تازہ ترین

موبائیل کے خرافات

فتنہ فساد اورہجو می قتل

6 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد ہاشم قادری مصباحی۔۔۔ جمشیدپور
 اللہ رب العزت  نے دنیا تخلیق فر مائی اور انسانوں کو اشرف ا لمخلو قات ہونے کا شرف بخشااور علم و دماغ جیسی نعمت بھی عطا فر مائی، یہ رب کریم کا احسان عظیم ہے۔علم اور دماغی قوت سے انسان ترقی کی سیڑ ھیاں طے کرتے کرتے مریخ کا سفر ، چاند پر کمند اور اَن گنت نئی نئی ایجاد کرتے جا رہا ہے ،جس کے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی۔ جہاں آرام دہ اورتیز رفتارسفر کے لئے ہوائی جہاز بنائے، وہیں اویکس (Ovix)میراج29 اور ڈرون(Drone) جیسے حملہ آور بمبار طیار وں سے انسانیت پر ظلم کے پہاڑ گرا نے میں ساری حدیں پار کر دی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں مہلک ہتھیا روں کی اتنی مقدار مو جود ہے کہ پوری دنیا 29بار ان ہتھیا روں سے نیست ونا بود ہو سکتی ہے ۔اس میں روز بروز اضا فہ ہی ہو رہا ہے، اللہ رب ا لعزت نے انسانوں کو زینہ بزینہ ترقی دینے کا وعدہ فر مایا۔( القرآن، سورہ نحل16،آیت8): تر جمہ : اسی نے گھوڑے اور خچر پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ تمہاری رونق بنیں۔ وہ اور بہت سی چیزیں(تمہارے فائدے کے لیے) پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم تک نہیںہے۔۔۔ رب تبارک و تعا لیٰ نے انسانوں کو بتد ریج، رفتہ رفتہ، زینہ بزینہ، در جہ بدرجہ ترقی دینے کا وعدہ فر مایا، اللہ ہی کی دی ہو ئی نعمت علم وعقل سے انسان نے ایسی ایجادات کی ہیں جن کے لاتعداد فائدے ہیں لیکن یقینا اس میں بے شمار نقصا نات بھی ہیں۔
بڑ ھتے ہوئے جرائم کا ذمہ دارسوشل میڈیا اورحکومت: دور جدید کی حیرت انگیز ایجاد مو بائل ہے جو کہ موجودہ زمانہ کی ناگزیر چیز بن گئی ہے ۔امیر، غریب ،بچہ، جوان، بوڑھا، کسان سے لے کر پائلٹ تک اس کا گر ویدہ بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ اس کا غلام بن گیا ہے، نو جوان نسل کی بر بادی میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے جدید مواصلاتی نظام نے جہاں انقلاب بر پا کیا ہے، وہیں سینکڑوں مسائل بھی پیدا کر دئے ہیں جن کا حل ڈھونڈنا انتہائی ضرو ری ہے۔ اگر ان مسائل یا آفات وبلیات کا حل ڈھونڈانہ گیا تو آگے اور زیادہ تباہی آئے گی اور اس سے کوئی بھی نہیں بچے گا،آج واٹس ایپ، انسٹا گرام، یو ٹیوب، ٹیلی گرام وغیرہ وغیرہ کے ذریعہ جہاں اپنی بات دوسروں تک جلد پہچانا بہت آسان اور فائدے مند ہے،وہیں یہ ذرائع انسانی ہلاکتوں کے بھی ذمہ دار ہیں ،اسی سے حضرت انسان جو اشرف المخلوق ہے ، قدم قدم پر لمحہ بہ لمحہ جھوٹی خبریں گندی چیزیں پھیلا تاجارہا ہے۔ اسی میں ایک جدیداضافہ ماب لنچنگ((mob lynching  جیسا خطر ناک معا ملہ بھی شامل ہے۔ جب سے سنٹر اور صوبوں میں بی جی پی کی حکو متیں بنی ہیں پورے ملک میں اقلیتوں پر طرح طرح کے بہانوں سے حملہ کرکے جا ن سے مار دینا ایک فیشن سا بن گیا ہے ۔ڈھٹا ئی،بے شر می، بے خوفی،ہٹ دھر می کا یہ حال ہے کہ مار نے کے بعد خود مجرمین ویڈیو بناکرسوشل میڈیا پر جاری کرتے ہیںتاکہ پورے بھارت میںا قلیتوں کو ڈرا یا دھمکایا جاسکے۔ ان کو یہ زعم پیدا ہو گیا ہے ’’سیاں بھئے کوتوال تو ڈر کا ہے کا‘‘قا نون کے رکھ والے ان کے چہیتے ہیں ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے، گائے کے نام پر، بچہ چوری کے نام پر ،ٹرینوں میں سیٹ کے جھگڑے میں طرح طرح سے مسلمانوں کو مارا جا رہا ہے۔ اب تک موب لنچنگ (بھیڑ کی ہاتھا پائی سے کسی معصوم انسان کی جان لینا)میں 100 سے زیادہ موتیں واقع ہو چکی ہیں، ان میں80 فیصد مسلمان ہیں۔سوشل میڈیانے تو ساری حدیں پار کر دی ہیں کوئی خبر آئی یا پھر غلط خبر ہی کیوں نہ ہو فوراً بھیجنا(Share) کر نا، دل و ماغ سے بغیر سوچے سمجھے ایک سیکنڈ بھی ضائع کئے بغیر ڈاکیہ کا کام کر نے لگتے ہیں ۔واضح رہے ڈاکیئے کا کام ہے جو چیز اسے پہنچا نے کے لیے دی جائے وہ اس چیز کو اسی کو دے جسے دینا ہے، نہ کہ وہ ساری دنیا کو بانٹتا پھرے ،کو ئی خبر کوئی اطلاع کسی بھی انسان کے پاس آئی تو سب سے پہلے اطلاع پانے والے انسان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ یہ پتہ لگا ئے کی یہ اطلا ع (information ) صحیح ہے یا جھوٹ ہے، اس کی تحقیق کرے۔ اگر غلط ہے تو سب سے پہلے اطلاع بھیجنے والے سے بات کرے اور سختی سے منع کرے کہ آئندہ قطعی ہم تک جھوٹی باتیں نہ بھیجیں۔حضرت سلیمان علیہ ا لسلام کے پاس جب ان کا پالتو پرندہ ہد ہد جو ان کی خد مت پر مامور تھا، اطلاع لا یا جس کا ذکر قرآن مجید میں  ہے۔ ہد ہد پرندہ بھی خبروں کو بیان کر نے میں اصول وضوابط کا پابند تھا، چنانچہ اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا: ( القر آن، سورہ نمل27،آیت22) ترجمہ: ’’میں سبا کے متعلق ایک یقینی خبر لایاہوں‘‘۔ یہا ں ہد ہد نے یہ نہیں کہا کہ میں نے یہ سنا ہے یا ایسا پڑھا ہے یا مجھے ایسی خبر پہنچی ہے۔ اسی طرح ہدہد کی خبر کے تئیں حضرت سلیمان علیہ ا لسلام کا موقف بھی آج کے لوگوں یا ہماری طرح نہیں تھا کہ کوئی خبر ملنے کے بعد فوراً آگے  Forward  کردیں یا اسے copy paste کر نے لگیں بلکہ ہد ہد کی خبر سننے کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے فر مایا:( القرآن،سورہ نمل27،آیت27)سلیمان (علیہ ا لسلام) نے کہا’’ ابھی ہم دیکھے لیتے ہیں کہ تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے‘‘۔ قر آن کریم سے یہ معلوم ہوا کہ خبر کی تحقیق کرنا اور اس کی سچائی یا جھوٹ کا پتہ لگانا یہ انبیائے کرام   ؑکا طریقہ کار رہا ہے۔ اس لیے ہم کو آپ کو بھی چا ہیے کوئی بھی ایسی خبر ادھر ادھر نہ پھیلائیں جس کی سچائی کا علم اور یقین ہمیں اور آپ کو نہ ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر وہ خبر سچ بھی ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خبر اس پیغام کو دیکھے سمجھے کہ اس پیغام(Massage) کو دوسروں کو پہنچا نا فائدہ مند ہے یا نہیں، کہیںاس خبر سے فتنہ فساد نہ پھیل جائے، یہ پہلے ہی خوب اچھی طرح سوچیں۔سوشل میڈیا میں جو پیغام آتے ہیں ،اس کے یوزر زیا دہ تر جلد باز ہو تے ہیں ادھر مسیج آیا اور لگے ادھر فاروڈ کرنے، سب سے پہلے بھیج کراپنے کو بڑا تیس مار خان سمجھتے ہیں اور اس کا کر یڈٹ اپنے نام کر نا چاہتے ہیں، یہ نہیں سوچتے کہ یہ پیغام آن کے آن سکنڈوں میں تمام دنیا میں پہنچ جا تا ہے اور پھر یہی نہیں جن تک یہ پیغام پہنچتا ہے وہ بھی دوسروں تک پہنچانے میں ذر ادیر نہیں لگا تے، دوسروں تک آگے(forward) کر نے میں اور آپ کا بھیجا ہوا پیغام سینکڑوں، ہزا روں لو گوں تک پہنچ جاتا ہے ،پھر اس جھوٹی خبر سے کتنے مسائل پیدا ہو رہے ہیں؟ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے، جھوٹ اور فتنے کی بات پھیلانا کتنا گناہ ہو تا ہے معلوم ہے؟ آپ کو ذرا سوچئے ،قرآن کریم میں رب ذو الجلال کا فر مان ہے۔  (القر آن ، سورہ نمل27،آیت105 ) تر جمہ: جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی وہی جھو ٹے ہیں،(کنز الایمان) ایک جگہ ہے لعنۃ اللہ علی الکذ بین۔ جھو ٹوں پر اللہ کی لعنت ہے ، وارد ہواہے ۔ جس پر اللہ کی لعنت ہو گی وہ کیسے فلاح پائے گا۔ حدیث پاک ہے۔یحیٰ بن یحیٰ، سلیمان تیمی، ابو عثمان ہدی ، کی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر مایا: آ دمی کے لیے جھو ٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے( جس کی بنا پر وہ جھوٹا قرار دیاجاسکتا ہے) کہ ہر سنی ہوئی بات بیان کردے۔(صحیح مسلم،باب ہر سنی ہوئی بات بیان کر نے کی مما نعت ،حدیث 9)دوسری حدیث حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا:آدمی کے جھو ٹے ہونے میں یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے۔ ( صحیح مسلم، حدیث 11) ۔جھوٹ اتنا بڑا گناہ ہے کہ ربِ ذوالجلال کی اس پر لعنت ہے۔ جھوٹ ایک ایسا متعدی مرض ہے و ائرس(virus ) زہریلا مادہ کی طرح تیزی سے پھیلتا ہے، جھوٹ بھی سائبر کرائم کی طرح ایک جرم ہے ،واٹس ایپ کے جھوٹے مسیجوں نے کتنے معصوموں کی جان لے لی ہے، کتنوں کی عزتیں لیں، کتنوں سے ناقابل معافی گناہ کروائے، سوشل(social media) کے ذریعہ جھوٹ اور فتنہ پروری کو بری طرح سے بڑھا وا مل رہاہے ۔آپ دیکھیں جھوٹے مسیج بھیج کر بھیڑ اکٹھا کرنا ،ماب لنچنگ ، جنونی بھیڑ کے ذریعہ کہیں بچہ چوری کے نام پر، کہیں گئو ہتھیا کے بہانے، کہیں گائے کے گوشت کی گھر میں موجودگی کا بہانہ تراش کر زیا دہ تر مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ مارا جارہا ہے اور حکو متیںاور پولیس ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کے مصداق اندھی بہری بنی ہوئی ہیں، یہ ظلم و نا انصافی اب ساری حدیں پار کر تی جارہی ہے ۔یہ صورت حال ہمارے پیارے ملک ہندوستان میں پیاری پیاری گنگا جمنی تہذ یب کو بر باد کر رہی ہے ۔ یاد رکھئے یہ مارا ماری صرف مسلمان کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے ملک  وقوم کے لئے خسران و نقصان ہے ۔تازہ واقعہ ہا پوڑ ضلع کے پلکھوا علاقے کے بچھیڑا گائوں میں وقوع پذیر ہو ا۔ ایک مسلمان اپنے کھیت میں سے گھسی گائے کو کھیت سے با ہر کر رہا تھا کہ کسی نے فوٹو لے کر اسے واٹس ایپ پر لوڈ کر دیا کہ یہ شخص گائے کی تسکری کر رہا ہے، آن واحد میںوہاں جنونی بھیڑ جمع ہو گئی اور قا سم اور اس کے ساتھی کو مار مار کر شدید زخمی کر دیا۔ قاسم کی موت کھیت میں ہی واقع ہوگئی اور دوسرا ساتھی سیریس ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ہندو توا دہشت گردی کا، ملک کے حالات اس حوالے سے بہت ہی خراب ہیں۔ اس تعلق سے جرائم کا بڑھتا ہواگراف ارباب حکو مت کے لیے اہم چیلنج ہے لیکن  بھگوا حکومت نے اپنی آنکھوں پر پٹی ، دل پر قفل ، دماغ پر تالا چڑھایا ہے ،اس لئے اصلاح احوال کے لئے حرکت کر نا خلافِ شان سمجھتی ہے۔ آخر پر مو بائل کی مفید سہولیات کو غلط اور غیر مفید کاموں میں چلانے والوں کے لئے ناصحانہ انتباہ ہے کہ وہ بہت  ہی احتیاط اور سوچ سمجھ کر ہی پیغامات فار وڈ کر نے کی عادت ڈالیں تا کہ کسی غلط خبر اور مجرمانہ اطلاع سے سماج پر بُرااثر نہ پڑے ۔ افسوس صدافسوس سنگھ پریوار اپنی ووٹ بنک سیاست کے پیش نظر کوئی بھی اچھی بات سننے اور سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیںہے ۔ نیز آج کے کل یُگ میں جسے دیکھو ہاتھ میں موبائل ہے اور فضول چیٹنگ میں لگا ہے، بغیر سوچے سمجھے مسیج بھیجنے میں لگا ہے۔ اس طرز عمل سے حادثات بھی ہورہے ہیں اور فسادات بھی پھوٹ پڑتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ ایسے فالتو کا موںسے باز آئیں اور دوسروں کو بھی سنجید گی سے اور پیار سے سمجھائیں کہ اس گناہ بے لذت سے پر ہیز کریں۔ اس طرح کے گناہوں کی ایک بہت لمبی فہرست ہے جس میںجھوٹ پھیلا نا، جھوٹی گواہی دینا، فحش گو ئی، فحش گندی تصویریں دیکھنا  شامل ہیں اوریہ سب گناہِ کبیرہ ہیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایاـ: جھوٹ گنا ہوں کی جڑ ہے اور جھوٹ گناہوں کی کھیتی کو ہرا بھرا کر دیتا ہے۔۔۔ اتنے بڑے گناہ کر نے والے کو کیا ملتا ہے؟ ذلت ورسوائی اور آخرت کی سزائے سخت۔ اللہ ہم سب کو ان ناقابل معافی گناہوں سے بچنے کی تو فیق عطا فر مائے۔ آ مین ثم آمین
( Mob.:09386379632) e-mail: hhmhashim786@gmail.com