تازہ ترین

ہندوستان۔ جنوبی کوریا اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جائیں گے

11 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی/ ہندوستان اور جنوبی کوریا نے اپنی خصوصی اسٹریٹجک شراکت کو نئی اونچائی اور مجموعی اقتصادی شراکت کے معاہدے کو مزید بہتر کرتے ہوئے 'ارلی ہارویسٹ پیکج' کے طور پر ٹھوس پہل کی اور دنیا میں مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہونے والے تکنیکی تبدیلیوں کے پیش نظر 'انوویشن کوآپریشن سینٹر' اور 'فیچر اسٹریٹجی گروپ' قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔وزیر اعظم نریندر مودی اور جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان کے درمیان یہاں حیدرآباد ہاؤس میں ہونے والی میٹنگ میں یہ فیصلے کئے گئے ۔میٹنگ میں دونوں ممالک نے باہمی تعاون کے 11 معاہدوں پر دستخط کئے جن میں دونوں ممالک کے اقتصادی اور کاروباری تعلقات کو نئی اونچائی تک لے جانے کی کوشش کی گئی۔ اس موقع پر وزیر خارجہ سشما سوراج، صنعت و تجارت کے وزیر سریش پربھو، وزیر مواصلات منوج سنہا، خارجہ سکرٹری وجے گوکھلے وغیرہ موجود تھے ۔میٹنگ کے بعد مشترکہ پریس بیان میں مسٹر مودی نے کہا، ''مجھے خوشی ہے کہ ہم نے اپنے مجموعی اقتصادی شراکت پر مبنی معاہدے کو بہتر کرنے کی سمت میں آج ارلی ھارویسٹ پیکج کے طور پر ایک ٹھوس قدم اٹھایا ہے ۔ اپنے تعلقات کے مستقبل اور دنیا میں ہونے والی تیز تکنیکی تبدیلیوں کے پیش نظر ہم نے ساتھ مل کر انوویشن کوآپریشن سینٹر کا قیام اور فیچر اسٹریٹجی گروپ کی تشکیل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے ''۔وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی کوریا کی اقتصادی اور سماجی ترقی دنیا میں اپنے آپ میں ایک منفرد مثال ہے ۔ وہاں کے عام لوگوں نے دکھایا ہے کہ اگر کوئی ملک یکساں ویژن اور مقصد کے تئیں پابند ہو جاتا ہے تو ناممکن لگنے والے ہدف بھی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ جنوبی کوریا کی یہ پیش رفت ہندوستان کے لئے بھی موجب تحریک ہے ۔انہوں نے اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ جنوبی کوریا کی کمپنیوں نے ہندوستان میں نہ صرف بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے ، بلکہ میک ان انڈیا مشن سے منسلک ہوکر ہندوستان میں روزگار کے مواقع بھی پیدا کئے ہیں۔ کوریائی کمپنیوں نے معیار کے تئیں پابند عہد سے کوریائی مصنوعات کے لئے ہندوستان کے گھر گھر میں اپنی شناخت بنائی ہے ۔دونوں ممالک نے جن معاہدوں پر دستخط کئے ہیں ان معاشی شراکت معاہدے (سیپا) شامل ہے ۔ اس میں سمندری مصنوعات کی تجارت کو آسان بنانے کے لئے بات کرنے پر اتفاق ہواہے ۔ تجارتی بحران کے حل کے معاہدے میں اینٹی ڈمپنگ، سبسڈی اور ایک دوسرے کے مصنوعات پر فیس اور حفاظتی اقدامات پر بات چیت اور تعاون کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔فیچر اسٹریٹجی گروپ کے قیام کے معاہدے پر بھی دستخط ہوئے ہیں جس کے تحت جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تجارتی منصوبوں خاص طور پر انٹرنیٹ آف تھنگس، مصنوعی انٹیلی جنسیا، بگ ڈیٹا،ا سمارٹ فیکٹری، تھری ڈی پرنٹنگ، برقی گاڑی، بوڑھوں اور معذور افراد کے لئے ایڈوانس میٹوریل اور کفایتی صحت خدمات کے بارے میں مل کر کام کرنے پر اتفاق ہوا ہے ۔ ثقافتی تبادلے ، سائنسی اور تکنیکی تحقیق، ریلوے کی ترقی میں تعاون، حیاتیاتی تکنکی اور حیاتیاتی اقتصادی ، اطلاعات و مواصلات ٹیکنالوجی، دو ہزار سال پہلے ایودھیا کی راجکماری سوریرتنا کے بارے میں ایک منصوبے پر بھی مل کر کام کرنے کے معاہدہ کیا گیا ۔مسٹر مودی نے کہا کہ آج کی ہماری بات چیت میں ہم نے نہ صرف اپنے دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا بلکہ علاقائی اور عالمی مسائل پر اپنے خیالات بھی کھل کر اشتراک کئے ۔ ہماری گفتگو کا نتیجہ کے طور پر ایک ویژن بیان جاری کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا،''ہماری توجہ ہمارے خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے پر ہے ۔ اس سلسلے میں ایک ستون ہمارے اقتصادی اور کاروباری تعلقات پر مبنی ہے ۔ آج، کچھ دیر کے بعد، ہم دونوں ممالک کے اعلی صنعتی نمائندوں سے ملاقات کریں گے ۔ مجھے امید ہے کہ ہم اپنے تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ان سے اچھی تجاویزموصول ہوں گے ''۔ انہوں نے کہا، ''میں سمجھتا ہوں کہ پالیسی ساز سطح پر، ہندوستان کی ایکٹ ایسٹ پالیسی اور جنوبی کوریا کی نیو ساؤتھ حکمت عملی کو میں قدرتی یکسانیت ہے اور میں صدر مون کے اس خیال کا دل سے استقبال کرتا ہوں کہ ہندوستان اور جنوبی کوریا جمہوریہ کے تعلقات ان کی نیو ساؤتھ حکمت عملی کا ایک بنیاد ستون ہیں''۔مسٹر مودی نے جزیرہ نما کوریا میں صورت حال کو بحران سے نکالنے میں مسٹر مون کی قیادت کی تعریف کی اور کہا کہ جزیرہ نما کوریا کی امن کے عمل کو رفتار دینے کا، اسے پٹری پر قائم رکھنے کا اور اس میں ترقی کا، مکمل کریڈٹ صدر مون کو جاتا ہے ۔انہوں نے کہا، ''میں تسلیم کرتا ہوں کہ جو مثبت ماحول پیدا ہوا ہے صدر مون کی غیر معمولی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔ میں اس پیش رفت کے لئے صدر مون کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ آج کی ہماری بات چیت میں نے انہیں بتایا کہ شمال مشرقی ایشیاء اور جنوبی ایشیا میں جوہری توسیع تجارتی تعلقات ہندوستان کے لئے بھی تشویش کا موضوع ہیں۔ لہذا، اس امن کے عمل کی کامیابی میں ہندوستان بھی شراکت دار ہے ''۔وزیر اعظم نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لئے بھی کچھ بھی تعاون ممکن ہوگا ہم یقینی طور پر کریں گے ۔ لہذا ہم نے اپنے مشاورت اور تال میل کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلے میں سکریٹری سطح ٹوپلس ٹو ڈائیلاگ اور وزارتی سطح کی مشترکہ کمیشن آئندہ ملاقاتیں اس ضمن میں کافی اہم ہوں گی۔"یو این آئی