تازہ ترین

کنڈی کپوارہ میں جھڑپ کے دوران فوجی کمانڈو ہلاک

ترہگام میں فوج کی فائرنگ، طالب علم جاں بحق

12 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشرف چراغ

 ایک مضروب، قصبے میں صورتحال انتہائی کشیدہ، پتھرائو اور شلنگ

 
کپوارہ// ترہگام میں مظاہرین پر فورسز کی راست فائرنگ سے ایک20سالہ طالب علم جاں بحق جبکہ ایک شدید زخمی ہوا۔ ترہگام میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ قصبے میں پہنچ گئے ہیں۔ ادھرسر حدی ضلع کپوارہ کے سادھو گنگا کنڈی جنگلات میں ایک فوجی کمانڈو ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ۔

ترہگام

مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ نماز مغرب کے بعد علاقے سے فوج کی کانوائے گذر رہی تھی اور انکی حفاظت کیلئے پہلے ہی قصبے کی گلی کوچوں میں فورسز اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک گلی سے کچھ نوجوانوں نے ڈیوٹی دے رہے فوجی اہلکاروں پر پتھر پھینکے، جس کے دوران ہی کانوائے کا گذر ہوا اور انہوں نے ہوائی فائرنگ کی اور نکل گئے۔اس دوران فائرنگ سے افرا تفری پھیل گئی اور ڈیوٹی دے رہے فوجی اہلکاروں نے پتھرائو کرنے والے مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے داغے اور راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2نوجوانوں کو گولیاں لگیں جنہیں فوری طور ترہگام ہیلتھ سینٹر پہنچایا گیا اور بعد میں کپوارہ منتقل کردیا گیا۔زخمی نوجوانوں میں خالد غفار ملک ولد عبدالغفار ساکن بونہ پورہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ چکا تھا۔20سالہ خالد کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ فسٹ ائر طالب علم  تھا اور ترہگام بازار میں کنن پوش پورہ روڑ پر دکان بھی چلاتا تھا۔لوگوں نے بتایا کہ خالد پتھرائو نہیں کررہا تھا بلکہ دکان پر بیٹھا ہوا تھا جب اسے گولی مار دی گئی۔اسکے بعد فوج اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں اور ہزاروں کی تعداد میں مرد و زن گھروں سے باہر آئے اور احتجاجی مظاہرے کرنے لگے۔علاقے میں صورتحال انتہائی کشیدہ بتائی جاتی ہے اور ہر طرف مساجد سے اعلان کروایا جارہا تھا کہ لوگ ترہگام پہنچ جائیں۔رات دیر گئے فورسز کی بھاری تعداد قصبے میں پہنچا دی گئی اور یہاں مظاہرین کے ساتھ انکی جھڑپیں ہوئیں۔

پولیس بیان

پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے سے فوج کی ایک کانوائے گذر رہی تھی جس پر شدید پتھرائو کیا گیا۔اسکے بعد نوجوان گاڑیوں کے آگے آئے اور ان پر چاروں طرف سے سنگباری کی ، چنانچہ فورسز نے گولی چلائی جس سے دو نوجوان زخمی ہوئے جن میں سے ایک بعد میں دم توڑ بیٹھا۔پولیس نے بتایا ہے کہ معاملے کی تحقیقات ہورہی ہے۔

کنڈی جنگلات

 3روزقبل خان پورہ ماگام ہندوارہ میں جھڑپ کے دوران ایک جنگجو جا ں بحق ہوا تھا جس کے بعداس جنگلاتی علاقے میں جنگجوئوں کیخلاف آپریشن کیا گیا۔اس مقام سے 6کلو میٹر دور کنڈی کپوارہ کے سادھو گنگا جنگلات میں 47راشٹریہ رائفلز نے جنگجوئو ں کی موجودگی کی اطلاع کے بعد ایک وسیع حصہ کو محاصرے میں لیا ۔ فوج کی تلاشی کارروائی کے دوران وہا ںگولیو ں کا تبادلہ ہو ااور جنگجوئو ں نے گھنے جنگلات اور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو نے میں کا میابی حاصل کی۔سپیشل آپریشن گروپ اور4پیرا  اہلکارو ں نے بدھ کی علی الصبح گھنے جنگلات میں چھپے بیٹھے جنگجوئو ں کی تلاش شروع کی جو دوپہر تک جاری رہی ۔ جو ں ہی فوج نے سادھو گنگا کے گھنے جنگلات کے بالائی حصے کی طرف پیش قدمی کی تو وہا ں چھپے بیٹھے جنگجوئو ں نے فوجی اہلکاروں پر گھات لگاکرحملہ کیا جس کے دوران 4پیرا کے ایک کمانڈو سمیت دو اہلکار شدید طور زخمی ہوئے جن کو فوری طور درگمولہ فوجی اسپتال منتقل کیا تاہم جہا ں فوجی کمانڈو زخمو ں کی تاب نالاکر دم تو ڑ بیٹھا جس کی شنا خت سپاہی موکل مینا کے بطور ہوئی ۔