تازہ ترین

شام پر مزید حملوں کیلئے تیار ہیں: امریکہ کی تنبیہ

9 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
اقوام متحدہ //اقوامِ متحدہ میں امریکا کی مستقل مندوب نکی ہیلی خبردار کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ان کا ملک شام میں اسد رجیم کی تنصیبات پر مزید کارروائیوں کے لیے بھی تیار ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعہ کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر نے گذشتہ رات شامی فوج کے ایک ہوائی اڈے پر امریکا کے میزائل حملوں کا دفاع کیا۔امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر امریکا اب مزید خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا اور ان ہتھیاروں کو روکنا واشنگٹن کے اپنے "وسیع تر مفاد" میں ہے۔مسزہالے نے کہا کہ امریکا نے گزشتہ رات "بہت ہی نپا تلا قدم" اٹھایا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو ان کا ملک شام میں مزید کارروائیوں کے لیے بھی تیار ہے۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ مزید کارروائیوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت اور ان کے اتحادی اب تک شام کے بحران کے سیاسی حل کی کوششوں کو سنجیدہ نہیں لے رہے تھے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی برادری ان کوششوں کو آگے بڑھائے۔نکی ہیلی نے بشار الاسد کے دو بڑے اتحادیوں روس اور ایران پر زور دیا کہ وہ شامی حکومت کا محاسبہ کریں اور جنگ بندی کی شرائط پر اس سے عمل کرائیں۔سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس کونسل کے رکن ملک بولیویا کی درخواست پر شامی اڈے پر امریکی میزائل حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر غور کے لیے بلایا گیا تھا۔ اس موقع پر بولیویا کے سفیر نے شام میں امریکی فوجی کارروائی کی مخالفت کی اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے شام میں قیام امن کے لیے جاری کوششیں متاثر ہوسکتی ہیں۔اس موقع پر برطانوی سفیر ماتھیو رایکروفٹ نے کہا کہ اپنے عوام پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کرنے والا بشار الاسد جنگی مجرم ہے اور روس اس جنگی مجرم کا دفاع کررہا ہے۔انہوں نے بولیویا کے سفیر کی امریکی حملے پر تنقید مسترد کردی اور کہا کہ برطانیہ شام میں امریکی فوجی کارروائی کا حامی ہے۔ بشار الاسد نے جس طرح کے وحشیانہ جرائم کا ارتکاب کیا ہے اس کے بعد خاموش رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں روس کے نائب سفیر ولادی میر سیفرونکوو نے امریکی حملے کو "کھلی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی" قرار دیتے ہوئے اس پر شدید احتجاج کیا۔شامی ہوائی اڈے پر میزائل حملوں کا حکم صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے شام میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے پر مبینہ طور پر شامی فوج کے کیمیائی حملے کے ردِ عمل میں دیا تھا۔امریکی حکام کے مطابق مذکورہ ہوائی اڈہ شام کے شمالی صوبے ادلب کے علاقے خان شیخون میں کیے جانے والے کیمیائی حملے کے لیے استعمال کیا گیا تھا اور علاقے پر کیمیائی بم برسانے والے شامی فضائیہ کے جہاز اسی ہوائی اڈے سے اڑے تھے۔رواں ہفتے کیے جانے والے اس حملے میں 85 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ زہریلی گیس سے متاثرہ عورتوں اور بچوں سمیت 350 سے زائد شامی شہری شام اور ترکی کے مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔امریکی صدر کی جانب سے جوابی کارروائی کی ہدایات کے بعد بحیرہ احمر میں تعینات امریکی بحریہ کے دو جنگی جہازوں نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب شام کے مغربی صوبے حمص میں واقع شعیرات نامی اس ہوائی اڈے پر 59 ٹام ہاک میزائل برسائے تھے۔امریکی محکمہ  دفاع پینٹاگون کے مطابق میزائلوں کا ہدف ہوائی اڈے پر کھڑے جنگی جہاز، اڈے کی تنصیبات، اسلحے کے گودام، مورچے، فضائی دفاعی نظام اور شامی فوج کے زیرِ استعمال دیگر عمارتیں تھیں۔