تازہ ترین

ریل اور انٹر نیٹ سروس معطل،مزاحمتی لیڈران خانہ و تھانہ نظر بند ، وادی میں کرفیو، بندشیں اور ہمہ گیر ہڑتال

خطہ چناب میں سرگرمیاں معطل،کولگام کے مہلوک شہریوں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا، سرینگر،کولگام، ترال اور شوپیان میں شدید تصادم آرائیاں

9 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: میر وسیم    )

بلال فرقانی
سرینگر// مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر حزب کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی پر وادی کے یمین و یسار اور خطہ چناب میں مثالی ہڑتال کے بیچ  ترال سمیت ضلع پلوامہ میں کرفیو نافذ رہا جبکہ شہر سرینگر میں سخت ترین بندشیں عائد کی گئیں۔اس دوران سرینگر،کولگام اورترال میں کچھ مقامات پر جھڑپیں ہوئیں ۔ مزاحمتی قیادت کو کئی روز قبل ہی خانہ و تھانہ نظر بند رکھا گیا تھا۔اس دوران کئی جگہوں پر کولگام میں مہلوک شہریوں کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔

ہڑتال و بندشیں

 حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی دوسری برسی کے موقعہ پر دی گئی کال کے پیش نظر وادی کے جنوب و شمال میں مکمل ہڑتال رہی، جبکہ کاروباری ادارے،تجارتی مرکز کے علاوہ نجی دفاتر مکمل طور پر مقفل رہے،جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل بھی مکمل طور پر بند تھی۔ سرینگر کے شہر خاص کے حساس علاقوں میں سخت ترین ناکہ بندی کی گئی تھی اور غیراعلانیہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لاکر لوگوں کو گھروں میں محصور کیا گیا ۔ پائین شہر کی طرف جانے والے راستوں پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر کے راستوں کو عبور ومرور کیلئے مسدود کر دیا گیا تھا۔ فورسز نے کئی جگہوں پر راستوں کو بند کرنے کیلئے خار دار تاروں کے علاوہ بکتر بند گاڑیوں کا بھی استعمال کیا تھا۔سخت ترین ناکہ بندیں اور بندشوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بیماروں اور صحافیوں کو بھی سخت پوچھ تاچھ کے بعد آگے جانے کی اجازت دی جا رہی تھی جبکہ باریک بینی سے شناختی کارڑوں کی جانچ کی جا رہی تھی۔ نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کے دروازوںکو بدستور مقفل رکھا گیا جبکہ اس کے گردونواح میں سیکورٹی فورسز کی ایک بڑی تعداد کو تعینات رکھا گیا ہے، تاہم ایمبولینس اور بیماروں کی نقل وحرکت کے لئے صفا کدل سے صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ جانی والی سڑک کو کھلا رکھا گیا ہے۔سیول لائنز میں ’مائسمہ‘ کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو سیل کردیا گیا ہے۔ اس علاقہ میں بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسزاہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا تھے۔بڈگام اور گاندربل میں مکمل ہڑتال کے دوران ہر قسم کی سرگرمیاں معطل رہیں۔

جنوبی کشمیر

سید اعجاز کے مطابق جنوبی کشمیر میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ ترال میںکسی بھی تقریب کو نا ممکن بنانے کی غرض سے قصبے میں فوج ،پولیس اور سی آر پی ایف کے خصوصی دستے تعینات کئے گئے تھے۔تاہم نودل میں پتھرائو کرنے اور آری گام میں احتجاجی مارچ کی کوششیں ہوئیں جو ناکام بنا دی گئیں ۔ترال میں اتوار کو مسلسل دوسرے روز بھی سخت کرفیو کا نفاذ رہاجس کے دوران کسی کو بھی گھر سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ ترال کی طرف آنے والے تمام رابطہ سڑکوں کو مکمل بند کر کے سیل کیا گیا ۔ برہان وانی کے مقبرے کے قریب بھی سخت سیکورٹی تعینات کی گئی تھی۔اتوار کی صبح  نماز فجر کے بعد ہی اعلانیہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا جس کے دوران کسی کو بھی گھر سے باہرنہ آنے کی تنبیہ کی گئی ۔قصبے سے چند کلومیٹر دور نودل کے مقام پر چند نوجوانوں نے علاقے میں قائم سی آر پی ایف کے ایک کیمپ پر پتھرائو کیا جس کے دوران فورسز نے نوجوانوں کو تتر بتر کرنے کر نے کے لئے آنسو گیس کے چند گولے داغ کرانہیں منتشر کیا۔ادھر برہان وانی کے آبائی بستی آری گام سے بھی نوجوانوں کی ایک ٹولی نے مزار شہداکی طرف جانے کی کوشش کی تاہم فورسز نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ادھر پلوامہ قصبے میں بھی کرفیو نافذ کیا گیا۔ ضلع صدر مقام کے تمام راستوں کو سیل کیا گیا تھا اور قصبے کے اندر اور باہر کسی کو اجازت نہیں دی گئی۔اسی طرح کی صورتحال اونتی پورہ میں بھی تھی جہاں ترال جانے والے راستے سیل کئے گئے تھے۔پلوامہ کے پانپور،نیوہ،راجپورہ، کھریو،لدھو، کاکہ پورہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔شاہد ٹاک کے مطابق شوپیان قصبے کی ناکہ بندی کی گئی تھی اور کسی کو بھی باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔قصبے میں سناٹا چھایا رہا۔تاہم میمندر اورگاگرن میں مظاہرین اور فورسز میں شدید جھڑپیں ہوئیں جن کے دوران 4افراد کو چوٹیں آئیں تاہم اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ پیلٹ سے زخمی ہوالا ایک نوجوان اسپتال لایا گیا۔شام کے وقت قصبے میں دوبارہ پتھرائو شروع ہوا اور مظاہرین نے ڈپٹی کمشنر ریذیڈنسی اور پولیس سٹیشن پر پتھرائو کیا۔قصبے میں شام دیر گئے تک جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔نامہ نگار خالد جاوید کے مطابق کولگام ضلع میں داخلی اور خارجی راستوں کو مکمل سیل کیاگیا تھا،اور کسی بھی شخص کو ضلع  کے اندر جانے یا باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ضلع کی اہم شاہرائوں کو خار داروں تاروں سے بند کیا گیا تھا۔اس دوران ہاوورہ کیموہ میں جاںبحق شہریوں کے گھروں میں تعزیتی مجالس کا سلسلہ جاری رہا،جس کے دوران لوگوں کا تانتا بندھا رہا۔ دمحال ہانجی پورہ،کھڈونی،ریڈونی،فرصل،محمد پورہ،یاری پورہ اور دیگر علاقوں میں بھی مکمل ہڑتال سے عام زندگی کی رفتار تھم گئی۔ نامہ نگار ملک عبدالسلام کے مطابق اننت ناگ قصبہ کے ساتھ ساتھ بجبہاڑہ، اچھ بل ،دیالگام ،مٹن ،کوکرناگ ،ڈورو ،ویری ناگ اور قاضی گنڈ علاقوں میں پولیس ،سی آر پی ایف و فوجی اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی ۔ان علاقوں میں ہر طرح کی سرگرمیاں معطل تھیں۔

شمالی کشمیر

شمالی کشمیر کے  بارہمولہ ،سوپور اور دیگر قصبوں و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔ جہاں تمام تجارتی اور دیگر سرگرمیاں معطل رہیں۔ بارہمولہ قصبے میں اولڈ ٹاون کو سیول لائنز کے ساتھ جوڑنے والے پلوں پر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ۔ضلع کے حصاس قصبہ سوپور،پٹن،ٹنگمرگ،شیری،رفیع آباد،سنگرامہ اور دیگر علاقوں میں بھی مکمل ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی کا کاروبار تھم گیا۔نامہ نگار عازم جان کے مطابق پوری وادی کی طرح اجس بانڈی پورہ میں صبح سویرے سے ہی کسی بھی احتجاج منائے جانے کی تقریب کو ناکام بنانے کیلئے فورسز کا گشت بڑھادیاگیا ۔ پاپہ چھن میں پتھرائو کے واقعات رونما ہوئے۔ضلع کے حاجن،نائد کھے ، عشم ، صفا پو ر ہ ، سمبل ، کلوسہ،آلوسہ اور دیگر علاقوں میں مکمل ہڑتال رہی۔سرحدی ضلع کپوارہ میں ہڑتال رہی۔نامہ نگار اشرف چراغ کے مطابق ضلع میں اضافی فورسز اور پولیس کو تعینات کیا گیا تھا،جبکہ کرالپورہ اور ترہگام سمیت دیگر حساس علاقوں میں فورسز کا گشت جاری رہا۔ ضلع کے ہند و ا ر ہ ، لنگیٹ،لولاب،کرالہ گنڈ اور مائور میں مکمل ہڑتال رہی۔

احتجاج

 وادی کے کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے جبکہ جاں بحق شہریوں کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔سخت ترین کرفیو ،پابندیوں اور بندشوں کے باوجود جنوبی قصبہ ترال کے نودل اور آری گام میںاحتجاج کیا گیا۔شہر کے کرسو پادشاہی باغ میں نوجوانوں نے جلوس برآمد کرنے کی کوشش کی،جبکہ فورسز کے ساتھ آمنا سامنا ہونے کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ مہجور نگر میں بھی فورسز اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔جوگی لنکر میں نوجوانوں نے فورسز پر پتھرائو کیا جبکہ فورسز نے ٹیر گیس کے گولے داغے۔ ریلوے برج راولپورہ میں پتھرائو کیا گیا جبکہ بیگ پورہ باغ مہتاب میں بھی پتھرائو کیا گیا۔کشمیر یونیورسٹی کے طلاب نے بھی برہان وانی کی دوسری برسی کے موقعے پر احتجاجی مظاہرے کئے ۔انہوں نے اپنے ہاتھوں میں برہان وانی کے تصاویر والے بینر بھی اٹھا رکھے تھے ۔۔لبریشن فر نٹ کے اہتمام سے مائسمہ میں نماز ِ ظہر کے موقعے پر عام شہریوں کے حق میں غائبا نہ نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ کولگام میں فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے کمسن طالبہ سمیت 3عام شہریوں کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی ۔نامہ نگار خالد جاوید کے مطابق ضلع کے ملہ پورہ میں نوجوانوں نے فورسز پر پتھرائو کیا،جبکہ فورسز نے جوابی سنگبازی کی۔

 مزاحمتی قیادت نظر بند

 برہان وانی کی دوسری برسی کے موقعہ پر انتظامیہ نے کئی روز قبل ہی مزاحمتی لیڈروں کے خلاف کریک ڈائون کرنے کا سلسلہ شروع کیا،جس کے نتیجے میںدرجنوں مزاحمتی لیڈروں اور کارکنوں کو خانہ وتھانہ نظر بند رکھا گیا۔سید علی گیلانی مسلسل گھر میں نظر بند ہیں جبکہ میرواعظ عمر فاروق اور محمد اشرف صحرائی کو بھی گزشتہ دنوں سے گھر میں نظر بند رکھا گیا۔ محمد یاسین ملک ، شوکت احمد بخشی،محمد یاسین عطائی،عمر عادل ،امتیازحیدر،بشیر احمد بڈگامی،محمد یوسف،فردوس احمد شاہ،شکیل احمد بٹ،ظہور احمد کنہ،عابد ملک کو جیلوں اور تھانوں میں نظر بند رکھا گیا ہے۔اس دوران وادی میں مسلسل دوسرے روز ریل اور انٹرنیٹ سروس معطل رکھی گئی۔

بانہال

محمد تسکین کے مطابق بانہال اور اس کے مضافاتی علاقوں میں مکمل ہڑتال کی گئی جس کی وجہ سے معمول کی زندگی متاثر ہو کر رہ گئی۔ لوگوں نے کشمیر میں  نہتے اور معصوم شہریوںکی ہلاکتوں کی مذمت کی ۔ قصبہ بانہال کے درشی پورہ ، چریل ، ٹھٹٹھار، نوگام ، کسکوٹ ، ریلوے سٹیشن وغیرہ میں مکمل ہڑتال کی گئی ۔ پورے بانہال میں تمام دکانیں ، کاروباری ادارے مکمل طور پر بند رہے اور مقامی ٹریفک بھی سڑکوں سے غائب رہا۔ قصبے میں سڑکیں اور گلیاں سنسان تھیں۔ائمہ کرام اور عام لوگوں نے کولگام میں فورسز کی فائرنگ میں ایک بچی سمیت تین نوجوانوں کی بے دردانہ ہلاکت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان بیہمانہ ہلاکتوں اور تشدد کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کے جاری سلسلے کوفوری طور  بند کرنے چاہیے۔

بھدرواہ

طاہر ندیم خان کے مطابق بھدرواہ میںکولگام میں فورسز کی طرف سے کی گئی فائرنگ میں ہوئی شہری ہلاکتوں اور عسکری کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی کے سلسلہ میں انجمن اسلامیہ بھدرواہ نے بندکال دی تھی۔بھدرواہ قصبہ اور قرب و جوار میں تمام دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے جب کہ سڑکوں پر ٹریفک بھی بہت کم تھا۔ بند کال کے پیش نظر قصبہ اور گرد و نواح کے علاقوں میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، حساس علاقوں میں بھاری نفری تعینات تھی۔ ایڈیشن ایس پی بھدرواہ راجندر سنگھ نے بتایا کہ پولیس، آئی آر پی ، آڑمد پولیس اور سی آر پی ایف کی اضافی ٹکڑیاں تعینات کی گئی تھیں، حساس علاقوں پر خصوصی نظر رکھی گئی تاہم جوانوں اور افسران کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ حد درجہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔

رام بن

ایم ایم پرویزکے مطابق حزب کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی پر جموں سرینگر شاہراہ پر پابندیاں عائد رہیں۔ایک پولیس افسر نے بتایا کہ سیکورٹی وجوہات کے پیش نظر ،بالخصوص امرناتھ یاترا اور سیاحوں کی گاڑیوں کو وادی کی طرف نہیں جانے دیا گیا اور انہیں متعدد مقامات پر روک دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ شیطانی نالہ میں ایک خصوصی ناکہ نصب کیا گیا تھا اور وہاں سے کسی بھی گاڑی کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تاہم اتوار کوبعددوپہر 2:30بجے مقامی گاڑیوں وادی کی طرف جانے والی گاڑیوں ، جن میں مال بردار گاڑیاں بھی شامل تھیں کو اپنی اپنی منزل کی طرف جانے کی اجازت دے دی گئی البتہ یاتریوں اور سیاحوں کی کسی بھی گاڑی کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔