تازہ ترین

بلیوارڈ روڑ پر جگہ جگہ میگڈم اکھڑگیا

گہرے کھڈ بن جانے سے سیاح اور عوام مشکلات سے دوچار

9 جولائی 2018 (29 : 01 AM)   
(      )

سٹی رپورٹر
 سرینگر //جھیل ڈل کی خوبصورتی دنیا کے کونے کونے سے سیاحوں کو کھینچ کر یہاں لارہی ہے مگر ڈلگیٹ سے نشاط ،شالیمار اور نسیم باغ سڑک جسے بلیوارڈ بلواڑ روڑ کا نام دیا گیا ہے، پر کئی ایک مقامات پر گہرے کھڈوں نے نہ صرف غیر ریاستی سیاحوں کو بلکہ مقامی لوگوں کو بھی پریشان کر رکھا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑک پر اگرچہ ان تین برسوں میں دو سے تین بار تارکول بچھایا گیا لیکن یہ سرما میں بارشوں اور برف باری کے بعد اکھڑ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سڑک کے مختلف مقامات پر دوبارہ گہرے کھڈے پیدا ہو گئے ہیں۔ڈل میں شکارہ چلانے والے علی محمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اُن کھڈوں کو بھرنے کے حوالے سے سرکاری اور انتظامیہ کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ڈل جھیل کو دیکھنے ہزاروں سیاح یہاں آتے ہیں لیکن انہیں بلیوارڈ سڑک پر پیدا ہوئے گہرے کھڈوں سے کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ واضح رہے کہ سرکار ایک طرف یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ریاست میں سیاحتی سرگرمیوں کو بحال کرنے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور سیاحوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہے وہیں سرکار کی جانب سے سیاحوں کو فراہم ہو رہی سہولیات کا اندازہ بلیوارڑ سڑک پر سفر کرنے کے دوران ہی لگایا جا سکتا ہے جہاں ہر دو سے تین میٹر کے بعد سڑک پر گہرے کھڈے ملیں گے۔کئی ایک سیاحوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ڈل جھیل کا نظارہ خوبصورت ہے لیکن ڈل کے آس پاس کی سڑک پر گہرے کھڈوں نے اس کی خوبصورتی پر داغ لگا دئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کا ڈل جھیل ایسی سیر گاہ ہے جہاں سیاح اُس کو دیکھنے کیلئے کھینچے چلے آتے ہیں اور سرکار پر یہ لازمی بنتا ہے کہ اس سڑک کو کشادہ بنانے کے ساتھ ساتھ سڑک پر پیدا ہوئے گہرے کھڈوں کو بھرا جائے تاکہ اس کا نظارہ کرنے والے سیاحوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ مقامی سیاحوں اور عام شہریوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سڑک پر نئے سرے سے تارکول بچھا کر اُس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں تاکہ سیاحوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔