تازہ ترین

نربھیا اجتماعی آبروریزی کیس

نظر ثانی کی عرضی خارج ، سزائے موت برقرار

9 جولائی 2018 (26 : 10 PM)   
(      )

صدر جمہوریہ سے رحم کی اپیل کرنے کا ہی متبادل باقی

نئی دہلی//سپریم کورٹ نے 2012 کے نربھیا اجتماعی عصمت دری معاملے میں تین قصورواروں کو پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کردئے جانے کے بعد اب ان کے پاس کیوریٹیو پٹیشن دائر کرنے اور صدر جمہوریہ سے رحم کی اپیل کرنے کا ہی متبادل باقی رہ گیا ہے ۔چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے اس معاملے میں پھانسی کی سزا کو عمر قیدمیں تبدیل کرنے کی پون، ونے اور مکیش کی نظر ثانی کی عرضی کو مسترد کردیا۔عدالت نے تینوں کی نظرثانی کی عرضی پر چار مئی کو سماعت کرکے فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ اس معاملے میں چوتھے قصوروار اکشے نے نظرثانی کی عرضی داخل نہیں کی تھی۔عدالت کے فیصلے کے بعد تینوں قصورواروں کے پاس اب کیوریٹیو پٹیشن اور اس کے بعد صدر جمہوریہ کے پا س رحم کی درخواست کا متبادل ہی رہ جاتا ہے ۔ فیصلہ سنانے والی بنچ کے دیگر اراکین میں آر بھانومتی اور اشوک بھوشن شامل تھے ۔گذشتہ سال پانچ مئی کو دئے گئے فیصلے میں سپریم کورٹ نے نربھیا اجتماعی عصمت دری کے چاروں قصورواروں مکیش،، ونے ، اکشے اور پون کو دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ دی گئی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔خیال رہے کہ 16دسمبر 2012 کو جنوبی دہلی کے منیرکا سے نربھیا اپنے دوست کے ساتھ ایک پرائیوٹ بس پر سوار ہوئی تو اس کے ساتھ بس ڈرائیور اور اس کے معاونین نے اجتماعی عصمت دری کی اور انتہائی بے رحمی کے ساتھ مارا پیٹا۔ بعد میں نربھیا کی موت ہوگئی تھی۔قصورواروں کی نظر ثانی کی عرضی پر فیصلہ سنائے جانے کے دوران نربھیا کے خاندان والے بھی عدالت کے کمرے میں موجود تھے ۔عدالت کا فیصلہ سننے کے بعد نربھیا کے والدین نے نامہ نگاروں سے کہا کہ پھانسی میں طویل عرصہ نہیں لگنا چاہئے تبھی مکمل انصاف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قصورواروں کو پھانسی کی سزا ہونے سے مجرموں میں خوف پیدا ہوگا۔ نربھیا کے والد نے کہا کہ آج بھی بیٹیوں کے ساتھ جرائم ہورہے ہیں۔ ایسے میں جلد سے جلد ان قصورواروں کو پھانسی دی جائے جس سے سماج میں پیغام جائے اور ایسی حرکت کرنے والے ڈریں۔ انہوں نے نظر ثانی کی عرضی مسترد کرنے پر عدالت کے تئیں ممنونیت کا اظہار کیا۔خیال رہے کہ دارالحکومت میں 16 دسمبر کی رات چلتی بس میں نربھیا کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی ۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ فلم دیکھنے کے بعد اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ بس میں سوار ہوکر منیرکا سے دوارکارجارہی تھی۔ لڑکی کے بس میں بیٹھتے ہی تقریباً پانچ سے سات لوگوں نے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروعکردی۔ لڑکی کے دوست نے اسے بچانے کی کوشش کی لیکن ان لوگوں نے اس کے ساتھ بھی مار پیٹ کی اورلڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی۔ بعد میں ان لوگوں نے لڑکی اور اس کے دوست کو جنوبی دہلی کے مہیپال پور کے نزدیک وسنت وہار علاقے میں بس سے پھینک دیا ۔ متاثر ہ لڑکی کو ناز ک حالت میں دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں داخل کرایا گیا ۔ یو این آئی