تازہ ترین

زندگی کے رنگ

افسانہ

8 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

شبنم بنت رشید
وہ بچپن سے تنہا تھی۔ ساتوں رنگت، پست قد اور موٹے موٹے خد و خال۔ البتہ آنکھیں اس کی بہت خوبصورت تھیں، جن میں دنیا بھر کی معصومیت تھی۔وہ گھر میں چار بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ اسکی تینوں بہنیں بہت خوبصورت تھیں جسکی وجہ سے وہ ہمیشہ گھر اور باہر ہر جگہ توجہ کا مرکز بنتیں تھیں۔ کبھی کبھی وہ اپنے ہی گھر میں مذاق اور طنز کا نشانہ بنتی۔ جب بھی اس کا ذکر ہوتا تو اس کی بہنیں ہمیشہ ناک چڑھا کر بولتیں کہ پتہ نہیں کس پر گئی ہے، جیسے ہمارے خاندان سے ہے ہی نہیں۔ یا ماں نے کہیں سے اٹھا کے لایا ہو۔ طنز کے تیر سہہ سہہ کر اس کے دل پر کیا بیتی تھی یہ وہی جانتی تھی۔ 
اس کی بہنیں اس سے نفرت نہیں کرتی تھیں لیکن اسے اپنی بہنوں سے وہ اپناپن اور پیار بھی نہ ملا جس کی وہ حقدار تھی۔ اس کی شکل و صورت کی وجہ سے اس کی ہم عمر لڑکیاں بھی اس سے دور دور ہی رہتی تھیں،جس کی وجہ سے اس کی کوئی دوست بھی نہ بن پائی۔ 
اس کے والدین اسے بہت پیار کرتے تھے، بڑی تین بیٹیوں سے بھی زیادہ۔ انہوں نے اسے کبھی کمتر نہ سمجھا۔ اسی لیے انہوں نے اس کا نام پری رکھا تھا۔ لیکن وہ صرف نام کی پری تھی۔ اپنے نام کی وجہ سے بھی وہ کبھی کبھی مذاق کا موضوع بنائی جاتی تھی۔لیکن پری نے احساس کمتری کو کبھی اپنے اوپر حاوی ہونے نہ دیا۔ وہ اندر سے عام لڑکیوں جیسی ہی تھی۔ اس کے دل میں بھی عام لڑکیوں کے طرح ہزاروں ارمان مچل رہے تھے۔ اس کے اندر ایک پیار بھرا خوبصورت دل تھا۔ اس لیے وہ اپنی بہنوں کی تلخ باتوں کو نظر انداز کرتی تھی۔ 
پری نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اس کا دل شہزاد کے لیے دھڑکتا تھا۔ شہزاد اس کے محلے میں رہنے والا ایک خوبصورت لڑکا تھا۔ اپنے گھر میں اکلوتا ہونے کی وجہ سے وہ ذرا سا گھمنڈی تھا۔ جیسے جیسے پری کی عمر بڑھتی گئی وہ شہزاد کے لیے بے قرار ہونے لگی۔ وہ شہزاد کو پانے کے لئے دعائیں مانگنے لگی۔شہزاد کی محبت اس کے ساتھ ساتھ چلتی تھی اور اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے شہزاد کی یاد کبھی اس سے جدا نہ ہوئی۔
پری کی تینوں بہنوں کی شادیاں ہو گئیں۔ پری شادی کی عمر کو پار کر چکی لیکن اس کے لئے کوئی رشتہ نہیں آیا۔ اس کے والدین کو اس کی فکر اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔ وہ یہی حسرت لے کر اس دنیا سے بھی چلے گئے اور اب پری بالکل ہی تنہا رہ گئی۔ اس کی بہنیں اس کی طرف سے زیادہ ہی لاپرواہ ہو گئیں۔ 
جب تک پری کے والدین زندہ تھے تب تک اسے اپنے دل کی بات کسی سی کہنے کا حوصلہ نہیں ہوا تھا لیکن اب وہ اپنے مسئلے کو لے کر اختر خالہ کے پاس پہنچ گئی۔ اختر خالہ بھی ان ہی کے محلے میں رہنے والی ایک شائستہ خاتون تھی۔ اختر خالہ سے اپنے دل کی بات کہتے ہوئے پری حیا محسوس کرنے لگی۔اس نے انہیں اپنا ہمراز بنا لیا اور یہ با ت انہیں بتائی کہ کس طرح وہ بچپن سے شہزاد کے پیار میں مبتلا ہے۔اس نے ان کے آگے اپنا دامن پھیلایا اور کہا کسی بھی طریقے سے اس کی شادی شہزاد سے کرا دے۔ 
اختر خالہ جہاں دیدہ خاتون تھی۔ اس نے پری کو ماں کی طرح سمجھایاکہ لوگ رنگ روپ کے دوانے ہوتے ہیں۔ ہر انسان کی زندگی میں یہ دور آتا ہے جب انسان خود کو کسی کے ساتھ جوڑ کر سہانے سپنے دیکھتا ہے۔ تم اسے ایک نادانی سمجھ کر بھول جاؤ۔ شہزاد ایک گھمنڈی لڑکا ہے۔ اگر میں نے تمہاری بات آگے بڑھا بھی دی اور کل کو کوئی خرابی پیش آئی تو اس کا خمیازہ تمہیں بھگتنا پڑے گا۔ لیکن پری کچھ بھی سننے کے لئے تیار نہ تھی۔ اختر خالہ نے بات آگے بڑھانے سے انکار کر دیا۔ اختر خالہ کے انکار سے اس میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ اندر ہی اندر شہزاد کی محبت میں اور زیادہ تڑپتی رہی۔ اب وہ اپنا مسئلہ کاتب تقدیر کے حوالے کر کے کسی معجزے کا انتظار کرنے لگی۔
شہزاد بھی ایک لڑکی کے عشق میں گرفتار تھا۔ اس کے والدین اس بات سے بے خبر تھے۔ انہوں نے اس کا رشتہ کہیں اور طے کر کرکے چٹ منگنی اور پٹ بیاہ کر دیا اور اسے کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع نہ دیا۔ شادی کے دن ہی اس نے بیوی سے کہہ دیا کہ میں کسی اور لڑکی کو پسند کرتا ہوں۔ تم جس وقت چاہو یہ گھر چھوڑ کر جا سکتی ہو۔ میں بعد میں تمہیں طلاق دے کر آزاد کر دوں گا۔ طلاق کی بات سن کر اس لڑکی کا وجود ہل گیا۔ وہ بس شہزاد کو دیکھتی رہ گئی۔ شادی کے دوسرے دن شہزاد گھر سے نکلا اور اس لڑکی کو زبردستی اپنے گھر لے آیا جس سے وہ پیار کرتا تھا۔ اس لڑکی کو شہزاد کی اس احمقانہ حرکت کے سبب شہزاد سے نفرت ہو گئی۔ اس کے گھر والوں نے اسے واپس اپنے گھر لیا اور آنًا فانًا اس نکاح کروا کے شہزاد سے اس کا پیچھا چھڑوایا۔ شہزاد کی بیوی واپس مائیکے چلی گئی اور اس سے طلاق لے لی۔ 
کبھی کبھی انسان جوانی کے جوش میں آ کر غلط حرکتیں اور فیصلے کر کے اپنی بنی بنائی عزت خاک میں ملا دیتا ہے۔ کچھ ایسی ہی غلطیاں شہزاد بھی کر بیٹھا۔ 
اب شہزاد اپنی غلطی پر پشیمان ہونے لگا۔ اس کا تکبر ٹوٹ چکا تھا۔ وہ ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح پچھتا رہا تھا۔ شہزاد کے پاس اب کچھ نہ بچا تھا ،بے عزتی اور پچھتاوے کے علاوہ۔ وہ اپنے آپ کو گناہ گار اور خطاکار سمجھنے لگا۔ وہ اپنی ہی نظروں میں گر گیا۔ وہ اب ایک تنکے کا سہارا چاہتا تھا۔ 
دوسرے طرف پری کی دعائیں لمبی ہو رہی تھیں۔ وہ شہزاد کو اپنے لیے مانگتی رہی اور اس کی دعا قبول ہو گئی اور خود ہی سارے بند دروازے کھل گئے۔ اس کا دل شکر سے لبریز ہو گیا۔ پری ایک بار پھر اپنی داستان لے کر اختر خالہ کے پاس پہنچ گئی۔ اختر خالہ یہ سمجھی کہ شاید پری کا دماغ ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہا ہے۔ پری نے اختر خالہ کی بہت منت سماجت کی اور خدا کا اور اپنی محبت کا واسطہ دے کر کسی نہ کسی طرح اُسے شہزاد کے گھر والوں تک پیغام پہنچانے کے لئے راضی کرلیا لیکن اسکے آگے وہ کوئی ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہ ہوئی۔
شہزاد کے گھر والے اس کے کئے پر پشیمان تھے۔ انہیں اس رشتے میں کوئی کھوٹ نظر نہ آیا۔ انہوں نے اس رشتے پر کوئی اعتراض نہ جتایا۔ پری اور شہزاد کا نکاح بڑی سادگی سے ہوا۔ لوگ کہنے لگے یہ بھی ایک ادھوری کہانی رہ جائے گی لیکن اس سب کے برعکس شہزاد نے اسے اپنے دل میں جگہ دی۔ پری نے اس کے ماضی کو نظر انداز کیا اور اس کی شریک حیات بن گئی۔ وہ بہت خوش تھی جیسے بن مانگے چاند اس کی جھولی میں اُتر آیا ہو۔ وہ دوالگ وجود تھے مگر ایک جان بن گئے۔ ان دونوں کی زندگی خوبصورت ہو گئی۔ پری کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے چاند اور تارے اس کے ساتھ گنگنا رہے ہوں۔ 
زندگی معمول پر آگئی۔ اچھا وقت گزرنے لگا۔ پری اور شہزاد ایک مثالی جوڑی بن گئی۔ پری نیک صالح اور خدمت گزار بیوی ثابت ہوئی۔ شہزاد کو ایسے لگ رہا تھا جیسے اسے دنیا کی حسین ترین لڑکی مل گئی ہو۔ 
وقت کا پرندہ اڑتا رہا۔ ایک دن پری کی طبیعت خراب ہو گئی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔ وہ تھرتھرانے لگی۔ آزمائش انسان پر دستک دے کر نہیں آتی۔ شہزاد کو بھی شاید رب نے آزمائش کے لئے چن لیا۔ پری کے بے شمار ٹیسٹ کئے گئے تو پتہ چلا کہ اسے ایک مہلک بیماری نے جکڑ لیا ہے۔ابھی محبت کا آشیانہ بسا بھی نہ تھاکہ نظر کا زخم لگ گیا۔آہستہ آہستہ بیماری نے زور پکڑا اور پری بستر نشین ہو گئی۔ شہزاد پری کا مہنگے سے مہنگا علاج کرواتا رہا۔ پری پراپنی دولت خرچ کرتا رہا۔ دولت کے ساتھ ساتھ شہزاد نے اپنی زندگی اور وقت پری کے نام وقف کر دئے۔ آج شہزاد اپنے رب کے سامنے رو رو کر اپنا دامن پھیلا کر پری کی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا۔شہزاد پری کی خدمت ایسے کرنے لگا کہ لوگ رشک کرنے لگے۔ نیکی تو نیکی ہے، انسان گناہوں کے بعد سچے دل سے توبہ کرے اور نیک راہ پر چل پڑے تو ایک گناہگار انسان اللہ کے حضور فرشتے کا درجہ پاتا ہے۔ توبہ ہی انسان کو بلند درجے پر پہنچاتا ہے۔ 
اس دن جیسے صبح سے ہی ہوا تھم چکی تھی۔ پری نے صبح سے ہی شہزاد کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے رکھا تھا۔ دن ڈھلتے ڈھلتے آخرکار پری  زندگی کی جنگ ہار گئی۔ کئی سالوں کی خدمت اور علاج کے بعد پری اس دنیا سے بڑے اطمینان سے چلی گئی۔ آج پری تنہا نہ تھی۔ اس کے ساتھ شہزاد تھا اس کا ساتھ تھا اس کا پیار تھا۔ پری کے چلے جانے سے شہزاد کی دنیا لٹ گئی۔ وہ بالکل تنہا رہ گیا لیکن اس نے اپنے رب کا دامن تھام کر ابدی خوشی اور مسرت پا لی۔
پہلگام اننت ناگ 
رابطہ 9419038028، 8713892806