تازہ ترین

یمین و یسار میں تاریخی ہڑتال

وادی،کرگل،خطہ چناب و پیر پنچال میں زندگی کی رفتار تھم گئی، کئی مقامات پر احتجاج،یاترا اور ریل سروس دوسرے روز بھی معطل رہی

7 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
 سرینگر //پشتینی باشندوں سے متعلق قانون دفعہ 35A کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کرنے کیخلاف دوسرے روز بھی کرگل، کرناہ سے قاضی گنڈ، خطہ چناب اور پیر پنچال تک ہمہ گیر ہڑتال کا سلسلہ جاری رہا،جبکہ دوسرے روز بھی ریل سروس اور یاترا معطل رہی۔

سیول کرفیو جاری

 مشترکہ قیادت کی طرف سے دی گئی کال کے پیش نظر وادی کے شرق و غرب میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا۔ شمال وجنوب علامتی سیول کرفیو اور ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی کی رفتار تھم گئی،جبکہ مصروف ترین بازاراروں میں جہاں الو بولتے ہوئے نظر آئے وہی سڑکوں پر بھی صرف فورسز اور پولیس گاڑیاں گشت کرتی ہوئی نظر آئیں۔بازاروں میں نہ آدم اور نہ آدم زاد نظر آرہے تھے،بلکہ ہر سو سکوت، خاموشی،کشیدگی اور تنائو کا ماحول تھا۔ہر سو سنسان اور ویرانگی کا عالم نظر آرہا تھا۔دکانیں کاروباری وتجارتی مراکز،تعلیمی و مالیاتی ادارے،تجارتی سرگرمیاں اور مال بردار و مسافر ٹرانسپورٹ کی آوجاہی مکمل طور پر بند تھی۔سرینگر کے شہر خاص میں بھی مکمل سیول کرفیو کے بیچ ہو کا عالم تھا،جبکہ جامع مسجد سرینگر کے متصل اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے ڈھیرہ ڈال دیا تھا۔سیول لائنز میں بھی کم و بیش صورتحال یہی تھی،اورمصروف ترین بازار خاموش تھے۔ادھر بڈگام میں بھی مکمل ہڑتال رہی جبکہ چاڈورہ،بی کے پورہ،چرار شریف ،بیروہ،خانصاحب اور ماگام سمیت دیگر علاقوں میں سیول کرفیو جیسے نظارے دیکھنے کو ملے۔گاندربل سے نمائندہ ارشاد احمد کے مطابق ہڑتال کے دوسرے روز بھی پورے ضلع گاندربل کے علاقوں،گاندربل،کنگن، صفاپورہ، تولہ مولہ ،لار ،شالہ بگ،سمیت دیگر علاقوں میں ہڑتال کی وجہ سے ہو کا عالم رہا ۔ جنوبی ضلع اسلام آباد( اننت ناگ) میں دوسرے روز بھی فقیدالمثال ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی متاثر رہی۔نامہ نگار ملک عبدالسلام کے مطابق ہڑتال کے دوران تمام دکانیں ،تعلیمی ادارے بندرہے ،جبکہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ غائب رہا ۔ ضلع کے بجبہاڑہ،آرونی،سنگم، کھنہ بل،دیلگام،مٹن،سیر ہمدان،کوکر ناگ،وائل سمیت دیگر علاقوں میں دوسرے روز بھی مثالی ہڑتال اور علامتی سیول کرفیو دیکھنے کو ملی۔ڈورو ،ویری ناگ ،قاضی گنڈ اورکوکر ناگ میں مکمل ہڑتال رہی جس دوران تمام دکانیں بند رہی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک غائب رہا۔اس بیچ ضلع میں تین دن تک معطل رہی موبائیل انٹرنیٹ سروس پیر کو بحال کر دی گئی ۔ پلوامہ میں بھی دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال اور سیول کرفیو جیسی صورتحال کے بیچ دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہیں،جبکہ کاکہ پورہ،پانپور،نیوہ،اونتی پورہ، ترال،کھریو،لدھو اور راجپورہ سمیت دیگر علاقوں میں لوگوں نے گھروں میں رہنے کو ہی ترجیج دی۔ادھر شوپیان میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔ضلع کے تمام علاقوں میںعام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔خالدجاویدکے مطابق ضلع  کولگام میں ہو کا عالم رہا۔ محمد پورہ،نیلو،فرصل،اوکے،دمحال ہانجی پورہ ،کھڈونی،ریڈونی،پہلو،کیموہ سمیت دیگر علاقوں میں دوسرے روز بھی ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج رہی۔ نامہ نگار عازم جان کے مطابق بانڈی پورہ ضلع میں دوسرے روز بھی مکمل طور پر ہڑتال رہی ، سرکاری دفاتر میں حاضری بہت کم رہی ہے سڑکوں پر گاڑیوں کی آوا جاوی مکمل طور پر ٹھپ رہی ہے۔ بنہ کوٹ، گریز، سنرونی ،کلوسہ ،اجس ،سمبل نائدکھے اور ودیگر مقامات پر مکمل ہڑتال رہی ۔ بارہمولہ میں بھی مکمل ہڑتال سے عام زندگی معطل ہو کر رہ گئی۔نامہ نگار غلام محمد کے مطابق سیول کرفیو اور ہڑ تال کی وجہ سے ضلع میں دوسرے روز بھی ہر قسم کی سرگر میاں متاثر رہی اور لوگوں نے زیادہ ترگھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی جس کی وجہ سے شہر میں خاموشی چھائی رہی ۔مشتاق الحسن کے مطابق ٹنگمرگ،گلمرگ،پٹن،ریرن،چنڈی لورہ،دھوبی ون اور دیگر علاقوں میں مکمل ہڑتال سے عام زندگی کا کاروبار تھم گیا۔ سرحدی ضلع کپوارہ میں بھی مکمل ہڑتال رہی،اور اس دوران لنگیٹ،ترہگام،لعل پورہ،کرالہ پورہ سمیت دیگر علاقوں میں ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی کا روبار مفلوج ہوکر رہ گیا۔ نامہ نگار اشرف چراغ کے مطابق سرحدی قصبہ کرناہ میں مکمل ہڑتال کے بیچ مظاہرین نے اس علاقے میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی تھیں اور کسی بھی گاڑیوں کو چلنے کی اجازت نہیں تھی ۔احتجاج کرتے ہوئے لوگوں نے کہا کہ اگر دفعہ کے ساتھ چھڑ چھاڑ کی گئی تو اپنی جان دینے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔

چناب 

 محمد تسکین کے مطابق ضلع رام بن کے بیشتر علاقوں میں دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال رہی جس کی وجہ سے عام زندگی دوسرے روز بھی متاثر ہو کر رہ گئی۔ جموں ،سرینگر شاہراہ پر واقع قصبہ بانہال ، کھڑی ، رامسو ، مگرکوٹ ، گول سنگلدان میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے دکانیں اور کاروباری ادارے مقفل رہیںاور مقامی ٹریفک بند رہا جبکہ رام بن میں جزوی ہڑتال رہی اور ایک فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے 35 کے حق میں مکمل ہڑتال کی ۔مگر کوٹ سے نوگام بانہال تک 25کلومیٹر کے حصے پر واقع مگرکوٹ رامسو ، گنڈعدلکوٹ ، بانہال ،چریل ، ٹھٹھاڑ اور نوگام کے تمام بازار اور دکانیں مکمل طور دوسرے روز بھی بند رہیں جبکہ ٹرانسپورٹ بھی متاثر رہا ۔ بانہال کھڑی اور گول کے علاقوں میں بیشتر سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی ادارے ہڑتال کی وجہ بند رہے یا روزمرہ کی تعلیمی سرگرمیاں اثر انداز رہیں۔ ضلع بھر میں حکام نے فورسز کی اضافی نفری تعینات کر رکھی تھی تاکہ امن و قانون کی کسی بھی صورتحال سے نپٹا جاسکے ۔ہڑتال کی وجہ سے جموں سرینگر شاہراہ پر ٹریفک کی معمول کی نقل وحرکت بھی متاثر رہی اور بہت کم گاڑیاں شاہراہ پر چلتی نظر آئیں۔ اس کے علاوہ شاہراہ کشمیر کی طرف جانے والی سیاحوں اور امرناتھ یاترا کی گاڑیوں کے چلنے پر روک تھی۔

راجوری +پونچھ

آل پارٹی کوآرڈی نیشن کمیٹی راجوری و پونچھ کی طرف سے بندکی کال پر دونوں اضلا ع میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے اور اس دوران تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی نہیں چلا۔ گوجر منڈی ، کھیورہ ، ڈی سی دفتر سڑک اور بیلہ کالونی و ملک مارکیٹ بند رہی جبکہ آل پارٹیز کوآرڈی نیشن کمیٹی کی قیادت میں احتجاجی جلوس بھی نکلا ۔درہال تحصیل میں بھی مکمل طور پربند رہا اور راجوری سے درہال جانے والی سڑک کو بھی بند رکھاگیا ۔تحصیل منجاکوٹ میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیاگیا ۔تھنہ منڈی میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔آل پارٹی کوآرڈی نیشن کمیٹی راجوری اور بیوپار منڈل تھنہ منڈی کی کال پر پیر کے روز مکمل ہڑتال کی گئی اور اس دوران اقبال چوک میںجلسہ منعقد کیا گیا۔کوٹرنکہ اور بدھل میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ پونچھ کے صدر مقام پر بھی آئین ہند کے دفعہ35اے کے تحفظ کے لئے دی گئی بند کال کا بھرپور اثر دیکھنے کو ملا۔ اس دوران ہندو، مسلم ،سکھ ،عیسائی مذاہب کے ماننے والوں نے متحد ہوکر اس دفعہ کے تحفظ پر زور دیا اور پریڈ پارک پونچھ میں احتجاجی جلسہ منعقد کیاگیا ۔ ممبراسمبلی حویلی شاہ محمد تانترے ،سابق ممبراسمبلی اعجاز احمد جان اورجلسے سے امام و خطیب مرکزی جامع مسجد پونچھ مفتی فاروق احمد مصباحی ،سکھ سٹو ڈنٹ فیڈریشن پونچھ کے صدر ہرچرن سنگھ خالصہ ، سردار کمل جیت سنگھ ،الجمعۃ کے بین الاقوامی جنرل سکریٹری شہزاد انوری ،عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر فاروق احمد بانڈے ،حافظ ریاض میر ودیگران نے بھی خطاب کیا ۔ سرنکوٹ ،بفلیاز ، چندی مڑھ ، سیالاں ، بہرام گلہ میں بھی تمام کاروباری ادارے بند رہے اور دن بھر نوجوان احتجاجی مظاہرے کرتے رہے ۔ سرنکوٹ میں بار ایسو سی ایشن نے بھی کام چھوڑ ہڑتال کی ۔منڈی میں پیر کے روز مکمل بند رہا اور اس دوران سڑکوں پر سنسان تھا ۔اس دوران ایک احتجاجی جلسہ منعقدہوا۔ مینڈھر میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا اور مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایاگیا۔

یاترا و ریل سروس ہنوز معطل

 مزاحمتی جماعتوں کی طرف سے کال کے پیش نظرانتظامیہ نے بانہال سے بارہمولہ تک چلنے والی ریل سروس کو  دوسرے روز بھی معطل رکھا گیا۔ادھر دوسرے روز امرناتھ یاترا کا سلسلہ دوسرے روز بھی روک دیا گیا۔امرناتھ شرائن بورڈ کے اعلیٰ حکام نے بھی 5اور 6اگست کو ہڑتالی کال کے پیش نظر یاترا کو 2دن کے لیے معطل رکھا ۔