تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

13 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(   صدرمفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیراحمد قاسمی

حج کی بنیادی شرائط

س:- حاجیوں کی سفرِمحمودکے روانگی کی تیاریاں جاری  ہے ۔ ان حالات میں ذہن میں آتاہے کہ کہیںہم پر بھی حج فرض تو نہیں ہے ۔ 
برائے مہربانی ہم کو بتایا جائے کہ کن کن شرائط کے پائے جانے پر حج فرض ہو جاتاہے اور اگر حج فرض ہوگیا ہو لیکن کوئی شخص نہ کرسکا تو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟
محمد شعبان بٹ 
ج:- جس مسلمان کے پاس اتنی مالی وسعت ہوکہ وہ حج کے ایام میں مکہ مکرمہ حاضر ہو سکے۔ اور واپسی کے مصارف بھی ہوں اور ان ایام میں وہ اپنے گھر والوںکے ضروری خرچوںکا انتظام بھی کرسکے تو ایسے مسلمان پر حج فرض ہو جاتاہے ۔ اور جب یہ فرض ہوجاتاہے تو اس کی ادائیگی میںتاخیر کرنا بھی جرم ہے اور فرض ہو جانے کے بعد اگر کوئی شخص ادا نہ کرے تو ایسا شخص فاسق ہوگیا ۔ لیکن اس پر لازم ہے کہ وہ اس فریضہ کے ادا کرنے کی وصیت کرے ۔ اور اگر اس نے وصیت کردی تو وارثوں پر لازم ہے کہ وہ اس کی طرف سے حج بدل کر ائیں ۔ بشرطیکہ اس کے ترکۂ وراثت میں ایک تہائی مال مصارف حج کے لئے کافی ہو جائے۔ حدیث کا مفہوم یوں ہے ۔ جس شخص کے پاس سفر حج کے لئے مالی وسعت تھی پھربھی حج نہ کیا تو حضرت نبی علیہ السلام نے فرمایاکہ مجھے کوئی پرواہ نہیں وہ یہودی مرے یا نصرانی مرے ۔ فضائل حج از شیخ الحدیث مولانامحمد زکریاؒ۔
 

طواف کرنے کا طریقہ

س:-برائے مہربانی طواف کا طریقہ بتائیے اور اس میں کن باتوں سے بچنا چاہئے اور کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہئے ، وہ سب تحریر کریں ۔ 
محمد صادق آخون
ج:-کعبۃ اللہ کے چاروں طرف سات چکر لگانے کو طواف کہتے ہیں ۔ ایک چکر ایک شوط کہلاتا ہے۔ جب سات چکر پورے ہوجائیں تو یہ ایک طواف بنتاہے جب طواف کرنے کا ارادہ ہو تو حجر اسود کی سیدھ میں فرش میں نظر آنے والی سیاہ پٹی کے پاس کھڑے ہوں ۔ پھر طواف کرنے کی نیت یوں کریں ۔ یااللہ میں طواف کرنے کی نیت کرتاہوں ۔ یہ قبول فرمائیے۔ پھر اس سیاہ پٹی پر آجائے اور حجر اسود کی طرف رُخ کرکے کھڑے ہو جائیں ۔ دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائیے ۔ بسم اللہ اللہ اکبر وللہ الحمد پڑھئے ۔ پھر دونوں ہاتھ چھوڑ دیجئے ، اب دوبارہ دونوں ہاتھ سینے تک اٹھائیے ۔ ہتھیلیاں حجر اسود کی طرف کرکے ان دونوں ہتھیلیوں کو آواز نکالے بغیر بوسہ دیجئے ۔اب دائیں طرف مڑکر چلنا شروع کردیں اور کوئی بھی دعا پڑھتے رہیں ۔ رُکن یمانی پر صرف ہاتھ سے کونے کو چھوسکیں تو کافی ہے ۔ اس سے آگے چلیں تو یہ پڑھیں ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار یا عزیز یا غفار برحمتک یا ارحم الراحمین ۔
اب حجراسود کے سامنے کی پٹی پر پہنچیں تو یہ ایک شوط (چکر) ہوگیا ۔ اب اس پٹی پر آکر صرف اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے بائیں کندھے کی طرف سے حجر اسود کی طرف کریں اور پھر استیلام کریں ۔ یاد رہے اب سینہ حجر اسود کی طرف نہیں ہونا چاہئے ، اسی طرح سات چکر پورے کریں اور آخر میں پھر حجر اسود کا استیلام کریں ۔ پھر دورکعت نماز کسی بھی جگہ اداکریں البتہ یہ نماز مکروہ اوقات مثلاً بعد فجر اور بعد عصر میں نہ پڑھیں ۔مقام ابراہیم پر بھیڑ نہ ہو تو وہاں پر پڑھنا بہت ہی افضل ہے ۔ طواف کے دوران جو دعائیں چاہیں مانگ سکتے ہیں ۔ ہاتھ میں کتاب لے کر دعائیں پڑھیں تواس کی بھی اجازت ہے۔ مگر زبانی خشوع وخضوع اور اللہ جل شانہٗ کے پاک گھر میں اسی کی طرف دل ودماغ کی پوری توجہات کے ساتھ متوجہ ہوکر دعائیں کرنا زیادہ بہترہے۔
اگر کسی کوکتاب میں پڑھنے سے خشوع و خضوع زیادہ ہو تو اسکے لئے کتاب سے پڑھنا بہترہے ۔ نیز تلاوت ، درود شریف ، ذکراذکار، وظائف ، استغفار جو بھی چاہیں پڑھ سکتے ہیں اور اگر مصلحتاً خاموش رہیں تو بھی طواف ادا ہو جائے گا۔ لیکن پسندیدہ نہیں۔
طواف کے دوران نہ تو کعبہ شریف کی طرف سینہ ہو۔ نہ نگاہوں کو اس کی طرف اٹھایا جائے ۔ نہ کنکھیوں سے کعبہ کو دیکھا جائے ۔ نہ کعبہ کی طرف پیٹھ کی جائے ، طواف کے دوران کسی کو دھکا دینا یا خواتین کے کپڑوں یا جسم سے مَس کرنے سے پوری طرح بچنے کی کوشش کرنا لازم ہے ۔ طواف کے دوران اتنی آواز سے دعائیں مانگنا یا رونا کہ دوسرے طواف کرنے والوں کو حرج ہو بہتر نہیں ۔ پورے طواف میں با وضو رہنا شرط ہے ۔ اگر وضو ٹوٹ جائے تو تجدید وضو کرنا لازم ہے ۔ جماعت کی نمازکھڑی ہو جائے تو طواف روک دینا لازم ہے۔ طواف کے دوران محرم عورت کا ہاتھ پکڑ کر رکھا جائے یا محرم عورت محرم مرد کا کپڑا یا کندھا یا انگلی پکڑ کر طواف کرے تاکہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ 
اگر طواف کرنے والا حالت احرام میں ہے تو پھر اسے طواف کے ابتدائی تین چکروں میں رمل کرنا بھی مسنون ہے یعنی کندھے کو سخت کرکے اکڑ کر چلنا اور اسی طرح اسے اضطباع بھی کرناہوگا  یعنی احرام کی چادر دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈالنا ۔
طواف کیلئے کوئی وقت مقرر نہیں لہٰذا ہر وقت طواف کیا جاسکتاہے ۔ ہاں البتہ جماعت کی نماز کھڑی ہو جائے تو پھر طواف مکروہ ہے لہٰذا اس وقت طواف نہ کیا جائے ۔ اس لئے کہ نمازیوںکے آگے سے گزرنے کا گناہ ہوگا۔
دورانِ طواف گیس کی شکایت 
س:-بعض لوگوں کو گیس کی بیماری ہوتی ہے اور وضو کوبرقرار رکھنا مشکل ہوتاہے ۔ حج کرنے کے دوران سنا ہے کہ طواف میں وضو کرنا ضروری ہے ۔ تو وضو کیسے برقرار رہے گا؟اس کے لئے حل کیا ہے ؟
غلام حسن خان 
ج:-جب کسی شخص کو وضوتوڑنے والا کوئی عذرمثلاً گیس وغیرہ کثرت سے لاحق ہو جائے اوروہ وضو کرکے نماز کے اختتام تک اپنا وضو برقرار نہ رکھ پائے توایسا شخص شریعت کی اصطلاح میں معذور قرار پاتاہے ۔ ایسے شخص کو شرعاً اجازت ہے کہ وہ نماز کا وقت شروع ہونے پر وضو کرے ۔ اور نماز شروع کردے ۔ یہ وضو اس نماز کے وقت اختتام تک برقرار سمجھا جائے گا ۔ چاہے اس دوران وہ عذر بار بار کیوں نہ پیش آجائے ۔ مثلاًغروب آفتاب کے بعد وضو کیا گیا تو یہ وضو شروع عشاء تک برقرار دیا جائے گا۔ پھر شروع عشاء پر اسے عشاء کے لئے دوسرا وضو کرنا ہوگا ۔ بس اسی طر ح یہ شخص طواف کے لئے وضو کرے ۔ اب طواف کے ختم تک یہ باوضو سمجھا جائے گا ۔ چاہے اس دوران اسے وضو توڑنے والا وہ عذر بار بار کیوں نہ لاحق ہو جائے ۔ کیونکہ یہ شخص شریعت کی نظر میں معذورہے ۔
 

احرام کھولنے پر بال کاٹنا ضروری

س:- جب احرام کھولنے کا وقت آتاہے تو سرکے بال صاف کرنے ضروری ہیں ۔ کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ سرکے کسی ایک طرف چند بال قینچی سے کاٹ دیتے ہیں اور بس ۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایسا کرنا شریعت میں جائز ہے یا نہیں تو انہوں نے کہا کہ ہاں ایسا کرنا جائزہے اور ساتھ ہی وجہ یہ بتائی کہ ہم نے مکہ شریف میں بہت سے لوگوں کو یہی کرتے دیکھاہے۔ آپ شرعی طور پر صاف حکم لکھیں ۔
محمد سرفراز …سرینگر
ج:-احرام چاہے عمرہ کا ہو یا حج کا ہو ، اس میں سرکے بال صاف کرنا بھی ایک لازمی حکم ہے ۔ اس کوحلق کہتے ہیں ۔ اس حکم کی بناء پر بال مونڈھ دینے چاہئیں تو یہ افضل ہے ۔ اگر بال نہ مونڈھے جائیں بلکہ بالوں کی صرف کٹائی کی جائے تو کٹائی میں ایک چوتھائی حصہ بال کٹ جاناچاہئیں ۔یعنی اتنی کٹائی ہو کہ پورے سر کے ہر بال سے چوتھائی حصہ کٹ جائے ۔ یہ ضروری ہے ۔ اس کوقصر کہتے ہیں جو لوگ سر کے کسی کنارے سے چند بال کاٹ لیں، ان کے دیکھا دیکھی ہم کو ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہئے، اس لئے احرام کھولنے کے شرعی طورپر حلق کرنا ضروری ہے۔ اس کے بعد ہی احرام کی پابندیاں ختم ہونگی ۔ اور صرف چند بال کاٹ دینے سے ہم پر احرام کی وجہ سے لگی ہوئی پابندیاں ختم نہ ہونگی ۔ مثلاشوہر پر زوجہ حلال نہ ہوگی ۔ سلا ہوا کپڑا پہننا بھی جائز نہ ہوگا ، وغیرہ۔لہٰذاحلق یا قصر کرنا ضروری ہے۔
 

شیطان پر کنکریاں مارنے کی اہمیت

س:- حج میں شیطان کو پتھرمارنے ہوتے ہیں ، یہ کب مارنے ہوتے ہیں ۔ اس کی تفصیل بتائیں، یہ کیوں مارنے ہوتے ہیں ، اسکی وجہ بتائیے۔ اور چونکہ بہت زیادہ بھیڑ ہوتی ہے بلکہ لوگ کچلے جاتے ہیں ۔
اس لئے اگر اپنی طرف سے کسی اور شخص کویہ ذمہ داری رکھی جائے کہ وہ اپنی کنکریوں کے ساتھ ہماری طرف سے بھی کنکریاں مار کر آئے تو کیا شریعت میں اسکی اجازت ہے یا نہیں ہم نے سنا کچھ لوگ ایسا ہی کرتے ہیں ۔ 
حاجی عبدالاحد …بانڈی پورہ
ج:-حج کا ایک حکم جمرات میں کنکرمارنا بھی ہے۔کنکر مارنے کو شریعت میں رمی کرنا کہتے ہیں ۔ رمی تین دن تو لازم ہے۔ دسویں تاریخ کی صبح کو صرف ایک جمرہ پر سات کنکرپھینکنے کا حکم ہے وہ جمرہ عقبہ کہلاتاہے۔ گیارہ او ربارہ تاریخ کو تینوں جمرات پر سات سات کنکرمارنے ہوتے ہیں ۔ دسویں تاریخ کو صبح صادق سے غروب آفتاب تک جس وقت چاہیں رمی کرسکتے ہیں اور اگر بھیڑکی وجہ سے رات کو کسی بھی وقت رمی کی جائے تو یہ بھی درست ہوگی ۔ گیارہ اور بارہ تاریخ کو زوال کے بعد اگلی صبح تک جس وقت چاہیں رمی کرسکتے ہیں ۔ 
رمی خود کرنا واجب ہے ، جو شخص دوسرے سے رمی کرائے اس پر ایک قربانی کرنا بطور جرمانہ کے لازم ہے۔ جو لوگ بھیڑ کا عذر کرتے ہیں ان کے لئے شریعت نے رات کو اجازت دے رکھی ہے ۔ پھر یہ عذر کیسے درست ہوگا ۔ رات کو دیر سے رمی کی جائے تو درست ہے۔ لیکن دوسرے سے کرائی جائے تو یہ جرم ہے اوردم یعنی قربانی کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ رمی حضرت ابراہیم ؑ کے شیطان کو کنکرمارنے کے عظیم عمل کی یاد گار ہے
 

حجراسود کو بوسہ دینا:  ضعیف لوگ کیا کریں؟

س:- حجراسود کو بوسہ دینے میں بوڑھے اور ضعیف لوگوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ بوسہ دینا ضروری ہے ۔ اگر بھیڑ کے خطرے کی وجہ سے کوئی بوسہ نہ دے سکے تو اس کے لئے شریعت کا حکم کیاہے ، کیا عورت کو مردوں کے بیچ میں جاکر بوسہ دینے کی اجازت ہے ؟
ایک مسلمان خاتون…سرینگر
ج:-حجراسود کو بوسہ دینااستیلام کہلاتاہے ۔ یہ سنت ہے ۔ بلا کسی عذرکے اس کو چھوڑنا ترکِ سنت قرار پائے گا۔ اگر کسی نے یہ استیلام نہ کیا تو بھی اس کا حج اور عمرہ دونوں درست ہیں ، ایسی بھیڑ میں کہ جس میں عورت کا جسم اجنبی مردوں سے ٹکراجائے ، استیلام کے لئے جانا ہی جائزنہیں ہے اور اگر کوئی معمر ہو اور حجر اسود کے قرب بھی جانے کی ہمت نہ کرے یا وہاں لگنے والے دھکے سے گرنے یا چوٹ لگنے کا خطرہ ہو ۔اس لئے اس نے حجر اسود کا استیلام نہ کیا تو بھی حج درست ہے اور کوئی گناہ نہ ہوگا۔یاد رہے کہ حجر اسود کے مقابل ہوکر دور سے اگر دونوں ہتھیلیاں حجر اسودکی طرف کرنے کے بعد ان ہتھیلیوں کو ہی چوم لیا جائے تو حجر اسود کا استیلام قرار پائے گا ۔ اسلئے مایوس ہونے کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔   
 

غیر شادی شدہ بیٹیوں کی موجودگی میں حج

س:-اگر کسی کے گھر میں جوان بیٹیاں ہوں ۔ اُن کی شادیوں کا مسئلہ ہو اور آپ جانتے ہیں کہ آج کل شادیوں پر کتنا روپیہ خرچ ہوتا ہے۔
اب اگر کوئی شخص اپنے موجود سرمایہ کو حج پر لگائے تو اِن بیٹیوں کی شادیاں کرنامشکل ہو جائے گا اور اگر شادیوں کے لئے سرمایہ بچائے توحج نہیں کرپاتا۔ بہت سے لوگوں کا مسئلہ یہی ہے ، ایسی حالت میں شریعت کا کیا حکم ہے ۔
سیف الدین گنائی ……سرینگر
ج:-شادیوں پر آنے والے طویل اور کمر توڑ خرچے صرف غیر شرعی ، جاہلانہ رسمیں ہیں ۔ جب یہ رسمیں شرعی طور پر قابل ترک ہیں تو ان رسموں کو پورا کرنے کے لئے شریعت کا مال خرچ کرنے کا جواز کیسے ہوسکتاہے ۔ اسلئے وہ مسلمان جس کے اتنا سرمایہ ہے کہ وہ حج کرسکتاہے ، اس پر شرعاً لازم ہے کہ وہ حج کرے اور اگر وہ یہ سرمایہ بچائے اور حج کے بجائے ان غیر شرعی رسوم پر خرچ کرے تو یہ ترک فرض کا جرم ہوگا ، غیر شرعی رسوم کی پاسداری کا جرم بھی ہوگا اور مال کو ادائیگی فریضہ کے بجائے رواج کو فروغ دینے پر صرف کرنے کا جرم بھی ہوگا ۔ 
درحقیقت رسموں کا مقابلہ کرنے کے لئے مضبوط ارادے ، ذہنی آمادگی اور بیجا تنقیدوں کے مقابلے میں مضبوط چٹان بننے کا عزم ہو اور جب ان غیر شرعی رسموں کی فضول خرچیوں کے بھیانک نقصانات کا ادراک ہو تو پھر اس سے اجتناب مشکل نہیں ہے ۔