تازہ ترین

’ماہانہ چند روپے کیلئے ضمیر کا سودا نہیں کروں گا ‘

کشمیر ی آئی اے ایس شاہ فیصل کا حکومتی آرڈر پر ردِ عمل

13 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 سرینگر//سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے پر حکومت ِ ہند کی جانب سے محکمانہ کارروائی کرنے کے احکامات پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کشمیری آئی اے ایس آفیسرشاہ فیصل نے کہا ہے کہ ماہانہ چند روپے کیلئے وہ اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ اُنہیں اپنی ملازمت کھونے پر کوئی ڈر نہیں ہے ۔ادھر سی پی آئی ایم کے ریاستی سیکریٹری محمد یوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ بھارت میں بڑھتے ریپ کے واقعات پر شاہ فیصل کا ردِ عمل جائز ہے ۔ آئی اے ایس امتحانات میں اول نمبر حاصل کرنے والے پہلے کشمیری شاہ فیصل نے حکومت ہند کی جانب سے اُن کے خلاف بھارت کو ’ریپستان ‘ کہہ دینے پر محکمانہ کارروائی کرنے کے احکامات پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرسکتے ۔انہوں نے حکومت ہند کی جانب سے جاری کئے آرڈر پر اپنا ردِ عمل سوشل میڈیا پر ظاہر کرتے ہوئے کہا ’مجھے نوکری کھونے کا کوئی ڈر نہیں ،لیکن میں نے جو کہا میں اُس پر قائم ہوں ‘۔شاہ فیصل جو اس وقت اسٹیڈی لیو پر امریکہ میں ہیں۔انہوں نے کہا ’مجھے ماہانہ چند روپے کھونے کا کوئی ڈر نہیں ہے،یہ صرف ایک ملازمت ہے اور مجھے یقین ہے کہ میں بے روزگار نہیں رہوں گا،اس عظیم دنیا میں کافی امکانات ہیں ‘۔ان کا کہناتھا کہ ’میں نے جو کچھ بھی کہا میں اُس پر قائم ہوں ،ہم جس مقصد کیلئے کھڑے ہیں ،مجھے وہ مقصد ہر کام سے زیادہ عزیر ہے ‘۔یاد رہے کہ جموں وکشمیر حکومت نے 2010 بیچ کے آئی اے ایس ٹاپر شاہ فیصل کے خلاف محکمانہ تحقیقات شروع کردی ہے۔ شاہ فیصل جو اس وقت اسٹیڈی لیو پر امریکہ میں ہیں، پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں بھارت کے لئے ’ریپستان ‘کا لفظ استعمال کیا ہے۔ فیصل نے رواں برس اپریل کے اواخر میں انگریزی روزنامہ ’ٹائمز آف انڈیا‘ میں شائع ہونے والی ایک خبر اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر ٹویٹ کی تھی جس کی سرخی کچھ یوں تھی : ’فحش فلموں کے عادی نوجوان نے اپنی 46 سالہ ماں کے ساتھ ریپ کیا۔ گجرات میں گرفتار کرلیا گیا‘۔ کشمیری آئی اے ایس افسر نے بعدازاں اس خبر کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا ’پدرانہ نظام پلس آبادی پلس ناخواندگی پلس شراب پلس پورن پلس ٹیکنالوجی پلس انارکی از اکول ٹو ریپستان‘۔ اس ٹویٹ اور ری ٹویٹ کے قریب 75 روز بعد ریاستی حکومت نے حکومت ہندوستان کے محکمہ پرنسل اینڈ ٹریننگ کے کہنے پر شاہ فیصل کے خلاف محکمانہ تحقیقات شروع کردی ہے۔ محکمانہ تحقیقات کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ شاہ فیصل اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ایمانداری اور سالمیت کو بنائے رکھنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ فیصل نے منگل کے روز ’محکمانہ تحقیقات‘ کا حکم نامہ جو انہیں بذریعہ ای میل موصول ہوا ہے، کو ٹویٹر اور فیس بک پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ’ جنوبی ایشیا میں ریپ کلچر کے خلاف طنزیہ ٹویٹ کے لئے مجھے میرے باس کی طرف سے لو لیٹر موصول ہوا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ضمیر کی آزادی کا گلا گھونٹنے کے لئے جمہوری ہندوستان میں کولونیل دور کے سروس رولز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ میں یہ (لو لیٹر) اس لئے شیئر کررہا ہوں تاکہ سروس رولز میں تبدیلی کی ضرورت کو اجاگر کیا جاسکے‘۔سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ  نے کہا کہ آئی اے ایس افسر شاہ فیصل کی ایمانداری اور دیانتداری پر سوال اٹھانا موصوف کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل کی ایمانداری پر آج تک کسی بھی فرد نے انگلی نہیں اٹھائی ہے۔ادھر سی پی آئی ایم کے ریاستی سیکریٹری محمد یوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ بھارت میں بڑھتے ریپ کے واقعات پر شاہ فیصل کا ردِ عمل جائز ہے ۔انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں سماجی مسائل پر ہر ایک شخص اپنی رائے رکھتا ہے