تازہ ترین

مْکھوٹا

کہانی

16 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

پرویز مانوس
اولڈ ایج  ہوم کے ریکریشن ہال کی دیوار پر آویزاں بڑے ایل سی ڈی پر اْس کا بدھا چہرہ صاف دکھائی دیتا تھا ____،،،
ہال میں بیٹھی ہوئی بہت ساری بزرگ عورتیں اْس کی تقریر ہمہ تن گوش سْن رہی تھیں ،،
شانتی نے اپنی آنکھوں پر نظر کی عینک چڑھائی اور غور سے ایل سی ڈی کو دیکھنے لگی __،،وہ کہہ رہا تھا،، مْنش  کے جیون میں ماں شبد کا مہتو کیا ہے ، یہ بتانے کی کدا آؤشکتا نہیں ہے __پرنتو ، میں یہ کہے بغیر نہیں  رہ سکتا کہ ماں سنسار کا وہ پوتر شبد ہے جس سے انسانی وجْود کا دارو مدار ہے __یہی وہ دیوی ہے جس نے بڑے بڑے رشی مْنیوں اور اوتار وں کو جنم دیا ہے __ بد نصیب ہیں وہ لوگ جن کی مائیں نہیں ہیں اور خوش نصیب  ہیں وہ لوگ جن کے سروں پر ماؤں کی چھایا موجْود ہے،اْنہیں چاہئے کہ اس موقعے کا لابھ اٹھا کر اپنی ماؤں کی خوب سیوا کریں ____،،،
پری جنو!  آپ سوچ رہے ہونگے ،میں ماں شبد پر ہی کیوں زور دے رہا ہوں ___،، واستو میں میرے کہنے کا ارتھ یہ ہے کہ ہمارے مذہب کے انوسار گئو کو ماتا کا ستھان دیا گیا ہے اور ماں کی رکھشا کرنا ہر بیٹے کا کرتویہ ہے ___،،
شرون ہزاروں لوگوں کے مجمع میں تقریر کررہا تھا __ ٹی وی چینل والے تمام مجمع پر کیمرہ گھْمارہے تھے ،، جو لوگ میری اس بات سے سہمت ہیں وہ ہاتھ اوپر اٹھائیں ___،،، مجمع میں ایک شور کے ساتھ بہت سارے ہاتھ ہوا میں بلند ہوئے تو شرون کی بانچھیں کھل گئیں ___،،،شاباش! مجھے گرَو ہے اپنے ان گئو سیوکوں پر جو میرے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چل رہے ہیں ___،،اگر آپ کا ساتھ  مجھے ایسے ہی ملتا رہا تو مجھے آشا ہے کہ ہم اس دیش سے گئو ہتیا کرنے والوں کا صفایا کردیں گے ___،،
میرے سیوک بھائیو!  آؤ ہم سب مل کر آج  پَرن کریں کہ گئو ماتا کی رکھشا کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے اور اس بے زبان کی ہتھیا کسی صورت میں برداشت نہیں کریں گے، ہا ں ہاں نہیں کریں گے  _____،، گئو ہتھیا بند کرو ____ گئو ہتھیا بند کرو ____ بھارت ماتا کی جے _____ وندے ماترم __،، جیسے فلک شگاف نعروں سے ساری فِضا گونج رہی تھی اور چند نوجوان اپنے سروں پر  زعفرانی رنگ کی پٹیاں باندھے لاٹھیاں ہوا میں لہرا رہے تھے __ اْن کا جوش اور جذبہ دیکھ کر شرون پھولا نہیں سمارہا تھا۔ اب اسے اپنی منزل بہت ہی قریب نظر آرہی تھی __،،
لوگوں میں گئو رکھشا کے مْدعے کو لے کر اپنی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اْسے یقین ہو چلا تھا کہ رفتہ رفتہ اْس کا شمار سیاست دانوں میں ہونے لگا ہے ____،،
گْزشتہ چند ماہ سے شرون گئو رکھشاکے ابھیان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا تھا __،،
اس سے پہلے تو وہ ایک سیاسی پارٹی کے  پوسٹر چسپاں کرنے پر  مامور تھا جہاں سے اْسے دو وقت کی روٹی اور شراب ملتی تھی ،، لیکن سیاسی شخصیات کے آگے پیچھے حفاظتی حصار ، عزت ، شہرت اور آؤ بھگت دیکھ کر اْس کے دل میں بھی یہ خواہش انگڑائی لینے لگتی کہ کاش!  وہ بھی لیڈر بن سکتا لیکن پارٹی میں شامل شاطر اور تجربہ کار لوگ اْسے اپنے جوتوں میں رکھ کر اپنا الوّ سیدھا کرنا چاہتے تھے اسی لئے وہ اْسے پنپنے نہیں دیتے تھے __،،لیکن شاید اوپر والے نے اْس کی سْن لی تھی __،،،
دیکھتے ہی دیکھتے دیش میں گئو رکھشا کی تازہ لہر چل پڑی تو اْس نے بھی اس کا بھر پور فائدہ اٹھا کر "گئو رکھشا دَل " بنا کر خود ہی اس کا پردھان بن گیا ،، پھر کئی علاقوں میں گئو رکھشا کی آڑ میں لوگوں ہر ظلم و ستم ڈھانے کے علاوہ اپنی تقاریر میں اْن پر زہر آلود نشتر برساکر راتوں رات اخبارات کی زینت بن کر مشہور ہوگیا __،،
پھر گھر گھر جا کر اْس نے چندہ اکٹھا کیا جس سے اْس نے ایک وسیع گئو شالہ تعمیر کر ڈالی جس میں شہر کی سڑکوں سے آوارہ گئوؤں کو پکڑ کر لاتا  اْنہیں نہلا دْھلا کر اْن کی دیکھ بھال کرتا ___ اس کام میں اْس نے اپنے چند ہم خیال لڑکوں کو ساتھ رکھا تھا، جو اْس کی تشہیر کرنے میں اہم رول ادا کر رہے تھے __ اب تو شہر کے بچیّ بچیّ کی زبان پر گئو سیوک شرون کا نام تھا _ لوگ بھی اس کام کے لئے اْسے دل کھول کر دان دے رہے تھے ____،،،
اْس کا پس منظر کچھ خاص نہیں تھا ___،،،باپ ریلوے اسٹیشن پر چائے بیچتا تھا اور ماں دن بھر لوگوں کے گھروں میں کام کر کے گھر  کے خرچہ میں مدد کرنے کے علاوہ اْس کے اسکول کی فیس اور چول میں کھولی کا کرایہ ادا کرتی تھی ____،،
وہ اْس وقت دسویں جماعت میں زیرِ تعلیم تھا جب طْلباء کے مسائل کو لے کر شہر کے بیچوں بیچ جلوس نکال کر انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا، اس دوران طْلباء مشتعل ہو گئے اور انہوں نے سنگ باری اور آگ زنی سے سرکاری املاک کو بے حد نْقصان پہنچایا جس میں شرون پیش پیش تھا __ پولیس نے حرکت میں آکر چند شرپسند لڑکوں کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کردیا ____،،، دوسرے روز شہر کے ایک معروف سیاست  دان نے اْسے رہا کرادیا ،، دراصل دورانِ جلوس اْس نے شرون کو پرْ جوش نعرے لگاتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور یہ سوچ کر کہ مْستقبل میں یہ کام آئے گا اْسے اپنی سرپرستی میں لے لیا تھا اس طرح وہ اپنے تمام ناجائز کارو بار میں اْس کا خوب استعمال کرنے لگا ____،،،
باپ کے مرنے کے بعد شرون نے ریلوے اسٹیشن پر  چائے بیچنا اپنی شان کے خلاف سمجھا،، وہ گھر بار بھول کر ایک ادنیٰ سے کار کن کی حیثیت سے اسیِ پارٹی میں کام کرنے لگ گیا ____،، وقت گْزرنے کے ساتھ ساتھ وہ سیاست دانوں میں پائی جانے والی تمام صِفات سے واقف ہو چْکا تھا __ اب تک تو اْس میں سیاست دانوں کے تمام خصائل سرایت کر چْکے تھے___،، 
اب وہ سفید پوشاک ، کھادی واسکٹ اور گاندھی ٹوپی میں اکثر نظر آتا ___،،،اْس کی اس بڑھتی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ایک بڑی سیاسی پارٹی نے آنے والے الیکشن میں اْسے ٹکٹ دینے کا فیصلہ کر لیا تھا __اس بات کے مدِ نظر وہ اور بھی سرگرم ہو گیا تھا ____،،،
ہال میں بیٹھی ہوئی بزرگ عورتیں شرون کی تقریر پر تبصرہ کر رہی تھیں ،، ایک عورت بولی ،،دھنیہ ہے وہ جس نے اس ہیرے کو جنم دیا ہے ،اور نام بھی کیا خوب رکھا ہے شرون ،، آ ہاہاہا ____،،، دوسری کہنے لگی ،، کاش ہمارے بیٹے بھی اس کے نقشِ قدم پر چلتے تو آج ہم اس آشرم میں نہ ہوتے __، سوچنے کی بات ہے ، جو گئوؤں کی اتنی سیوا کرتا ہے وہ اپنی ماں کی کتنی سیوا کرتا ہوگا ،، کیوں بہن ،، اْس نے شانتی سے کہا___،، ارے تو رو رہی ہے ؟ لگتا ہے تقریر سْن کر جذباتی ہوگئی _ دوسری بولی ،، شانتی نے اپنی آنکھوں سے موٹے شیشوں والی عینک اتار کر آنسو پونچھتے ہوئے کیا،،، جس ماں کی آپ اتنی تعریفیں کر رہی ہیں ،دراصل وہ ابھاگن ماں میں ہی ہوں _______
 
آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر
 موبائل: 9622937142