تازہ ترین

کولگام ہلاکتوں کیخلاف احتجاجی مارچ

لالچوک میں کئی مزاحمتی کارکن حراست میں لئے گئے

10 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: امان فاروق    )

بلال فرقانی
سرینگر//کولگام شہری ہلاکتوں کے خلاف مشترکہ مزاحمتی جماعتوں نے سوموار کو احتجاجی مارچ کیاتاہم پولیس نے مظاہرین کی لالچوک کی طرف پیشقدمی ناکام بناتے ہوئے کئی لیڈران کو حراست میں لیا۔ مشترکہ مزاحمتی لیڈرشپ کی ہدایت پرحریت کے دونوں دھڑوں اورلبریشن فرنٹ سے وابستہ لیڈراورکارکن سوموارکوآبی گزرمیں جمع ہوئے اور شہری ہلاکتوں ،این آئی اے کی مہم اورزیادتیوں وپکڑدھکڑکیخلاف جلوس نکالنے کی کوشش کی ۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں تختیاں اٹھا رکھی تھی،جن پر ’’معصوموں کا قتل عام بند کرئو،شہری ہلاکتوں کو بند کرئو‘‘ کے نعرے درج تھے۔مظاہرین نے بشری حقوق کی تنظیموں سے درخواست کی کہ وہ وادی میں شہری ہلاکتوں پر قدغن لگانے کیلئے اپنا موثر کردار ادا کریں۔انہوں نے محمد یاسین ملک کی مسلسل نظر بندی اور سید علی شاہ گیلانی ،میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد اشرف صحرائی کی مسلسل خانہ نظر بندی اور شوکت احمد بخشی وغیرہ کی پولیس حراست کی مذمت کرتے ہوئے کہا یہ غیر جمہوری طریقے ہر حال میں قابل مذمت ہے۔جلوس میں غلام نبی زکی،ایڈوکیٹ بشیراحمدبٹ،، انجینئرہلال وار، شیخ عبدالرشیدبشیرکشمیری ،عمرعادل ڈار، نثارحسین راتھر، اشرف بن سلام ، امتیاز حیدر اور دیگر کئی مزاحمتی لیڈراورکارکن شامل تھے ۔مشترکہ مزاحمتی قیادت کے بینرتلے جب جلوس میں شامل افرادنے آگے جانے کی کوشش کی توپولیس نے فوری کارروائی عمل میں لاکران کاراستہ روک دیا۔اس موقعہ پرجلوس میں شامل لوگوں نے پولیس رکائوٹ کوعبورکرکے آگے جانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے کارروائی عمل میں لاتے ہوئے  ایڈوکیٹ بشیر احمد بٹ اور امتیاز حیدر سمیت نصف درجن سے زائد مزاحمتی کارکنوں اور لیڈروں کو حراست میں لیکر کوٹھی باغ تھانہ پہنچایا۔