تازہ ترین

۔13؍جولائی : تو پوں کو مات دے گئی جذبوں کی حرارت

چشم کُشا

12 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

کامریڈ کرشن دیو سیٹھی
 جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی تو کوئی بات نہیں
فیضؔ
 13جولائی کشمیر کی تاریخ میں انتہائی غیر معمولی اور اہم دن ہے ۔ا س دن کشمیر عوام نے پہلی بار شخصی نظام اور مطلق العنانیت کے خلاف اجتماعی بغاوت کی اورتمام جابرانہ قوانین اور ضوابط کی پروہ کئے بغیر سر عام گلی کوچوں اور بازاروں میں اس امر کا واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ شخصی راج کا خاتمہ ہواورذمہ دار نظام حکومت کا قیام ہو ۔ اس دن بالخصوص عوام کے جذبۂ آزادی اور مطالبۂ حریت کو کچلنے کے لئے سری نگر سنٹرل جیل کے باہر جمع مظاہرین کے ہجوم پرمطلق العنانیت نے نہتوں پرگولیوں کی بے تحاشہ بوچھاڑ کی کہ موقع پر کئی کشمیری شہید ا ور زخمی ہوئے اور سیاسی قیدیوں سے جیلیں بھردی گئیں لیکن عوامی مزاحمت دبنے کے بجائے اور زیادہ شدیت اختیارکرگئی ۔ ۱۳؍ جولائی ۳۱ء سے لے کر آج تک سرزمین کشمیر شہیدوں کے لہو سے لالہ زار چلی آرہی ہے۔ یہ صورت حال کشمیری عوام کو جبر استبداد اور باطل کے خلاف لڑنے کی ترغیب دیتی ہے تاکہ ریاست میں ہر طرح کے استحصال اورلوٹ کھسوٹ سے پاک منصفانہ نظم مملکت ہو سکے۔
تاریخ میں بعض دن ایسے یاد گار ہوتے ہیں جب مظلوم طبقے اور دبی کچلی قومیں استحصالی نظام کے خلاف بغاوت کرتی ہیں اور اس دن کی اہمیت و حیثیت دوبالا کر جاتی ہے۔ ایسے یادگار ایام صدیوں تلک متعلقہ قوم یا طبقہ کے سامنے مظلومیت، انقلابی نوعیت، ماضی، حال اور مستقبل کی نئی تعمیر کے خدوخال واضح کرجاتے ہیں۔ تاریخ کا ایساہی ایک ورق یکم مئی عالمی یوم مزدوراںکے طور منایا جاتا ہے۔اس روز شکاگو کے بازاروںمیں ظلم وجبر کے خلاف کمربستہ منظم مزدوروں نے سرمایہ داروں کی گولیاں سینوں پر کھائیں۔ ان محنت کشوں نے پاک خون سے رنگااپناسُرخ پرچم بلند کیاتھا۔ پیرس ، کمیون کی قائمی کا دن عالمی مزدور طبقہ خصوصی طورپر فرانسیسی محنت کش طبقہ کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ دُنیا میںپہلی بار فرانسیسی مزدوروں نے مختصر عرصہ کے لئے ہی سہی ایک مزدور ریاست کاوجود عمل میں لایا۔ سات نومبر کاتاریخی دن ہمیشہ یاد رہے گا جب روسی محنت کشوں نے بالیشویک پارٹی اور تنظیم کی رہنمائی میں زار روس کا تختہ پلٹ کر مزدور طبقہ کا اقتدار قائم کردیا۔ اسی طرح یکم اکتوبر کی ہمیشہ نمایاں حیثیت قائم رہے گی جب چینی عوام نے سامراج اور اس کے مقامی گماشتوں کو شکست دے کر کمیونسٹ پارٹی اور مائوزے تنگ کی رہنمائی میں عوامی جمہوریت کے قیام کا اعلان کیا۔ ہندوستانی عوام 1857ء کی بغاوت کی یاد کو کبھی محو نہیں کرسکتے جب پہلی بار ہندوستانیوں نے غیر ملکی حکمرانوں کے خلاف مسلح بغاوت کی۔۱۳؍اپریل کو امرتسر کے جلیانوالہ باغ کے قتل عام کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا، بعینہٖ پشاور کے قصہ خوانی بازارمیں انگریزوں کی گولیوں کی بوچھاڑ کا خونی منظر کوئی باشعور نظرانداز نہیںکرسکتا۔
 علیٰ ہذا القیاس کشمیری عوام نے مہاراجی مطلق العنانیت کے خلاف اور قوم کی احیائے نوکے لئے13؍ جولائی 1931ء کو جو علم بغاوت بلند کیا تھاجس کی یاد رہتی دنیا تک رہے گی۔ یہ بغاوت نہ صرف گلاب سنگھ کے حکمران خاندان کے خلاف تھی بلکہ یہ برملا اظہار تھا اس استحصال، جبرواستبداد، لوٹ کھسوٹ اور غلامی کے خلاف جو نہ صرف یہاں گلاب سنگھ کے خانوادے نے بلکہ اس سے بیشتر کئی صدیوں سے مغلوں ، پٹھانوں اور مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کشمیر ی عوام سے روا رکھی تھی۔ درحقیقت13؍ جولائی ایک انگڑائی تھی کشمیری عوام کی صدیوں کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کے لئے۔ مفاد خصوصی رکھنے والے حکمران خاندانوں اور اُن کے ایجنٹوں نے 1931ء سے لے کر آج تک یہ متواتر کوشش کی کہ 13؍جولائی 1931ء سے شروع ہونے والی تحریک کوفرقہ وارانہ رنگت میں پیش کریںا ور اسے ڈوگرہ عوام کے خلاف ظاہر کریں ، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ خون سے لت پت یہ تحریک جموں وکشمیر میںبسنے والے تمام مظلوم وبے نوا فرقوں اور سارے علاقوں کے مظلوم عوام کی آزادی اور بیداری کی ترجمان تھی۔اس میں ہر گز کوئی فرقہ وارانہ یا علاقائی تعصب کا رفرمانہ تھا۔ یہ دُرست ہے کہ وادی کشمیر میں نوے فیصدی آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور جاگیردارانہ لوٹ کھسوٹ کا وہی سب سے زیادہ شکار تھے، اس لئے اوائل میں انہوںنے تحریک حریت میں حصہ لیا اور بیش بہا قربانیاں دیں لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیںکیا جاسکتا کہ یہ تحریک دوسرے فرقوں یا علاقوں کے خلاف تھی بلکہ اس تحریک نے دوسرے فرقوں اور علاقوں کے مظلوم عوام کو بھی بیدار ہونے اور اپنی مظلومیت کے خلاف موثر جدوجہد کرنے کا نیا جذبہ اور جوش اور ولولہ پیدا کیا۔ اسی تحریک سے متاثر ہو کر ’’ڈوگر ہ دیش‘‘ کے محنت کش کسانوں نے بھی قومی تحریک میں جاگیردارانہ نظام کے خلاف شرکت کی جنہیں مذہب اور علاقہ پرستی کے نام پر برسراقتدار جاگیردار طبقہ نے گمراہ کررکھاتھا ۔ اسی تحریک سے متاثر ہوکر کوہستانی علاقہ مظفر آباد ، پونچھ ، راجوری اور میر پور کے غیور پہاڑی لوگ بھی ظلم و ستم کے خلاف کمر بستہ ہوئے، گر چہ انہیں علاقائی تعصب کے جادو کے ذریعہ تحریک سے الگ تھلگ رکھنے کی کوشش کی گئی تھی ، تاریخی حقیقت یہ ہے کہ تیراں جولائی کی تحریک صرف وادی کشمیر تک محدود نہ رہی بلکہ جموں و کشمیر کے تمام خطے اس کے دایرۂ اثر میںآگئے۔
  انقلاب روس کے بعد روسی محنت کشوں کی آزادی کے علاوہ زار شاہی کی غلامی میںپھنسی ہوئی قوموں کو لینن اور سٹالن کی رہنمائی میں کمیونسٹوں نے حق خود ارادیت عطا کیاجس سے نہ صرف ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک کے محنت کشوں میں ہی سوشلسٹ انقلاب کاجذبہ پیدا ہوا بلکہ محکوم اور نیم محکوم قوموں نے بھی اپنی آزادی کی تحریکیں تیز کردیں۔ اگر بغور دیکھا جائے تو بیسویں صدی کی دوسری اور تیسری دہائی محکوم اور دبی کچلی قوموں کا سامراجیت کے خلاف تند وتیز جدوجہد کا دور ہے۔ برصغیر ہندوستان میں بھی اس دور میں بھی زبردست سامراج مخالف آندولن ہوئے۔ اسی طرح صدیوں سے دبے کچلے کشمیری عوام نے بھی غلامی کی زنجیریں توڑنے کی جدوجہد شروع کردی۔ اس بیداری کا مرکز وادیٔ کشمیر کی راجدھانی سرینگر تھا جہاں سے یہ پھر کشمیر کے طول وعرض میں پھیل گئی۔ مطلق العنانیت کے خلاف بڑے بڑے اجتماعات ہوئے، جن میں شخصی نظام کے مظالم وشدائدکے خلاف صدائے احتجاج بلند کی گئی۔ اسی نوع کا ایک احتجاجی اجتماع شہر خاص خانقاء معلی سرینگر میں ہوا جس میں ایک غیر ریاستی باشندہ عبدالقدیر نے بھی جوشیلی تقریر کی۔ اس سے عوام کے تن ِ مردہ میں انتہائی جوش اور جذبہ بھرگیا۔حکومت نے اس عوامی تحریک کو جبر وجور کے حربوں سے کچل دینے اور دیگر جارحانہ اقدامات کے علاوہ عبدالقدیر کے خلاف 124؍الف (بغاوت) کا مقدمہ چلایا ۔ اس کے ردعمل میںعوام اس قدر مشتعل ہوئے کہ حکمرانوں کوکھلی عدالت میں یہ مقدمہ چلانے کی ہمت نہ ہوئی اور سنٹرل جیل سرینگر کی چار دیواری کے اندر ہی مقدمہ شرو ع کیاگیا۔ تاریخ پیشی پر سرینگر شہر اور مضافات کے ہزاروں لوگوں کے اجتماع سے حکمران ا س قدر خائف ہوئے کہ رائے زادہ لوک چند بالی گورنر کشمیر کے احکامات پر پولیس اورفوج نے مجمع کو منتشر کرنے کے لئے بے تحاشہ گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ اس وجہ سے بر سر موقع کثیرتعداد میں لوگ شہید اور زخمی ہوئے۔ شہیدوں کو زیارت گاہ خواجہ نقشبند صاحبؒ میں ،جو مزار شہداء سے موسوم ہے میں، دفنایاگیا۔ یہاں پرہر سال شہیدوں کی قبروں پر فاتحہ خوانی اورگل باریاں کی جاتی ہیں، جلسے ہوتے ہیں اور شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت پیش کیا جاتاہے۔ مطلق العنان حکمرانوں کا خیال تھا کہ جبروتشدد سے تحریک حریت کو کچل جائے گی لیکن ان شہیدوں کے فیضان سے تحریک پیش قدمی کرتی رہی اور آخر کار 1947میں جموں وکشمیر میں مطلق العنانیت کے خاتمہ سے تحریک کا ایک دور اختتام پذیر ہوا۔  
1947 کے بعد شخصی راج اور مطلق العنانیت کے بعد آج تک اگرچہ کئی سیاسی شخصیتیں ریاست میں برسر اقتدار آئیںجن میں شیخ عبداللہ، بخشی غلام محمد ، شمس الدین خواجہ ، غلام محمد صادق، سید میر قاسم، غلام محمدشاہ، فاروق عبداللہ، مفتی محمد سعید ، عمر عبداللہ، غلام نبی آزاد اور محبوبہ مفتی شامل ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ثابتہ ہے کہ اب بھی عوام حقیقی آزادی سے محروم ہیں، اس لئے وہ اپنی خوا بوؓ اور خواہشوں کے مطابق وہ نظام حیات تعمیر نہیںکرسکے جس کیلئے بے انتہا قربانیاں دی گئیں۔آج بھی شہری آزادیاں مفقود ہیں، ظلم و ستم کی چکی رواں دواں ہے، محنت کش طبقے استحصال اور لوٹ کھسوٹ کے شکار ہیں، سیاسی بے چینی اوراقتصادی بدحالی نے عوام کو کمر توڑ کررکھ دی ہے، لوٹ کھسوٹ کرنے والے طبقے اپنے مقامی ایجنٹوں اور چیلے چانٹوںکے ذریعہ باقی ملک سے کچھ زیادہ ہی یہاں لوٹ پاٹ کا بازار گرم ہے ۔ 87؍ویں یوم شہدائے کشمیر کے دن غوروفکر کا مقام ہے کہ اس ابتر اور ناگفتہ یہ صورت حال اور عوام کی زبوں حالی و بے نوائی کا سبب ہے۔جموںوکشمیر کے عوام کی مظلومیت کی ظاہری وجہ خواہ کچھ بھی ہو لیکن حقیقی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے عوامی ذہنوں پر ہمیشہ پیٹی بورژواہ لیڈروں کا غلبہ رہاہے جنہوںنے عوامی جذبات اور احساسات کا بخوبی استعمال کرکے ہر وقت اغراض براری سے کام لیاہے۔ جب تک عوام کودُرست لیڈر شپ اور پُر خلوص وبیدار مغز قیادت نہیں ملتی وہ ہمیشہ دھوکہ کھائیںگے اور ان کے لئے کشمیر کا زدائرے کا سفر ثابت ہوگا ۔ ساری دُنیا کا تجربہ یہی کہتاہے اور جموں وکشمیر کا تجربہ بھی اسی کی نشاندہی کرتاہے۔  
krishandevsethi@gmail.com