تازہ ترین

تین چشم کشا عالمی رپورٹیں !

آئینہ دیکھ کر ہوا شر مندہ پہر ہ د ار

11 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

عبدالرافع رسول۔۔۔ اسلام آباد
 دلی جہاں بین الاقوامی رائے عامہ کواپنی ہم نوا بنانے کے لئے اپنی جمہوریت کے قصیدہ خوانیاں بڑے کرو فر سے بیان کرتی رہی ہے، وہیں حالیہ تین عالمی رپورٹیں سامنے آنے پر عالمی اداروں نے حقیقت کا آئینہ دکھایاہے۔بلاشبہ یہ تینوں رپورٹس دلی کے لئے چشم کشاہے ۔ان رپورٹوںمیں سب سے پہلے امریکی سی آئی اے کی طرف سے 19جون 2018بدھ کوامریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے ورلڈ فیکٹ بک کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کی فرقہ پرست ہندو تنظیم آر ایس ایس کی شاخوں وشو ا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کودہشت پھیلانے والی تنظیمیں ہیں اور ان تنظیموں کے باعث بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ یہ انتہاپسند تنظیمیںاس قدر بااثر اور طاقت ور ہو چکی ہیں کہ بھارتی قانون بھی ان کے آگے بے بس ہے ۔رپورٹ میں کہاگیاکہ ان دونوں ہندوانتہاپسند تنظیموں کودہشت گردی کی فہرست میں شامل کیاگیاہے ۔رپورٹ میں کہاگیاکہ یہ دونوں تنظیمیں بھارت میںپرتشدد کارروائیاں کرتی ہیں، ان کے پاس جدید ہتھیار ہیں جن کی مدد سے وہ قتل و غارت گری کر کے حکومت کو بلیک میل کرتی ہیں۔اپنی رپورٹ میںامریکی انٹیلی جنس ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (CIA) کاکہناہے کہ وشوا ہندو پریشد اور ایس ایس کے لیڈر موہن بھاگوت کو ایسے افراد میں شامل کیا گیا ہے جو ان ہندودہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ سی آئی اے کاکہناہے کہ اس نے یہ اقدام ہندو انتہا پسند جماعتوں کے تشدد اور دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے اور ان گنت بربادیوں کے فسانے تخلیق کر کے اپنی جنونیت کی دھاک بٹھادینے کے شواہد ملنے کے بعد اٹھایاگیاہے ۔رپورٹ دراصل اس امرکوواشگاف کرتاہے کہ بھارت میںسنگھ پریوار کے دام ِ ہم رنگ زمین پہ مودی سرکارکی جھنکار ہے۔ لا قانونیت ، مظالم کا جل تھل، مصائب کا شور وغل ، بولے بم کی حاکمیت،سوریانمسکار کی حکومت، ظلم وستم کی چھوٹ، ماردھاڑ کا دبد بہ ، غیظ وغضب کی آتشیں بھٹی اوراس میدان جنگ میں سنتری ہی منتری ہے ، جب کہ لاٹھی اور مار دھاڑکی شہنشاہی ہے ۔
ا س سے قبل27اپریل2018کونیویارک میںبین الاقوامی مذہبی آزادی کے امریکی کمیشن نے مذہبی آزادی سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا تھا کہ ہندو انتہاپسند گروپوں نے 2017میں تشدد کے ذریعہ بھارت کو’’ بھگوا ملک‘‘ بنانے کی کوشش کی ۔ اپریل میں جاری اس امریکی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سرکاری اعدادوشمار میں اس بات کی نشاندہی کے باوجود کے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں پچھلے دو برسوں میں اضافہ ہوا ہے ، نریندر مودی کی انتظامیہ نے اس رُخ پر کوئی کارروائی نہیں کی اور فرقہ وارانہ تشدد کے بڑے پیمانے پر رونما ہونے والے واقعات کے متاثرین کے ساتھ انصاف کے لئے بھی کچھ نہیں کیا۔ رپورٹ میں یہ دعوی بھی کیا گیا کہ بھارت میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات اکثر مسٹر مودی کی پارٹی کے لیڈروں کی اشتعال انگیز تقریروں کی وجہ سے پیش آئے۔اس رپورٹ میں کہاگیاکہ 2017کے دوران ہندو انتہاپسند گروپوں نے بھارت میںمتشددانہ کاروائیاں کرکر اور خوف پھیلاکراور اقلیتوں اور دلتوں کو ہراساں کرکے بھارت کو بھگوا رنگ میں رنگنے کی کوشش کی۔ ا س رپورٹ میں بھارت کی’’ ٹائرملک‘‘ کی حیثیت سے درجہ بندی کی گئی ۔ ٹائر ملک وہ ہوتا ہے جہاں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں۔اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارت کی کوئی ایک تہائی ریاستی حکومتوں نے مذہب کی تبدیلی یا ذبیحہ گا ئے قوانین کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا اور تشدد کا رخ بھی مسلمانوں اور دلتوں کی طرف رہا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ2017میں تحفظ گائے کے نام پر ہجوم کے ہاتھوں کم سے کم دس افرادقتل کئے گئے۔ مسلم اقلیت کو گھر واپسی کے نام پر زبردستی ہندو بنانے کی کوششیں ہوئیں اور غیر ملکی امداد یافتہ غیر سرکاری تنظیموں کے رجسٹریشن کے ضابطوں کو مذہبی اقلیتی گروپوں کے خلاف اندھا دھند استعمال کیا گیا۔رپورٹ میں اترپردیش ، آندھراپردیش ، بہار، چھتیس گڑھ، گجرات ، اوڈیشہ، کرناٹک ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور راجستھان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان دس ریاستوں میں مذہب کی آزادی بڑے پیمانے پر متاثر رہی۔یہ کمیشن ایک آزاد حیثیت کا حامل سرکاری کمیشن ہے، جو بیرون امریکہ مذہبی آزادی میں خلل کا جائزہ لے کر پالیسی ساز سفارشات کرتا ہے ۔واضح رہے کہ بھارت نے اس کمیشن کے باربارمطالبے کے باوجوداس کے کسی نمائندے کوبھارتی دورے پر آنے کی اجازت نہیں دی۔واضح رہے کہ آرایس ایس بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی نظریاتی اورسرپرست تنظیم ہے۔ نریندرمودی کو برسراقتدارلانے کے لئے آر ایس ایس اوراسکی تمام ذیلی شاخوں وی ایچ پی اوربجرنگ نے تگ ودوکی اور ہندو انتہا پسند ان تمام تنظیموں کو حکمران جماعت بھارتیا جنتا پارٹی کے ونگ قراردیاجارہا ہے اس لئے حکمران جماعت کی جانب سے نہ صرف اسے تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے بلکہ وہ پوری طرح زعفرانی لشکر کی پشت پناہ ہے۔وشوا ہندو پریشد اور راشٹریہ سیوک سنگ کے ترجمان نے الگ الگ بیان میں سی آئی اے کے اس اقدام کو متعصبانہ اور لغو قرار دیتے ہوئے سی آئی اے کی جانبداری پر سوال اٹھا دیئے۔ بھارت کی ان ہندو انتہاپسند تنظیموں کا کہنا ہے کہ سی آئی اے بذات خود ایک دہشت گرد ادارہ ہے جو امریکی مفادات کے تحفظ کی آڑ میں دیگر ممالک کی سا  لمیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔جبکہ بھارتی میڈیاامریکی سی آئی کے اس فیصلے کے خلاف آتش زیرپاہے اورامریکہ پرسب وشتم پڑھ رہاہے۔جب کہ متعصب بھارتی میڈیانے ڈھول پیٹناشروع کیاہے کہ ویشواہندوپریشداوربجرنگ دل کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دینے سے سی آئی اے کا بھارت مخالف رویہ سامنے آگیا ہے ،بھارتی میڈیاچینل کے اینکرچیخ  چیخ کرکہہ رہے ہیں کہ سی آئی اے امریکا کے مفاد کے لیے خود ساری دنیا میں دہشت گردی کو فروغ دیتی ہے۔
دوسری عالمی رپورٹ25 جون 2018سوموارکوجاری ہوئی یہ رپورٹ دنیابھرمیں عورتوںسے متعلق ایک عالمی ادارے برطانیہ میں قائم ادارے ’’تھامسن روئٹرز فانڈیشن ‘‘نے اپنا سروے کرکے شائع کردی ۔اس رپورٹ میں بھارت کو عورتوں کے لیے سب سے خطرناک ملک قراردیاگیا۔رپورٹ میں کہاگیاکہ بھارت میںعورتوں کی آبروریزی ،جنسی تشدد اور جنسی طورپرہراساں کیے جانے کے واقعات بہت تیزی کے ساتھ سامنے آر ہے ہیں،جبکہ عورتوںکو جنسی مزدوری، جنسی اور گھریلو غلامی میں دھکیلنے جانے کے واقعات روزافزوں بڑھ رہے ہیں۔ ثانیاََ غلیظ رسم و رواج کی وجہ سے عورتوں کو درپیش خطرات میں حددرجہ اضافہ ہوچکاہے۔ثالثاََ عورتوں کی صحت جن میں زچگی کے دوران موت، پیدائش اور ایچ آئی وی/ایڈز پرعدم کنٹرول کے حوالے سے پوری طرح مجرمانہ کرداراپنایاجارہاہے اوروہ ملازمت میں جانبداری جب کہ وہ گھریلو تشدد کی شکارہیں۔عورتوں کے ساتھ آبروریزی، جنسی تشدداورکثیرالنوع ظلم وزیادتی روارکھے جانے کے حوالے سے پوری دنیامیںبھارت کا پہلے نمبر پر آنا اس امرکوالم نشرح کرتا ہے کہ بھارتی معاشرہ کس قدرزوال پذیرہے۔ حالانکہ 2012کے آخر میں بھارت کے دارالحکومت دلی میں ایک چلتی ہوئی بس میں میڈیکل کی ایک طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ کے بعد ریپ کے قوانین میں سختی لائی گئی تھی لیکن اس کے باوجودبھارت میں عورتوںکے ساتھ ریپ، میریٹل ریپ، جنسی تشدد اور جنسی ہراسانی کیاجانا اور بچیوں کو رحم مادر میں ہی قتل کیا جانا بلا کسی روک ٹوک سے جاری ہے۔برطانوی ادارہ ’’ تھامسن روئٹرز فانڈیشن ‘‘کے تازہ سروے میں عورتوںکے لیے کام کرنے والے سات سو سے زیادہ ماہرین سے رجوع کیا گیا تھا جن میں سے تقریبا چھ سو افراد نے بھارت میں عورتوں کے ساتھ جنسی تشددپرمعلومات دیں۔
کتنابڑاالمیہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی بھارتی عورت جبر کی شکارہے اورمودی کی ناک کے نیچے اس پر تشدد کا اتنا تانڈو ناچ ہوتارہاجسے دیکھ کرعالمی ادارہ چیخ اٹھاکہ بھارت عورتوںکے لیے سب سے خطرناک ملک بن چکاہے۔تھامسن رائٹرز فانڈیشن نے کئی ایسے علاقوں جہاں جنگ مسلط ہے کے برعکس بھارت میں عورتوںکے ساتھ ہونے والا سلوک انتہائی افسوس ناک اور مایوس کن ہے۔برطانوی ادارے کی رپورٹ کوتوثیق کرتے ہوئے بھارت میں عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کے کوائف اکھٹا کرنے والے ایک ادارے Mapping Violence against women in Indiaنے اپنی ویب سائٹ Maps4aid.com
 پراعدادوشمارپیش کرتے ہوئے خم ٹھونک کرکہہ دیاہے کہ دلی کی موجودہ سرکارکے دوران بھارت میں عورت کا زندہ بچ جانا بہت بڑی بات ہے۔کسی بھی وقت اس ویب سائٹ پرجاکربھارت میں عورتوں کے ساتھ آبروریزی ،ظلم وتشددکو چیک کیاجاسکتاہے۔ کتنابڑاالمیہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی بھارتی معاشرے میںعورت مظلوم ترین جنس بنی ہوئی ہے۔یاد رہے کہ بھارتی حکومتِ نے 1961 سے ملک بھر میں جہیز ایکٹ کا نفاذ کر رکھا ہے جس کے تحت کسی بھی خاتون کو جہیز کی وجہ سے ہراساں کرنے پر مقدمہ درج کر ایا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ قانون کسی بھی طرح معاشرے کو سدھارنے کا باعث نہیں بن رہااور یہ عفریت کسی طرح بھی قابو نہیں آرہا۔ جہیز نہ لانے والی خواتین کو سسرال میں قتل بھی کیا جاتا ہے ۔ اس کے لیے زندہ جلانا ، حادثے پیدا کرنا، عورت کے ماں باپ کو بلیک میل کرنا ایک عام سی بات ہے۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں اس طرح کے جرائم کی کوئی تاریخ نہیں۔ خواتین کا اتنی بڑی تعدا دمیں ہلاک ہونا ایک ریکارڈ ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔اس حوالے یہ بھی جاننا چاہیے کہ اسی جہیز کی وجہ سے بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں عورتوں کی تعدادمردوں سے کم ہے۔
تیسری عالمی رپورٹ کشمیرمیں جاری ودری پوشوں کی بربریت پراقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے 14جون2018کوجاری ہوئی جس میں کشمیر میں انسانی حقوق پامالیوں کی صورتحال سے متعلق الزامات کے حوالے سے اعلی سطحی بین الاقوامی تحقیقات کی سفارش کی ہے۔ سوئٹزرلینڈکے شہر جنیوا میں 49صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے حقوق انسانی نے کشمیر میں سنگین نوعیت کی انسانی حقوق کی پامالیوں اورمرتکب بھارتی فوجی اہلکاروں کو سزانہ دئے جانے کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں کونسل کے سرابراہ نے خبردارکیاہے کہ 7دہائی پرانا تنازعہ کشمیراب تک ہزاروں ،لاکھوں زندگیوں کونگل چکاہے۔اقوام متحدہ کی کشمیر پرمفصل تحقیقاتی رپورٹ میں واضح طور پربتایاگیاکہ کشمیری عوام کو سنگین نوعیت کی خلاف ورزیوں اور پامالیوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔ رپورٹ میں ایسے متعدد واقعات کا حوالہ دیاگیاہے کہ جہاں حقوق انسانی پامالیوں اورخلاف ورزیوں کے مرتکب فوج سے وابستہ افسروں اوراہلکاروں کو مختلف قوانین کے تحت چھوٹ دی گئی اور ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔کشمیرعظمیٰ کے ہمارے قارئین کویادہوگاکہ چندماہ قبل اقوام متحدہ میں انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے نمائندے کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کا ذکر کرتے ہوئے رو پڑے تھے۔انہوں نے روتے بلکتے اقوام متحدہ سے بھارتی فوج کی بربریت کے خلاف قرار داد منظورکرنے کا مطالبہ کردیاتھا۔اس کے بعد اب اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے حقوق انسانی نے اپنی پہلی مفصل کشمیر رپورٹ میں کہاہے کہ تنازعہ کشمیر کے کئی پہلو ہیں ، جن میں ایک پہلو یہ کہ یہ تنازعہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اورٹکرا ئوکی بنیادی وجہ ہے ۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ کشمیر ی عوام کے لئے صورت حال جان لیوا بنی ہوئی ہے اور لاتعداد جانیں تنازع کشمیر کی نذر ہوچکی ہیں۔
 اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے حقوق انسانی نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ کشمیر میں 1990سے لاگو آرمڈ فورسز اسپیشل پارس ایکٹ( افسپا) کے تحت چونکہ آرمڈ فورسز کو لامحدود اختیارات دینے کے ساتھ ساتھ قانونی کارروائی سے بھی استثنیٰ دیاگیاہے ، ا س لئے خلاف ورزیوں کے مرتکب اب تک قانونی کارروائی سے بچتے رہے ہیں اور یہ ایک بڑی وجہ ہے کہ کشمیر میں حقوق انسانی پامالیوں کا تسلسل جاری ہے ۔ قیامتوں ،آندھیوں ، ہلاکتوں،اذیتوں ، تکلیفوں اورپریشانیوں کے مارے کشمیریوں نے اس رپورٹ کاخیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ میںالمیوں کی سرزمین کا دُکھڑا پہلی بار سنا گیا، پہلی بار کربلائے کشمیر میں تارتار قبائے انسانیت کا ذکر چھڑا، گوکہ بہت پہلے داستان غم کوالم نشرح کرلیناچاہئے تھالیکن چلئے دیر آید درست آید مگریہ کہ اقوامِ متحدہ جیسے ذمہ دار ادارے کو اپنی اعتباریت اور افادیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے اور مظلوم وکمزور قوموں کے جائز مطالبات اور مفادات کا تحفظ فراہم کرنے کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ 
14جون2018کواقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے اجراکئے جانے کے حوالے سے کشمیر کی تاریخ کا ایک اہم ترین دن قراردیاجائے توبے جانہ ہوگاکیوںکہ یہ سب سے بڑے عالمی فورم کے دستخطوں سے مزین ایک ایسی دستاویزہے جسے عالمی فورموں پرکشمیرکاز کے حوالے سے شہادت کے طورپرپیش کیاجاسکتاہے ۔یہ رپورٹ جموںوکشمیر کے عوام پر ہو رہے مظالم،اورحقوق انسانی کی سنگین پامالیوں پراقوام متحدہ کی اس امرپرگواہی ہے کہ جموںوکشمیر کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے بدترین انسانی بحران کا سامنا کررہے ہیں اور ان کاجرم صرف یہ ہے کہ وہ اپناپیدائشی حق مانگ رہے ہیں۔ اگرچہ اقوام متحدہ کو کشمیری عوام کے حوالے سے ذمہ داریوں کے ضمن میں پہلے سے اس طرح کی رپورٹ شائع کرنی چاہئے تھی تاہم آخر کار اقوام متحدہ نے اپنی خاموشی توڑدی ،واضح رہے کہ گزشتہ 30برسوں سے کشمیرمیں کالے قوانین، افسپا، مار دھاڑ، پیلٹ بلٹ اور زیر حراست ہلاکتوں کے بل پر کشمیری عوام کو پس دیوار کیا جارہا ہے ، جب کہ افسپا کے آدم خورعفریت کاننگاناچ جاری ہے ۔المیہ یہ ہے کہ حکومت بھارت نے کشمیر کے حوالے سے اپنی پالیسوں میں اصلاح کرنے کے بجائے عالمی ادارے کی اس رپورٹ کو یکسر مسترد کردیا ۔کشمیری عوا م کی طرف سے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن کے سربراہ کو اس طرح کی رپورٹ منظر عام پر لانے پر خراج تحسین ادا کیا اور کہا کہ دنیا کے انصاف پسند ممالک کو اس رپورٹ کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہئے اور ساتھ ہی انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ ایک کمیشن کا قیام عمل میں لائیں جو کشمیر میں ہو رہی حقوق انسانی کی پامالیوں پرایکشن لے کرکشمیریوں کوظلم وبربریت سے نجات دلادے۔ 