تازہ ترین

نیکی کردریا میں ڈال

کہانی

29 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

وحشی سعید
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب فتح کدل تھرڈ برج کہلاتا تھا۔ شہرئہ آفاق تھرڈ برج یورپ ، امریکہ ، آسٹریلیا ، افریقہ ، ایشیاء میں اس لئے مشہور تھا کہ یہاں کشمیر کی دست کاریوں کے خزانے مثلاً رفل ، پشمینہ اور شاہ توس کے شال،ہاتھوں سے بنے ہوئے نہایت باریک اورعمدہ قالین ، اخروٹ کی لکڑی سے بنی شاہکار چیزیں، تانبے پر نقش کئے ہوئے برتن ، پیپر ماشی کی چیزوں پر رنگوں سے لکھی ہوئی ہزار داستان کی دنیا ۔ ۔ اور نہ جانے کیا کیا کچھ تھا۔  
دست کاریوںکے یہ خزانے جہلم کے دونوں کناروں پر عالی شان عمارتوں میںبنے ہوئے بڑے بڑے شوروموں میںدستیاب تھے۔ ان شوروموں کے آگے جہلم کو چھوتے ہوئے شکارہ گھاٹ تھے۔ ہر شوروم کا اپنا ایک علیحدہ گھاٹ ہوا کرتا تھا اور وہ شکارے، جن میں جہلم اورڈل جھیل کے ہائوس بوٹوں میں قیام کرنے والے سیاح وارد ہوتے تھے، ان گھاٹوں پر رُک جاتے تھے اورشوروموں کی زینت بڑھاتے تھے۔
تھرڑ برج کی اپنی ایک تاریخی حیثیت تھی۔ صدیوں پہلے فتح محمد خان کا بنایا ہوا یہ پل شہر خاص کے دونوںا طرف کی بستیوں کو ملانے میںایک کلیدی حیثیت رکھتا تھا۔ دیودار کی لکڑی سے بنا ہوا یہ پل فن تعمیر کا بے مثال نمونہ تھا۔ اس پُل کی ایک طرف خانقاہ معلی، کلاش پورہ، نائیدکدل اور دوسری جانب تاشوان، پتھر مسجد، زینہ کدل تھے۔ یعنی تھرڑ برج کی اپنی ایک دنیا تھی۔ شہرخاص کے نائید کدل کا چھوٹا پل نالہ مار پر بنا ہوا تھا۔ اس علاقے میں میرے دادا رہتے تھے۔ میں ان کا لاڑلا پیارا پوتا، چار سا ل کی عمر سے اُن کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے تھرڈ برج پر اُن کے بنے ہوئے شوروم پر جاتا تھا۔ یہ سلسلہ گیارہ سال تک چلتا رہا۔ اس شوروم میں میری ملاقات’’ داستاں گو‘‘ سے ہوئی ۔ داستاں گو ہر شام دادا کے پاس آتے تھے ۔ مجھے ہر روز ایک نئی کہانی سناتے تھے۔ یہیں سے مجھ میں کہانی سننے اور سنانے کاشوق پیدا ہوگیا۔ داستاں گو نے مجھے ایک شام حاتم طائی کی کہانی سنائی۔ اس کا یہ سوال کہ ’’نیکی کر دریا میں ڈال‘‘ بہت دنوں تک میرے ذہن میں گھومتا رہا۔ آج تک یہ سوال نیکی کر دریا میں ڈال۔ میرے لئے ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ وہ رہزن جو رات کے اندھیرے میں چوریاں کرتا تھا ، صبح اُس لوٹی ہوئی رقم سے کچھ روٹیاں خرید کر اُن کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے دریا کے کنارے مچھلیوں کو کھلاتا تھا۔ یہ عمل وہ بلا ناغہ ہر روز کرتا تھا۔ ایک دن رہزن نے کھلی آنکوں سے ایک خواب دیکھا  ۔  ۔  ۔۔۔؟!
 اُس کے داہنے کندھے کے قریب دو روحیں آکر کھڑی ہوگئیں اور کہنے لگیں۔۔۔۔؟!
’’ تم نے جن گھروں کو لوٹا ہے ، اُن گھروں میں ماتم چھاگیاہے۔ خوشیاں سسکیوں میں تبدیل ہوگئیں ہیں۔ تم زمین پر زمین والوں کے لئے عذاب بن گئے ہو۔ اس لئے تمہارے لئے حکم ہوا ہے کہ تمہیں اس دنیا سے اُٹھا کر جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے‘‘
     رہزن کی آنکھوں میں آنسو سیلاب بن کے اُمڑ آئے ۔ وہ روحوں کے ساتھ انکساری سے مخاطب ہوگیا۔ مجھے کچھ اور وقت دیا جائے  تاکہ میں اپنی غلطیوں کا ازالہ کرسکوں۔ اس سے پہلے کہ دو روحیں کچھ اور کہتیں ، رہزن کے بائیں کندھے کے قریب دو اور روحیں نمودار ہوگئیں۔  ۔  ۔۔۔۔۔۔۔!
’’ اے رہزن !اللہ کو تمہاری یہ ادا پسند آئی ہے کہ تم بلا ناغہ ہر دن مچھلیوں کو روٹیاں کھلاتے ہو۔اس لئے تمہاری التجا قبول ہوگئی ہے۔ تمہیں ایک اور موقعہ دیا جاتا ہے کہ تم اپنی غلطیوں کا ازالہ کرو۔ تمہیں واپس دنیا میں لوٹا دیا جاتا ہے‘‘
رہزن نے اپنی کھلی آنکھوں میں اس خواب کو بسالیا۔ اللہ کے حضور میں نماز شکرانہ ادا کی۔ اب وہ صبح اُٹھتا تھا اور عبادت کے بعد مزدوری کے لئے چلا جاتا تھا۔ جوبھی کماتا اُس میں سے صرف اُتنا اپنے پاس رکھتا جس سے اُس کا گزربسر ہوسکے۔ باقی پیسوں کی وہ روٹیاں خریدکر ، اُن کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے مچھلیوں کو کھلادیتا تھا۔ اس عمل میںاُسے وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہیں رہتا تھا ۔ ایک مرتبہ وہ ساری رات مچھلیوں کو روٹیاں کھلاتا رہا۔ صبح جب سورج کی کرنیں پھوٹیں،اچانک مچھلیوں نے اُس کی جانب اشرفیاں پھینکنی شروع کیں۔ اُس نے انہیں اللہ کا دیا ہوا تحفہ سمجھ کر جمع کیا اور اللہ کے حضور ایک بار پھر نماز شکرانہ ادا کیا۔ کچھ عرصے کے بعد رہزن اس شہر کا سب سے امیرترین شخص کہلایا جانے لگا۔لوگوں نے اُس کو ’رہرو‘ کا نام دیا۔ اُس نے شہر میں سب سے بڑی اور شاندار حویلی تعمیر کی۔ دور دور سے لوگ آتے تھے اور اُس کی حویلی کو دیکھ کر رشک کرتے تھے ۔ رہزن نے اُس حویلی پر ایک تختی آویزاں کی ۔ تختی پر یہ عبارت لکھوائی گئی تھی  ۔۔۔۔  ’نیکی کر دریا میں ڈال ‘  ۔۔۔۔   لوگ اسے دیکھ کر حیرت میں پڑ جاتے تھے۔
یہ اُن دنوںکی بات ہے جب شہر ِجدید کی بنیاد پڑرہی تھی۔ اُس کی شروعات تارکول کی مضبوط سڑکوں سے ہوئی۔ بڑی بڑی سرکاری عمارتیں ،ڈل جھیل میں فن کاری کے ایک سے ایک شاہکار ہائوس بوٹوںمیں اضافہ ہوتا رہا۔ گگری بل اب بلیوارڈ کے نام سے مشہور ہوگیا تھا۔ جہاں دور دور سے عمارتیںنظر نہیں آتی تھیں اب وہاں بڑی بڑی عمارتیں تعمیر ہورہی تھیں۔ اب تانگوں والی سواریاں بھی ناپید ہوگئی تھیں،
 ٹیکسیوں اور گاڑیوں کی بہتات ہوگئی تھی۔ ایک نیا کلچر اور ایک نئی تہذیب اُبھرنے لگی تھی۔ اُن ہی دنوں میرے دادا کا ہاتھ میرے ہاتھ سے پھسل گیا۔ داستاں گو خاموش ہوگیا۔
دادا مرحوم کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ کیا بچے ،کیابوڑھے ،کیا نوجوان ،کیا عورتیں سب سوگوار تھے۔ کئی زاروقطار رورہے تھے۔ اُن میں سے جو میرے پاس سے گزرتا ، میرے کان میں کہتا حاتم آتے ہی ہیںچلے جانے کے لئے۔
دادا  مرحوم چلے گئے۔ شہر خاص مجھ سے چھوٹ گیا۔ میں شہر خاص سے شہر جدیدمیں آگیا ۔ شہر جدید میں بلیوارڈ پر بنے والد کے آفس میں،میں بیٹھا ہوا تھا جب قانون گو سے میری پہلی شناسائی ہوئی۔ یوں تو اُنہوںنے قانون کی ڈگریاں حاصل کی تھیں۔ ہر صبح عدالت جاتے اور شام کو وہاں سے خالی ہاتھ واپس لوٹتے۔ قانون گو زندگی کے تلخ واقعات میرے والد کے سامنے بیان کرررہے تھے  ۔ 
’’نہ جانے کب مجھ پر یہ آشکارا ہوا کہ جب میری یہ حالت ہے تو اُن بچوں کی کیا حالت ہوگی جن کے والدین اُن سے بچھڑ گئے ہیں ،جن کے رشتہ داروں نے اُن سے منہ موڑ لیا ہے، میں اُن کے لئے کچھ نہ کر پایا، لیکن آپ لوگوں کی وساطت سے، ان بچوں کے لئے کچھ کرنے کی غرض سے ’’راحت‘‘ کی بنیاد ڈال دی‘‘ 
پچیس سال گزر گئے تھے اور میں اب چالیس سال کا ہوگیاتھاکہ ایک دن قانون گو اپنے بیٹے کے ساتھ میرے والد سے ملنے آگئے اور کہنے لگے ۔ مجھے جو کچھ کرنا تھا میں نے کیا اور آگے جو کچھ کرنا ہے وہ میرے بیٹے کو کرنا ہوگا۔ 
’’گفتگو ‘‘میرے والد صاحب سے مخاطب ہوگئے ۔  
’’سر ! میں ایک ٹرسٹ بنانا چاہتا ہوں‘‘  پھر وہ تفصیل سے ٹرسٹ کے اغراض ومقاصد سمجھاتے ہوئے میرے والد سے کہنے لگے ۔  
 ’’سر میں نے ٹرسٹیوں میں آپ کا نام بھی رکھا ہے‘‘ 
والد صاحب نہایت ہی انکساری کے ساتھ کہنے لگے ۔  
’’بیٹا ، میں اپنی دنیا میں مطمئن ہوں ۔مجھے اسی دنیا میں رہنے دو‘‘
اُس دن کے بعد نہ قانون گو اور نہ گفتگو والد صاحب کے پاس آئے۔ البتہ گفتگو شہر کے اہم فرد بن کر اُبھرے ۔ اُنہوں نے ٹرسٹ بنایا ۔ شہر کے اہم اشخاص اس ٹرسٹ کے ٹرسٹی بن گئے ۔ وقت بھاگتا رہا۔ لیکن گفتگو وقت سے بھی تیز بھاگ رہا تھا۔ ’’راحت‘‘ ایک نام بن کر اُبھرا۔ میرے والد کا انتقال ہوگیا، اور قانون گو بھی یہ دنیا چھوڑ کر چلے گئے۔ گفتگو کے ٹرسٹ کے ٹرسٹی بدلتے رہے لیکن گفتگو کی رفتا دھیمی نہ ہوئی۔ اُن کا ٹرسٹ لاکھوں کروڑ ںمیں کھیلنے لگا۔ دولت کی اس قدر فراوانی کہ اب گفتگوکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اسے کہاں اور کس طرح اِنویسٹکرنا ہے ۔گفتگو نے ’’راحت محل‘‘ تعمیر کیا۔ ایک ایسا محل کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں چکاچوند ہوکر رہ گئیں۔ اس شہر میں یہ حویلی جدید تاج محل کے نام سے مشہور ہوئی۔ سنگ مرمر سے بنے ہوئے اس محل کو یوں تو ٹرسٹ کی ملکیت قرار دیا گیا، سال میں ایک بار ضرور ٹرسٹیوں کی نشست کا انعقاد ہوتا تھا۔ نشست کے اختتام کے بعد ٹرسٹ کی جانب سے ہر ٹرسٹی کو ایک شاندار گاڑی تحفے میں دی جاتی تھی۔ راحت محل کو بنے ہوئے تیس سال ہوگئے۔ اب میں بھی ستر برس کا ہوگیاہوں۔ میں ہرروز اُس رستے سے گزرتا ہوں، جہاں راحت محل پڑتا ہے۔ اور میں ہربار اُس تختی کو ڈھونڈتا ہوں ، جس کو رہزن نے اپنی حویلی پر آویزاں کیا تھا۔
اور جس پر جلی حروف میں لکھا ہوا تھا ’’ نیکی کر دریا میں ڈال‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟!! 
رابطہ؛ سرینگر، موبائل نمبر؛9419012800