تازہ ترین

حد متارکہ کا کڑوا سچ: زیر زمین بارودی سرنگوں سے لگے زخموں کا کوئی مداوا نہیں

ٹانگوں سے محروم 28افراد کئی برسوں سے مصنوعی اعضا کے منتظر

9 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر //حد متارکہ پر بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی زد میں آکر عمر بھر کے اپاہج ہو جانے والے افراد پچھلے کئی برسوں سے مصنوعی ٹانگوں کی مانگ کر رہے ہیں تاہم سرکار کی جانب سے قسمت کے ان ماروں کی داد رسی نہیں کی جارہی ہے ۔پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں کے ان مکینوں کاسرکار سے مطالبہ ہے کہ انہیں مصنوعی ٹانگیں فراہم کی جائیں تاکہ انہیںچلنے کے دوران مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کرناہ ، کیرن ،اوڑی،راجوری اور پونچھ کے سرحدی علاقوں میں فوج کی جانب سے جنگجوئوں کی نقل حرکت روکنے کیلئے بارودی سرنگیں نصب کی گئی ہیں جن کی زد میں آکر آج تک سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بن گئے جبکہ اس سے بھی زیادہ تعداد میں عمر بھر کیلئے اپاہج بن کر دوسروں کے محتاج ہوکر رہ گئے ہیں ۔صرف کیرن اور کرناہ میں ان سرنگوں کی زد میں آکر 35افراد اپنی ٹانگوں اور بازئوں سے محروم ہو چکے ہیں اور یہ افراد اب اپنے گھروں میں بے یار ومدد گارپڑے ہیں ۔ان افراد میں زیادہ تعداد اُن کی ہے جو فوج کے ساتھ بطور پورٹر کام کرکے اپنی روزی روٹی کماتے تھے ۔
جبڑی بجلدار کرناہ کے عبدالرشید ان ہی بدقسمت افراد میں سے ایک ہیں ۔ان کاکہناہے کہ وہ نو ے کی دہائی میں جبڑی میں ایک بارودی سرنگ کی زد میں آگیا جس کے باعث ایک ٹانگ ناکارہ بن گئی تاہم آج تک کسی نے بھی اس کی مدد نہیں کی اور بے یارو مددگار پڑاہے۔ محمد یونس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 90کی دہائی میںہی اس کی ٹانگ کرناہ میں بارودی سرنگ کی زد میں آکر کٹ گئی اور اسے اب چلنے پھرنے میں مشکلات کاسامناہے ۔کرناہ کے ہجیتراگائوں میں ایک خاتون سمیت دس افراد بارودی سرنگوں کا نشانہ بنے ہیں جن میں یوسف شیخ ولد علیم شیخ،مظفر ملک ولد حسین ملک،نصر دین ملک ولد معراج الدین ملک،سردین شیخ ولد جلیل قابل ذکر ہیں ۔ایسے لوگ ہر ایک سرحدی علاقے میں پائے جارہے ہیں جن کو اگرچہ محکمہ سماجی بہبود کی طرف سے ماہانہ قلیل سی رقم دی جاتی ہے تاہم اس سے ایک یا دو دن کا گزارا بھی مشکل ہے۔کیرن کے کبیر لو ن ، پرویز میر محمد طاہر اور یعوب خان اور تاجدار لون بھی انہی بارودی سرنگوں کی وجہ سے عمر بھر کیلئے اپنی ایک ایک ٹانگ سے محروم ہوگئے ہیں۔انہوں نے سرکار سے مانگ کی کہ اُن کیلئے مصنوعی ٹانگیں میسر کی جائیں ۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ضلع سوشل ویلفیئر افسر کپواڑہ ممتاز احمد نے کہا کہ ضلع میں مصنوعی ٹانگوں کے حوالے سے کوئی بھی مدد اور سہولیات نہیں ۔انہوں نے کہا کہ سرینگر میں اس کیلئے ایک ادارہ کام کررہا ہے جہاں مصنوعی ٹانگیں لگائی جاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے انتظامیہ سے کہا ہے کہ ایسی مصنوعی ٹانگیں بنائی جائیں جو یہاں کے لوگوں کیلئے مفید ہوں جس پرپہلے تووہ رضا مند ہو گئی تاہم پھر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس نے تعاون نہیں کیا ۔انہوں نے ٹانگوں سے محروم افراد سے کہا کہ وہ محکمہ کے ساتھ رابطہ کریں تاکہ اُن کی بھرپور مدد کی جا سکے ۔سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کرناہ ڈاکٹر الیاس کاکہناکہ ضلع ترقیاتی کشمیر کپوارہ نے اس حوالے سے تحصیل انتظامیہ سے پہلے ہی ایک لسٹ مانگی تھی جس پر انتظامیہ نے 28لوگوں کی ایک فہرست بلاک میڈیکل افسر ٹنگڈار کی میڈیکل رپورٹ کے بعد اعلیٰ حکام کو روانہ کردی ہے ۔