کہ ریاست میںبلدیاتی اورپنچایتی انتخابات ہونے والے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اس کیس کے لئے تین رکنی بنچ تشکیل دیں گے، جو27 اگست کو یہ طے کرے گی کہ اس معاملہ کو آئینی بنچ کے پاس بھیجا جائے یا نہیں اور اگر بھیجا جائے تو اس کے کن کن آئینی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہاکہ آرٹیکل35Aکوملکی آئین یعنی آئین ہندمیں صرف ایک دن پہلے شامل نہیں کیاگیابلکہ یہ 60 سال پہلے ہواہے توہم اس دیرینہ معاملے کوصرف ایک د ن کے اندرسن نہیں سکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس معاملے کی باضابطہ سماعت ہوگی اورطرفین کے قانونی صلاح کاروں کے دلائل اورعذرات وجوابی عذرات سنے جائیں گے ۔سپریم کورٹ کے دورکنی بینچ کاکہناتھاکہ ہمیں دیکھناہوگاکہ کیاآرٹیکل35Aملکی آئینکے بنیادی ڈھانچے کیخلاف ہے کہ نہیں ۔خیال رہے آرٹیکل35-Aکو1954میں ایک صدارتی حکمنامہ کے ذریعے آئین ہندمیں شامل کیاگیاجسکی رئوسے جموں وکشمیرکے شہریوں یعنی پشتینی باشندوں کوخصوصی حقوق اورمراعات سے سرفرازکیاگیا ہے۔آرٹیکل 35-Aکے تحت ریاستی عوام کواپنی زمین وجائیدادکاکلی مالک بنادیاگیا۔جبکہ اس دفعہ کے تحت باقی ریاستوں کے شہریوں کوجموں و کشمیر میں زمینیں خریدنے، سرکاری نوکریاں حاصل کرنے، ووٹ ڈالنے اور دوسری سرکاری مراعات کا قانونی حق نہیں ہے۔سوموارکوجب اس کیس کی سماعت شروع ہوئی توطرفین کے وکلاء نے اپنے اپنے دلائل پیش کئے تاہم چیف جسٹس مجسٹس دیپک مشرانے کہاکہ  اس معاملہ پر تین ججوں کو سماعت کرنی تھی۔ ان میں سے ایک جج آج نہیں آئے ہیں، اس لئے آج اس پر سماعت نہیں کی جا سکتی ۔انہوں نے کہاکہ آرٹیکل35-Aکوزائداز60برس قبل آئین ہندمیں شامل کیاگیاہے،اوریہ کہ وکلاء کی جانب سے ہڑتال کی بات کوبنیادبناکراس معاملے کی سماعت یاشنوائی میں تیزی نہیں لائی جاسکتی ہے۔
 
 

عبوری راحت:محبوبہ مفتی

نیوز ڈیسک
 
سرینگر// پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 35 اے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت27 اگست تک ملتوی کرنے سے اہلیان ریاست کو عبوری راحت نصیب ہوئی ہے۔سماجی رابطہ گاہ ٹویٹر پر ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا ’اگرچہ دفعہ 35 اے پر سماعت کو ملتوی کرنا کوئی حل نہیں ہے، تاہم اس سے اہلیان جموں وکشمیر کو عبوری راحت نصیب ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ دفعہ35Aکولیکرپیداشدہ غیریقینی صورتحال اوراس حساس معاملہ پر تعطل جاری رہنے سے اہلیان ریاست میں بے چینی اور گھبراہٹ کی لہر دوڑی ہوئی ہے۔
 
 

 عوام کا عزم و اتحاد واضح پیغام: ساگر

نیوز ڈیسک
 
سرینگر// نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہا ہے کہ جس طرح سے ریاست کے تینوں خطوں کے عوام نے دفعہ35اے کے دفاع کیلئے اپنے نظریات بالائے طاق رکھ اتحاد و اتفاق اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا وہ نئی دلی کیلئے چشم کُشا ہونا چاہئے اور مرکزی حکومت کو فوری طور پر عدالت عظمیٰ میں اٹارنی جنرل کے ذریعے حلف نامہ دائر کرکے اس کیس کو خارج کروانا چاہئے۔اُن کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے ساتھ ہمارے رشتے ایک بنیاد پر ہیں، جس کا واضح تحریری ثبوت دفعہ 370 کے ساتھ ساتھ دہلی اگریمنٹ اور 1952کی پوزیشن ہے اور یہی ریاست اور مرکز کے رشتوں کی بنیاد ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ رشتے تب ہی پائیدار اور ممکن ہیں جبکہ ریاست کے لوگوں کی اندرونی خودمختاری (اٹانومی) کو بحال کیا جائے اور ریاست کی خصوصی پوزیشن کیخلاف کی جارہی سازشوں کا بھی ہمیشہ کیلئے خاتمہ کیا جائے گا۔