تازہ ترین

سہ ماہی ادبی رسالہ ’ عالمی میراث‘ کااجرائ

8 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 پونے// پتر کار بھون ، پونے میں ایک سہ ماہی ادبی رسالے’ عالمی میراث‘ کی رسم رونمائی انجام دی گئی ۔اس تقریب کا اہتمام راسک مترا منڈل ،ای این یو فاﺅنڈیشن اور شری پردیپ ماونٹ پونے کے زیر اہتمام کیا گیا ۔ تقریب کی صدارت سریش چندر صورت والا نے کی جب کہ مہمان خصوصی کینیڈا سے آئے ہوئے اردو کے عالمی شہرت یافتہ اسکالر ڈاکٹر سید تقی عابدی تھے ۔ ڈائس پر ذی احترام شخصیات میں سے منور پیر بھائی ، سابق چیرمین اعظم کیمپس پونے ،ڈاکٹر مشتاق احمد،ڈاکٹر پریمی رومانی،مدیر سہ ماہی عالمی میراث ، زبیر پریزڈنٹ ای این یو فاونڈیشن ،اور ڈاکٹر ممتاز پیر بھائی تھے ۔ تقریب کے آغاز میں صدر شریش چندر صورت والا نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور اس آرگنا یزیشن کے بارے میں تفصیلات پیش کیں ۔اس کے بعد منور پیربھائی نے پنڈت برج نرائن چکبست لیکچر سیریز کے تحت اردو کے اس عظیم شاعر کی شخصیت کے حوالے سے پر مغز تقریر کی اور اس محب وطن شاعر کی ادبی خدمات کو یاد کیا ۔اس کے بعد ڈاکٹر پریمی رومانی کی ادارت میں شائع ہونے والا رسالہ عالمی میراث کی رسم رونمائی ڈاکٹر سید تقی عابدی نے انجام دی ۔ ڈاکٹر عابدی نے سہ ماہی عالمی میراث کو ¾سراہتے ہوئے کہا کہ یہ رسالہ ترقی کی طرف گامزن ہے ۔انہوں نے ڈاکٹر پریمی کی کوششوں کو سراہا اور انہیں مبارک باد پیش کر کے اس کام کو آگے بڑھانے کا حوصلہ دیا ۔ اردو زبان کے عظیم اور وطن پرست شاعر پنڈت برج نرائن چکبست کی شخصیت اور ان کی شاعری پر ڈاکٹرعابدی نے سیر حاصل تبصرہ کر کے ا نہیں ایک وطن دوست شاعر قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ چکبست کی جوانمرگی کی وجہ سے ان کا کلام ابھی تک بکھرا ہوا ہے جس کو سمیٹنے کی ضرورت ہے تاکہ اس ان کا مکمل کام منظر عام پر آجائے ۔ ڈاکٹر پریمی رومانی نے اپنی تقریر میں سہ ماہی عالمی میراث کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی ا ور کہا کہ وہ تین پشتوں سے اردو زبان وادب کی خدمت کرتے آئے ہیں۔انہوں نے چکبست اور منٹو کا تقابلی مطالعہ کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں فنکاروں کی وقت نے قدر نہیں کی جبکہ ان دونوں میں بعض پہلو قدر مشترق کی حثیت رکھتے ہیں۔دونوں کا وطن مالوف کشمیر ہے۔ دونوں نے ہجرت کے غم سہے ہیں۔دونوں بنیادی طور پر کشمیری پنڈت تھے۔ دونوں اپنے اپنے فن کے بے تاج بادشاہ تصور کئے جاتے ہیں۔ دونوں کے فن پاروںمیںقومی وحدت،وطن دوستی اور انسانیت کا پیغام ملتا ہے۔ انہوں نے سہ ماہی عالمی میراث کا اگلا شمارہ چکسبت کی یاد میں شائع کرنے کا اعلان کیا اور عاشقان چکبست سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں ان کو تعاون دیں۔ پروگرام کے آخر پر شکرئے کی تحریک پیش کی گئی۔