تازہ ترین

ادراک

افسانہ

1 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

مصباحی ؔ شبیر
آج بیگم صاحبہ کچھ زیادہ ہی تیز ہو رہی تھی ایک دم سے مجھ پر برس پڑے کہ ’’تو تم نے فیصلہ کر لیا ہے دوسری شادی کرنے کا؟ ‘‘ میں منہ سے کچھ بول نہ سکا صرف سر ہلا کر ہاں کا اشارہ کر دیا اور ویسے بھی میں نے موقع کی نزاکت کو پھانپ لیا تھا کہ یہاں پر بولنا زخم پر نمک چھیڑکنے جیسا ہے ۔لیکن دوسرے ہی لمحے بیگم صاحبہ ہتھیار ڈالتے ہوئے اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے گویا ہوئی کہ ’’آخر مجھ میں کیا کمی تھی جو تم نے اس قدر بڑا فیصلہ کیا ؟ میں اس بار بھی خاموش ہی رہا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا ، میری بت نما خاموشی نے میری بیگم کو اور بھی پریشان کردیا ۔بولنے لگی میرے رہتے ہوئے تمہیں دوسری شادی کی کیا حاجت پڑی ؟ کیا تمہاری ضرورتیں مجھ سے پوری نہیں ہوتی ہیں ؟ میں کوئی بانجھ عورت بھی تو نہیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے ہمارے دو دو بچے ہیں۔کچھ لوگ بیٹے کے لئے دوسری شادی کرتے ہیں ۔ ہمارا تو ایک خوبصورت بیٹا بھی ہے۔ اور میں ان پڑھ بھی نہیں ہوں۔ میں نے تو تعلیم بھی حاصل کی ہوئی ہے اور جاب بھی کرتی ہوں ۔بولو نا نسیم ،جواب دو؟ تم خاموش کیوں ہو؟ کچھ تو بولو آخر مجھ میں کیا کمی ہے ؟جس کی وجہ سے تم نے اتنا بڑ ا فیصلہ لیا ۔میں نے کبھی تمہاری نافرمانی نہیں کی، تمہارے سامنے اُونچی آواز میں بات نہیں کی ،تمہاری ہر بات مانی تو کیا تم مجھے میری اطاعت اور فرما برداری کی یہ سزا دوگے؟ بیگم بول رہی تھی تو بول رہی تھی اور میں بت بن کر صرف سُنے جا رہا تھا ۔ ٹھیک ہے کر لو دوسری شادی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن کان کھول کر سُنو میں یہاں تمہارے ساتھ نہیں رہوں گی اور میں اپنے بچوں کے ساتھ کہیں اور جا کر رہ لوں گی ،لیکن اتنا یاد رکھ لینا جب تمہارا جی میری سوتن سے بھر جائے تو میری طرف لوٹ کر نہیں آنا۔ اس دن میرے ایڈریس پر میرا طلاق نامہ بھیج دینا کیونکہ میں ابھی طلاق نہیں چاہتی ہوں ، بس میں اتنا جاننے کا حق ضرور رکھتی ہوں کہ تم نے یہ ارادہ کس وجہ سے باندھا ؟ اتنی دیر خاموش رہنے کے بعد میں نے من ہی من میں فیصلہ کر لیا کہ اب یہاں پر کچھ بولنے کی ضرورت ہے تو میں کھانس کھانس کر گلا صاف کر رہا تھا کہ کچھ بولوں لیکن یہ سوچ کر کہ کیا بولوں میں پھر خاموش رہ گیا ۔جواب تو تم کو دینا پڑے گا نسیم ،تم اس طرح خاموش رہ کر ہماری زندگی کو ہمیشہ کے لئے جہنم نہیں بنا سکتے ہو ،سو بولو ؟  بیگم کا گلا اب سوکھ رہا تھا اور اس کی آواز اب کافی نرم ہو کر سرگوشی کے مترادف ہوگئی تھی ۔میں خود بھی کافی پریشان تھا لیکن پھر بھی اپنے اعصاب پر کنٹرول رکھتے ہوئے اپنی باتوں میں وزن پیداکرنے کیلئے الفاظ کو ترتیب دینے لگا اور پھر کچھ دیر بعد بول پڑا ’’یہ سچ ہے کہ میں نے اتنا بڑا فیصلہ تن تنہا لیا ہے مجھے تم سے پہلے پوچھ لینا چاہیے تھا ،یہ مجھ سے غلطی ہوئی لیکن میں تمہاری طبیعت و فطرت سے اچھی طرح واقف ہوں۔ مجھے پتہ تھا کہ تم یہ برداشت نہیں کرسکتی ہو حالانکہ تم کو برداشت کر لینا چاہیے اور ہمارے مذہب میں بھی اجازت ہے کہ مرد چار شادی کرسکے ‘‘’’ ہاں مذہب نے اس کی اجازت ضرور دی ہے لیکن اس میں بھی چند شرائط ہیں، جو تم سبھی مرد یکسر نظر انداز کردیتے ہو ‘‘ بیگم بیچ میں ہی بول پڑیں اور بڑے مدلل طریقے سے آخر میں یہ سوال بھی کیا کہ آخر تم پر کون سی مصیبت آن پڑی کہ تم کو دوسری شادی کرنے کی نوبت آگئی ؟ 
 
اب کے میں نے سخت لہجے میں اپنی بات شروع کی’’ تم کو یہ سب جاننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔اپنے پتی کی فرمابردا ری میں کوئی کسر تم نے اُتھائے نہیں رکھی تم سے مجھے کوئی شکایت بھی نہیں ‘‘۔ اللہ کے فضل و کرم سے ہمارے دو بچے ہیں ایک بیٹا بھی ہے تم تعلیم یافتہ ہو اور جاب بھی کرتی ہو لیکن ہماری شادی کو اتنے برس ہوگئے ہیں تم کو اب بھی معلوم نہیں کہ میں کتنا نمک ،مرچ کھانا پسند کرتا ہوں ۔ میں روز تم کو کہتا ہوں لیکن تم مانتی کہاں ہو ۔ اتنے سالوں میں تم مجھے ٹھیک طرح سے سمجھ نہ سکی۔ اتنے سالوں سے میں اکیلا لکھ رہا ہوں۔ لکھتے لکھتے میرا ہاتھ تھک چکا ہے۔ تم نے کبھی نہیں کہا کہ لائو میں لکھوں ،کاش تم کمپیوٹر چلانا سیکھ لیتی کچھ میری مدد کرتی لیکن نہیں ، گھر میں روز تین اخبار آتے ہیں جن میں جو دو اُردو کے ہیں ان میں آئے روز میری کوئی نہ کوئی تحریر چھپتی ہے لیکن تم ان کو چھوڑ کر صرف انگریزی اخبار پڑھتی ہو۔ کبھی میری حوصلہ افزائی نہیں کی، حالانکہ تم کرسکتی تھی لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا اور ہاں !تم نے مجھ سے ایک تحریر اپنے نام کی لکھوائی تھی اور جب وہ چھپی تو تم نے وہ تحریر فریم کروائی تھی، جو اب تک تمہارے پاس ہے ۔ میری چار کتابیں چھپی ہیں لیکن تم نے میرے ایسا کرنے کو ہر بار فضول خرچی قرار دیا حالانکہ میری کتابیں مارکیٹ میں ہاتھوں ہاتھ بک جاتی ہیں۔ لہٰذا مجھے لگ رہا ہے کہ تم میں کوئی کمی نہیں ہے کمی شاید مجھ میں ہی ہے کہ میں میرے سارے کام تمہیں پسند نہیں۔ چونکہ میں ہر دم اپنی ایک الگ زندگی میں مگن رہتا ہوں اس لئے میں نے تمہاری بھلائی کے لئے یہ فیصلہ لیا ہے‘‘۔ اتنا سننا تھا کہ وہ حیران و پریشان میرا چہرہ تکنے لگی۔ آنسوں اس کیا آنکھوں سے بہہ کر چہرے پر رس رہے تھے۔ آنسوں کا سیلاب جب تھم گیا تو روتے روتے اسکی ہچکیاں بندھنے لگیں اور وہ صرف اتنا کہہ سکی کہ تم رائٹر لوگ واقعی پاگل ہوتے ہو۔ میں تم سے اتنی محبت کرتی ہوں کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے ہو اور اس سے کہیں زیادہ میں تمہاری تحریروں سے محبت کرتی ہوں اور میں نے تم سے شادی بھی تمہاری تحریروں سے متاثر ہونے کی وجہ سے کی ہے۔ شاید تم جانتے نہیں ہو شادی سے پہلے بھی میں تمہاری تحریریں پڑھ پڑھ کر تم سے محبت کرنے لگی تھی اور شادی بعد بھی تمہاری تحریروں سے محبت کرتی ہوں ۔تمہاری ساری تحریروںکے تراشے  اخبارات سے کاٹ کاٹ کر احتیاط سے رکھتی ہوں، جو میری صندوق میں آج بھی موجود ہیں ۔تم جو کہتے ہو کہ تمہاری کتابیں مارکیٹ میں ہاتھوں ہاتھ بک جاتی ہیںتو وہ میں ہی ہوںجو آدھی سے زیادہ تمہاری کتابیں خرید خرید کر کالج کے بچوں میں تقسیم کرتی ہوں۔ ہاں میں خود کبھی ظاہر نہیں کرتی لیکن میرے کالج کی وہ لائبیرین لڑکی اس بات کی گواہی دے سکتی ہے۔ ہاں میں نے کبھی تمہارے کے سامنے تمہاری حوصلہ افزائی نہیں کی، وہ صرف اس لئے کہ تم کہیں سست نہ پڑھ جائو۔ میں انگلش اخبار ضرور منگواتی ہوں لیکن وہ صرف دکھاوا ہوتا ہے، باقی میں تمہارا ہر افسانہ زبانی سنا سکتی ہوں تمہاری ہر تحریر کو خود سے لکھ تھوڑا ردو بدل کے ساتھ دوبارہ پیش کرسکتی ہوں۔ میں اپنی ویک اینڈ کلاسوں میں کالج میں تمہاری تحریریں پڑھتی ہوں۔ہاں میرے نام سے تمہاری ایک تحریر ، جو شائع ہوئی ہے۔ وہ میں نے فریم کرکے اپنے پاس رکھی ہے۔ وہ اپنے لئے نہیں بلکہ اس لئے تمہاے قلم سے نکلی ہے اس لئے ،لیکن تم میری ان سب باتوں کا یقین نہیں کرو گے اور شاید یقین کے قابل بھی نہیں ہیں یہ باتیں ،لیکن مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ میں تم سے محبت کرتی ہوں، یہ میرے لئے کافی ہے۔ مجھے صلہ کی کبھی پروا بھی نہیں ہوئی ہاں میں نمک مرچ کھانے میں ضرور کم رکھتی ہوں، وہ بھی جان بوجھ کر کہ تمہارا کہنا کہ ’’ نمک مرچ تھوڑا کم ہے ‘‘  سننا مجھے تھوڑا اچھا لگتا ہے۔ جانے کیوں یہ مجھے خودبھی نہیں پتہ ہے کہ کیوں تمہارے منہ سے روز یہ جملہ سننااچھا لگتا ہے ۔اتنا سننا تھا کہ میری آنکھوں میں آنسوئوں آگئے کہ میں کتنا نادان ہوں کہ خود اپنی بیگم صاحبہ کو آج تک نہ سمجھ سکا لیکن دوش اس کو دیتا رہا کہ وہ مجھے سمجھ نہ سکی  ۔۔۔۔  میں افسانے کو اور بھی تھورا لمبا کرنے کی موڈ میں تھا کہ دروازے پر ماں نے آکر آواز دی کہ چل کھانا لگا دیا ہے۔ جب تک شادی نہیں کرے گا تو بس اسی طرح لکھتا رہے گا۔ کوئی تجھے کھانے کو بلانے کے لئے روز روز تھوڑی ہی آئے گا۔
 
دراس کرگل  جموں و کشمیر 
موبائل نمبر؛8082713692