تازہ ترین

کٹھوعہ سانحہ سے متعلق ملزمین کے وکیل کابیان کی مذمت

گوجربکروال طبقہ نے جھوٹ کاپلندہ قراردیا

9 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
جموں؍کٹھوعہ میں چند ماہ قبل پیش آئے واقعے میں ملوث ملزمان کے وکیل نے اتوار کو متنازعہ بیان دیکر دعویٰ کیا’ کہ بچی کے ساتھ نہ عصمت دری ہوئی اور نا ہی قتل کیا گیا ۔ وکیل نے مزید کہا کہ علاقے میں ہندوئوںکو کمزور کرنے اور جنگلی اراضی ہڑپ کرنے کی غرض سے لاش کو پلانٹ کرنے کا دعوی کیا ۔ جس پر گوجر بکروال طبقے نے بیان شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے وکیل کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ کشمیر نیوز سروس (کے این ایس )کے مطابق جموں صوبہ کے کٹھوعہ علاقے میںجنوری مہینے کے دوران ایک 8سالہ بچی کو عصمت دری کے بعد قتل کرنے والے ملزمان کے وکیل انکر شرما نے اتوار کے روز جموں کے پرس کلب میں ایک پرس کانفرنس دوران ایک متنازعہ بیاندیا جہاں انہوں نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ ’’ضلع کٹھوعہ کے رسانہ میں گجربکروال طبقے سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ بچی کا کوئی ریپ اور قتل نہیں ہوا بلکہ وہاں لاش کو پلانٹ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ لاش کو پلانٹ کرنے کا مقصد رسانہ کے ہندوؤں کو کمزور کرکے وہاں کی جنگلی اراضی پر قبضہ جمانا تھا۔خیال رہے واقعے کے متعلق ریاست کے معتبر تحقیقاتی ادارے کرائم برانچ نے پہلے ہی ثابت کیا تھا کہ مزکورہ لوگوںنے بچی کو عصمت دری کے بعد قتل کیا تھا جبکہ حال ہی میں فارنسک لباٹری کی جانب سے آئے رپوٹ یہ ثابت ہوا تھا ’’بچی کو پہلے ایک خاص قسم کی نشیلی ادویات کھلا یا گیا جس کی وجہ سے بچی قوما میں چلی جانے کے بعد عصمت دری اور بعد میں قتل کیا گیا تھا ۔‘‘پرس کانفرنس میں ملزمان کے ولیک کی جانب سے بیان منظر عام پر آنے کے بعد جموں کشمیر گوجر بکروال طبقے نے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے وکیل کے بیان کو سراسر جھوٹ قرار دیتے ہوئے ولیل کے خلاف فوری کاروائی کامطالبہ کیا ہے ادھر ممبر اسمبلی راجوری چودھری قمر الدین کے این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بیان پر شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کے زخموںپر نمک چھڑکنے کے برابر ہے انہوں نے کہا واقعے کو ریاست کے اہم تحقیقاتی ادارے اور فارنسک رپوٹ سے پہلے ہی یہ بات سامنے آئے ہے کہ ملزمان نے کس طرح وحشیانہ طریقے سے معصوم بچی کو ادویات کھلا کر بے ہوش کرنے کے بعد عصمت دری اور میں قتل کیا گیا تھا جس کو دیکھ اور سن کر انسان کی روح کانپ اٹھتی ہے انہوں نے کہا وکیل اپنے مقاصد کی خاطر ایسے بیان دے رہا ہے انہوں کہا ولیل کے خلاف فوری طور کاروائی ہونے چاہے۔ادھر جموں کشمیر گوجر بکروال کانفرنس کے جنرل سیکرٹری محمد یاسین پسوال نے کے این ایس کو فون پر بتایا ایک وکیل کا بیان سفید جوٹ ہے جبکہ واقعے کے متعلق پہلے ہی دو معتبر اداروں کی جانب سے رپوٹ سامنے آئے ہیں انہوںنے کہا ہمیں عدلیہ اور قانون پر پورا بھروسے ہے کہ متاثرین کو ہر حال میں انصاف ملے گا۔خیال رہے جموں صوبے کے کٹھوعہ علاقے میں ایک ایس پی اور اسکے ایک ساتھی نے علاقے سے تعلق رکھنے والے گوجر بکروال طبقے کی ایک 8سالہ بچی کو جنوری2018میں مندر مندر میںپہلے بچی کو نشیلی ادویات کھلایا گیا اور اسکے بعد عصمت دری کر کے بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا ۔جس کے ساتھ ہی پوری ریاست میں احتجاوں کی لہر دوڑ گئے جہاں بعد میں پولیس نے دو افراد کو گرفتار کیا تھا جو دونوں فلحال جیل میں قید ہیں ۔