تازہ ترین

دیہی علاقوں میں اسکولوں کا کوئی پرسان حال نہیں

13 مئی 2018 (48 : 09 PM)   
(      )

ریاست جموں وکشمیر کی سرکارجہاں آئے دن محکمہ تعلیم کے لیے نت نئی سہولیات فراہم کرنے کا دعویٰ کررہی ہے وہیں تعلیمی نظام دن بدن خستہ ہوتاجارہا ہے۔تمام تر اسکیمیں سرکاری دفاتر میں کاغذوں تک محدود ہیں۔زمینی سطح پر کوئی بھی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔شہروں میں اگرچہ کہیں نہ کہیں اساتذہ حاضری دینے پر مجبور ہیں اور اسکولوں میں تھوڑی بہت سہولیات بھی میسر ہیں لیکن دیہی علاقوں میں تعلیمی نظام کی حالت زار اور ابتری کا رونا ہر فرد رورہاہے۔ اسکول تعلیمی سہولیات بلکہ بیت الخلاء اور نل سے محروم ہیں۔سرکاران کی طرف بالکل توجہ نہیں دے رہی ہے۔بیشتر اسکول پچھلی ایک دہائی سے زیر تعمیر ہیں اور زیادہ تر پایہ تکمیل تک پہنچنے سے قبل ہی زیر خاک ہو چکے ہیں۔بچوں کے بیٹھنے کے لیے کوئی بندوبست نہیں ہے اور اساتذہ کو نا خوشگوار موسم کی صورت میں اسکول بند رکھنے کا بہانہ ملتا ہے۔تیز دھوپ میں جہاں ہمارے ننھے پھول دھول چھان رہے ہوتے ہیں ، وہیں اساتذہ درختوں تلے او نگھ رہے ہوتے ہیں یا انگڑائیاں لے رہے ہوتے ہیں۔دیہی علاقوں کے بیشتر اسکول عمارتوں سے محروم ہیں۔وہیںدوسری طرف ہمارے اساتذہ اتنے غافل اور کاہل ہو چکے ہیں کہ یاتو اسکول جانا ہی گوارہ نہیں کرتے اور اگر کسی دن چلے بھی گئے تو دن بھر بچوں سے ٹانگیں دبوانے اور انگڑائیاں لینے میں مصروف رہتے ہیں۔زیادہ تر اساتذہ تجاراور ٹھیکیدار بن چکے ہیں۔اس وجہ سے تعلیمی نظام آئے دن بدتر ہوتا جارہاہے اور ریاستی حکومت لب ِ بام محوتماشہ ہے۔
تعلیمی نظام اس گھٹیار معیار پر آگرا ہے کہ آٹھویں جماعت میں پہنچنے کے بعد بھی بچے حروفِ تہجی سیکھنے کے منتظر رہتے ہیںلیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ پھر بھی کوئی بچہ کسی جماعت میں فیل کیا جاتاہے نہ اسے ری ایپیردکھایا جارہاہے۔ شاید اس کی یہی وجہ ہے کہ سال بھر کے حصے کی محنت ہمارے اساتذہ امتحان کے دوران پرچیاں تقسیم کرنے میں لگے رہتے ہیں۔سرکارنے اساتذہ کے ساتھ یہ ناانصافی ضرور کی ہے کہ نتیجہ اچھانہ آنے پر تنخواہ بند کردی جاتی ہے۔اس لیے ان مظلوموں کو امتحان کے دوران متحرک رہنا پڑتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ معتبر پیشے سے تعلق رکھنے والے بیشتر اساتذہ کام چوری پر کمربستہ ہیں۔اس بات کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ پرائیویٹ اسکول میں چار ہزار پر کام کرنے والا استاد پچاس ہزار تنخواہ لینے والے پر سبقت لئے جارہے ہیں۔اگرچہ پرائیویٹ اسکولوں کے روپ میں تعلیم کاسرشتہ کہیں کہیںزندہ ہے لیکن سرکاری اسکولوں کا شیرازہ بالکل بکھر چکا ہے۔اس سے غریبوں کے بچے تعلیم سے یکسر محروم ہوتے جارہے ہیں اور ہمارے غیرت مند اساتذہ سرکار سے تنخواہ وصول کرکے اپنے بچوں کو اچھے اچھے پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم دیتے جارہے ہیں اور خود غریبوںکے بچوں کی تعلیمی زندگیاں برباد کررہے ہیں۔محکمہ تعلیم کی لاپرواہی اور غفلت کو دیکھ کریہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ دور حاضر میں وہ غریب جو پرائیویٹ اسکول میں اپنے بچے کو تعلیم نہیں دے سکتا، اس کے لیے تعلیم وتدریس کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی ہے، کیوںکہ سرکار نے اسکول صرف اساتذہ اور محکمے کے دیگر ملازمین کے کنبوں کو پالنے کے لیے کھولے ہوئے ہیںنہ کہ بچوں کو تعلیم دینے کے لیے۔
خالد کولی
 مرہوٹ، سرنکوٹ جموں
Mob. 9682187605