تازہ ترین

فٹ پاتھوں پردکانداروں کاناجائزقبضہ، راہگیروں کومشکلات کاسامنا

جموں میونسپل کارپوریشن سے تجاوزات ہٹانے کیلئے اقدامات اٹھانے کامطالبہ

10 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

کیف حسن زیدی
جموں//فٹ پاتھ کامطلب پیدل چلنے کاراستہ ہے اوریہاں جموں شہرمیں فٹ پاتھوں پردکانداروں کے ناجائزقبضے کی وجہ سے راہگیروں کوسخت دشواریوں کاسامناکرناپڑرہاہے لیکن جموں میونسپل کارپوریشن کی ناجائزتجاوزات ہٹانے کی مہم برائے نام ہی ہے جس کاخمیازہ عام لوگوں کوجھیلناپڑرہاہے۔شہرکے مختلف بازاروں میں خریداری کرنے والوں کاکہناہے کہ فٹ پاتھ سرکار نے لوگوں کے چلنے کے لئے بنائے ہیںتاکہ لوگ ان فٹ پاتھوں پر چلیں اور آنے جانے والی گاڑیوں سے محفوظ رہیں،لیکن موجودہ صورتحال الٹی ہے کیونکہ لوگوں کامحفوظ رہناتو ایک طرف ، لوگ فٹ پاتھوںپر دکانداروں کے ناجائزقبضے کی وجہ سے چلنے سے قاصرہیں جس کی وجہ سے انہیں سڑکوں پرچلنے کیلئے مجبورہوناپڑتاہے ۔اس کی روشن مثال  شہرکی شہیدی چوک ،راجندربازار سڑک سے کنک منڈی کی طرف جانے والی سڑک ہے ،لکھداتا بازار سڑک اور خاص کر کنک منڈی سڑک جو کہ کر سٹی چوک تک جا تی ہے۔ان سڑکوں پرجو فٹ پاتھ بنے ہوئے ہیںیہ فٹ پاتھ برائے نام ہوکررہ گئے ہیںکیونکہ ان فٹ پاتھوں کو وہاں کے دکانداراپنا سامان رکھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔اگر کپڑے کی دکان ہے تو باہر فٹ پاتھ پر کپڑے لگائے ہوئے ہیں،منیاری والے دکان دار اپنا سامان باہر فٹ پاتھ پر رکھے ہوئے ہیں،کرسی والے دکاندار اپنی کرسیاں باہر فٹ پاتھ پررکھے ہوئے ہیں،الیکٹرانکس والوں نے اپنے الیکٹرانک کا سامان باہر فٹ پاتھ پر رکھا ہوا ہے،راشن ودالے دکانداروںنے اپنا سامان راشن وغیرہ تک باہر رکھا ہوا ہے۔الغرض ان فٹ پاتھوں پر دکانداروں نے پوری طرح سے قبضہ کررکھا ہے۔کچھ دکاندار ایسے ہیں جن کا سامان دکان کے باہر نظر نہیں آتاہے ۔کنک منڈی میں لوگوں نے بتایاکہ کنک منڈی بھی کسی سے کم نہیں ہے جہاں سڑک پر بے شمار گاڑیاں تو پارک ہوتی ہی ہیں ساتھ ہی وہاں کے فٹ پاتھ کا بھی برا حال ہے ۔وہاں کے فٹ پاتھ پر بھی لوگوں کا چلنا دوبھر ہو گیا ہے۔ایسا نہیں کہ یہ بات کسی کو معلوم نہیں ہے بلکہ پورا جموں اس بارے میں جانتا ہے۔لوگوں نے بتایاکہ فٹ پاتھ لوگوں کے پیدل چلنے کیلئے بنائے گئے تھے ان پر تو لوگ صرف کچھ ہی قدم چلتے ہیں اور ان فٹ پاتھوں پر چلتے چلتے اگر کوئی سامان سامنے آتا ہے تو وہ نیچے سڑک پر چلنے پر مجبور ہوتے ہیں،جس کہ وجہ سے انہیں چلنے میں پریشانی ہوتی ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ پہلے سے ہی ان سڑکوں پر گاڑیاں کھڑی ہوئی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے سڑک اور تنگ ہو گئی ہے اگر یہ لوگ سڑک پر چلتے ہیں تو جو سامنے یا پیچھے سے آنے والی گاڑی ہوتی ہے وہ ہارن مارتی ہے اور سینکڑوں ہارن کی آوازوں سے نائس پولیوشن ہوتا ہے۔پھر یہ لوگ فٹ پاتھ پر چڑھتے ہیں جن پر بہت کم جگہ ہوتی ہے،سڑک پر اچانک اترنے سے کافی حادثے بھی ہو جاتے ہیں۔یہ روز کی بات ہے یہ کوئی نئی بات نہیں کہ جس کے بارے میں کسی کو معلوم نہ ہو۔تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ فٹ پاتھ لوگوں کے پیدل چلنے کیلئے بنائے گئے ہیں تو پھر ان پر دکانداروں نے ناجائز قبضہ کیوں کر رکھا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کوپیدل چلنے میں پریشانی ہوتی ہے۔جموں کے لوگوں نے جموں میونسپل کارپوریشن سے اپیل کی ہے کہ جلد سے جلد سخت اقدامات اٹھاکرفٹ پاتھوں سے دکانداروں کے ناجائزقبضے کوہٹایا جایاجائے تاکہ لوگوں کوپریشانیوں کاازالہ ہوسکے۔