تازہ ترین

کہانی …ایک رات کی

افسانہ

9 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

رحیم رہبرؔ
وہ اجنبی لڑ کی میرے کمرے میں ناک کرنے کے بغیر ہی گُھس آئی۔
ہوٹل…ایس ایس ایس
کمرہ نمبر…3
گلی…مٹیا محل
جامعہ مسجد دِلی
 
پرانی دِلی میں یہی میرا ایڈرس تھا۔ اُس وقت بھی میں سوچ کے کینواس پر کہانی رقم کررہا تھا۔ رات کے قریب بارہ بج چکے تھے۔ رات تاریک اور خنک تھی۔ ستارے آسمان پر مُسکرا رہے تھے۔ وہ اجنبی لڑکی ناک کرنے کے بغیر ہی میں کمرے میں گھس آئی۔ اُس کی زندگی مفلسی کے قبا کی مانند تھی، جس پر ہر گھڑی کے پیوند لگے ہوئے تھے!
وہ زبردستی میرے پلنگ پر بیٹھ گئی بنا کچھ کہے وہ مجھے گھور گھور کر دیکھتی رہی۔ میں چونک پڑا… ہمارے درمیان ایک خلیج حائل تھی!
’’ارے! کون ہو تم!؟‘‘ میں نے تعجب سے پوچھا
اُس نے اپنا چہرہ اپنے دونوں گٹھنوں کے اُوپر رکھ لیا۔ جیسے گلاب کے پھول جھانک رہے ہوں۔
’’تم اجازت کے بغیر کے میرے کمرے میں کیسے گُھس آئی‘‘ میں نے اُس سے سوال کیا۔
’’دروازے سے‘‘ اُس نے غصے میں جواب دیا۔
’’مطلب !میں سمجھا نہیں‘‘
’’تم نہیں سمجھو گے… کیونکہ تم خود غرض اور موقعہ پرست ہو‘‘۔
احساس نے ایسی برہنگی کبھی اختیار نہ کی تھی… میں پسینوں میں بھیگ گیا۔
وہ اچانک کھڑی ہوئی اور غضبناک لہجے میں بولی۔
’’حرام جادہ……… اُپن پھر آوے گی……‘‘ اُس کے بعد میرے پلنگ کو زور سے لات مار کر اُس نے دروازے کی کنڈی کھول دی… میں نے واپس کو جانے سے روکا۔ اُس نے حسرت بھری نگاہوں سے میری طرف دیکھا۔
’’لڑکی! کون ہو تم…کیوں یہ گِھناونی حرکت کر رہی ہو… خدا سے ڈرو‘‘
لڑکی غصے سے لال ہوئی اور بولی۔
’’اے چھوکرے! بہت …ہاں…بہت شنُا، جس رات کے ہونٹوں نے کبھی سپنے کا ماتھا چوما تھا۔ اُس رات کو تم نے بھی شراب خانوں، نائٹ کلبوں اور ہوٹلوں میں نیلام کیا۔ تم …ہاں ۔تم شے میری کہانی بھٹکتی ہے! …کاہے تم نے مجھ شے خواب بننے کا ادھیکار چھین لیا… آوے گی… جروُر آوے گی… جب تلک تم مجھے خواب بُننے کا ادھیکار واپس نہیں دوگے۔‘‘
قسم زمانے کی! مجھے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ اسلئے میں نے پھر اس اجنبی لڑکی سے پوچھا۔
’’لڑکی! کون ہو تم!؟‘‘
’’ارے! میں تمہاری کہانی ہوں‘‘…تم ہاں تم جالم ہو! میں نے تمہیں محبت دی… بدلے میں تم نے مجھے بازار دیا! میں تمہارے پاس ایک اُمید لیکر آئی… لیکن تم نے کیا کیا !؟ تم نے حقیر مفادات کے خاطر میری کوکھ کی خیانت کی!!؟
اجنبی لڑکی کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو نکل کر زرد رُخساروں پر بہنے لگے اور پھر لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے کمرے سے باہر نکل گئی…!
میں اپنے پلنگ سے اُٹھا اور کمرے کا دریچہ کھول دیا۔ آسمان پر اَبر کے آوارہ ٹکڑے تیر رہے تھے اور وہ اجنبی لڑکی نیچے سڑک پر رات کی مانگ میں سیندور بھر رہی تھی…!!
 
رابطہ؛آزاد کالونی پیٹھ کانہامہ،99065347242