تازہ ترین

بغاوت کے بعد پی ڈی پی متحرک: 12ممبران اسمبلی سمیت 21اراکین قانون سازیہ محبوبہ مفتی سے ملاقی

9 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر//مخلوط سرکار کے خاتمے کے بعد سابق حکمران جماعت پی ڈی پی کے کچھ ممبران اسمبلی کی طرف سے بغاوت اور نئی حکومت سازی کی قیاس آرائیوں کے بیچ12ممبران اسمبلی سمیت 21 اراکینقانون سازیہ نے محبوبہ مفتی سے ملاقات کر کے انکی لیڈرشپ پر اعتماد ظاہر کردیا ہے۔کچھ ناراض ممبران قانون سازیہ کی پیر کو سابق وزیر اعلیٰ سے ملاقات متوقع ہے۔تاہم عمران رضا انصاری نے کہا ہے کہ اگر پارٹی کی قانون سازیہ میٹنگ بھی طلب کی گئی تو وہ حاضر نہیں ہونگے۔ ریاست میں نئی حکومت سازی اور پی ڈی پی میں دو پھاڑ ہونے کے بیچ اتوار کو سابق حکمران جماعت پی ڈی پی کے بیشتر اراکین قانون سازیہ پارٹی صدر سے ملاقی ہوئے۔ ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ان قانون سازیہ کے ممبران نے انفرادی طور پر علیحدہ علیحدہ سابق وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی،اور اس دوران موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع نے بتایا ’’ ممبران اسمبلی نے پارٹی صدر کو ناراض ممبران اسمبلی کی ناراضگی کو دور کرنے کیلئے ا نکے جائز مسائل کو حل کرنے کیلئے فہام و تفہم کے امکانات کو تلاش کرنے پر زور دیا‘‘۔پارٹی کے اندروانی ذرائع نے مزید بتایا کہ ممبران قانون سازیہ نے سابق وزیر اعلیٰ کی لیڈرشپ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انفرادی سطح پر کسی کو کوئی شکایت ہو سکتی ہے،تاہم ان شکایات کو دور کیا جاسکتا ہے۔پارٹی کے ایک ممبر اسمبلی نے کشمیر عظمیٰ کو نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا’’ محبوبہ مفتی کے ساتھ انکی معمول کی میٹنگ تھی،اور وہ کافی عرصے سے محبوبہ مفتی سے تبادلہ خیال کرنے کیلئے میٹنگ کرنا چاہتے تھے‘‘۔معتبر ذرائع کے مطابق’’ ممبران قانون سازیہ نے محبوبہ مفتی سے رضا کارانہ طور پر پیشگی میں انکے پاس (بقیہ صفحہ8پر، بغاوت کے بعد)
مستعفی نامہ پیش کرنے کی تجویز بھی دی،تاہم محبوبہ مفتی نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے ممبران پر اعتماد اور بھروسہ ہے‘‘۔ ممبران قانون سازیہ نے سابق وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ’’پی ڈی پی ایک مشن ہے،اور وہ ایک مشن کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،اور محبوبہ مفتی کی قیادت میں وہ اس مشن کی آبیاری کریں گے‘‘۔ادھر پارٹی کے کچھ ممبران اسمبلی نے سابق وزیر اعلیٰ سے ملاقی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے محبوبہ مفتی کو اس بات کا بھروسہ دیا کہ وہ انکی پشت پر ہے،اور کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔پارٹی کے سنیئر لیڈر اور ممبر اسمبلی بٹہ مالو شیخ نور محمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اتوار کو انہوں نے پارٹی صدر سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا’’ ہمارے شہروں کو دیکھ کر لوگوں کو ووٹ نہیں دیا،بلکہ انہوں نے قلم دوات کو ووٹ دیا‘‘۔انہوں نے مزید کہا ’’ عمران رضا انصاری،عابد انصاری اور یاسر ریشی نے پی ڈی پی کے نام پر ووٹ لئے،تاہم اگر عمران رضا انصاری کو کوئی شکایت تھی تو انہوں نے اس وقت کیوں نہیں کی،جب وہ وزیر تھے‘‘۔ اس دوران ممبر اسمبلی وچی نے بھی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے ملاقات کی،جس کے دوران ان کی لیڈرشپ پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی نے ملنے والوں میں سابق وزیر محمد خلیل بندھ، سابق وزیر مملکت ظہور احمد میر، ممبر اسمبلی شوپیاں محمد یوسف بٹ، ممبر اسمبلی ترال مشتاق احمد شاہ،ممبر اسمبلی رفیع آباد یاور دلاور میر،ممبر اسمبلی کرنا راجا منظور شامل تھے۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ سابق وزیر خزانہ سید الطاف بخاری کی والدہ کے انتقال کی وجہ سے وہ محبوبہ مفتی سے ملاقی نہیں ہوئے،جبکہ ممبر اسمبلی پونچھ شاہ محمد تانترے،ریاستی گورنر کے پونچھ دورے کی وجہ سے وادی نہ آسکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر ایڈوکیٹ عبدالحق خان جے پور میں نجی کام سے گئے ہوئے ہیں تاہم انہوں نے فون پر پارتٰ ہائی کمان سے رابطہ قائم کیا ہے جبکہ سابق وزیرخزانہ ڈاکٹر حسیب درابو بھی ممبئی میں ہیں اور انہوں نے بھی رابطہ قائم کرلیا ہے۔اس مقامی خبر رسان ایجنسی نے سابق وزیر عمران رضا انصاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا’’اگر  مجھے پارٹی کی قانون سازیہ کی میٹنگ میں دعوت بھی دی جائے گی،تاہم میں اس میں شرکت نہیں کرئو ں گا‘‘۔سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی سربراہی والی مخلوط سرکار میں شامل حلیف جماعت بی جے پی کی طرف سے حمایت واپس لینے کے بعد قریب3سال3ماہ پرانی مخلوط سرکار کا خاتمہ ہوا،جس کے بعد پی ڈی پی کے ممبران اسمبلی نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے عملاً بغاوت شروع کی۔ مخلوط سرکار کے خاتمے کے صرف15 روز بعد یکم جولائی کو پارٹی کے سنیئر لیڈر اور ممبر اسمبلی جڈی بل نے پارٹی اور پارٹی صدر کی کھل کر تنقید کی،اور پارٹی پر کاندانی راج کے غلبے کا الزام عائد کیا۔عابد انصاری نے یہاں تک کہا’’اگر لوگوں کیلئے اچھی متبادل جماعت ملتی ہے،تو وہ اس میں جانے سے عار محسوس نہیں کرینگے‘‘۔عابد انصاری کے بیان کے صرف ایک روز بعد سابق وزیر اور انصاری کے بھتیجے عمران رضا انصاری نے چاچا سے ایک قدم آگے چل کر پارٹی کو سخت نکتہ چینی کا نشانہ بنایا،اور پارٹی کو ماما،بھانجے کی جماعت قرار دیا۔انہوں نے واضح کیا کہ وہ جماعت سے باہر جاکر کسی بھی اس جماعت میں جا سکتے ہیں،جہاں پر نظریاتی ملاپ ہو،اور خاندانی راج نہیں ہو۔ چاچا بھتیجے کے بیان کے بعد جیسے پی ڈی پی کے ناراض لیڈروں کی لائن ہی لگ گئی اور انہوں نے پارٹی قیادت کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ممبر اسمبلی بارہمولہ جاوید حسین بیگ،ممبر اسمبلی گلمرگ محمد عباس وانی،ممبر اسمبلی دمحال ہانجی پورہ عبدالمجید پڈر اور قانون ساز کونسل کے رکن یاسر ریشی نے عمران رضا انصاری کے یاں میں ہاں ملا دی۔