تازہ ترین

کپوارہ ہلاکت کی مجسٹریل انکوائری کا حکم، فوج کیخلاف کیس درج

نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں کی شرکت، ضلع میں بندشیں، ہڑتال اور مظاہرے

13 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشرف چراغ
کپوارہ // ترہگام ہلاکت کیخلاف بڑے پیمانے پر ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے خدشہ کے پیش نظر جمعرات کوکپوارہ ضلع میں مکمل ہڑتال کے دوران بندشیں عائد کی گئیں اور ترہگام میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ رہا۔طالب علم کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے جس کے بعد مظاہرین اور فورسز میں جم کر تصادم آرائی ہوتی رہی۔ادھرریاستی حکومت نے ترہگام میں بدھ کی شام پیش آئے ہلاکت کے واقعہ کی مجسٹریل انکوائری کے احکامات صادر کئے ہیں۔ دوسری جانب پولیس نے واقعہ کی نسبت فوج کے خلاف اقدام قتل کا کیس دائر کردیا ہے۔

ہڑتال اور بندشیں

بدھ کی شام فوج کی راست فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت پر کپوارہ ضلع میں مکمل ہڑتال رہی جبکہ حساس علاقوں میں انتظامیہ نے بندشیں عائد کی تھیں۔ ضلع کے ہندوراہ، چوگل، کپوارہ ، لنگیٹ ، کرالہ پورہ اور ترہگام میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ترہگام میں ضلع ہڈکوارٹر پر بندشیں عاعد کی گئی تھیں تاہم ترہگام میں بندشیں توڑ کر مظاہرے کئے گئے۔ہڑتال اور بندشوں کی وجہ سے پورے ضلع میں ہر قسم کی آمد و رفت معطل رہی۔انتظامیہ نے بدھ کی شام ہی تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کے احکامات صادر کئے تھے۔ ضلع میں کاروباری و تجارتی سرگرمیاں مفلوج ہوکر رہ گئیں اور مکمل پہیہ جام بھی رہا۔

نماز جنازہ اور احتجاج

مہلوک نوجوان کی ہلاکت پر کپوارہ ضلع میں فضائیں سوگوار رہیں۔خالد کی لاش رات کے دو بجے انکے لواحقین کے حوالے کی گئی۔ہلاکت پر مقامی لوگوں نے مین چوک ترہگام میں شبانہ مظاہرے کئے جبکہ کنن پوشہ پورہ ، پئی پورہ، پائر، ڈولی پورہ اور گگلوسہ کے لوگوں نے ترہگام پہنچ کر احتجاج میں شرکت کی ۔جمعرات کی صبح ہزاروں کی لوگوں کی موجودگی میں خالد کی لاش مرکزی جامع مسجد ترہگام کے صحن میں جنازہ کے لئے لائی گئی تو لوگ اپنے گھروں سے کرفیو توڑ کر جنازہ گاہ پہنچ گئے۔ اس دوران فورسز اور مشتعل نوجوانوں کے درمیان پر تشدد جھڑپیں ہوئیں۔ فورسز کی شلنگ سے نصف درجن نوجوان زخمی ہوگئے۔ جس کے بعد فورسز نے راہ فرار اختیار کی۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے خالدکی نماز جنازہ  میں شرکت کی جس کے بعد اسے اپنے آبائی قبرستان میں سپردخاک کیا گیا۔نماز جنازہ کے بعد ایک بہت بڑا جلوس نکالا گیا جس میں ہزاروںلوگ شریک ہوئے۔اس دوران نہ صرف وہاں ماتم اور آہ و زاری کے رقعت آمیز مناظر دیکھے گئے بلکہ علاقہ میں اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کی گئی۔اس دوران جلوس جب مین چوک ترہگام پہنچ گیا تو وہاں فورسز اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں جو دن بھر جاری رہیں۔شام دیر گئے تک فورسز اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری تھا۔ 

مجسٹرئیل انکوائری

 ضلع مجسٹریٹ کپوارہ خالد جہانگیر نے واقعہ کی مجسٹریل انکوائری کے احکامات صادر کئے ۔ انہوں نے بتایا ’ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ (ہندوارہ) مظفر حسین کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے۔ انہیں تحقیقاتی عمل ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کے لئے کہا گیا ہے‘۔
ایف آئی آر
 پولیس نے واقعہ کی نسبت فوج کے خلاف تین دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرلیا ہے۔ترہگام پولیس سٹیشن میں خالد کی ہلاکت کیخلاف کیس زیر نمبر 46/2018 زیر دفعات307, 336,149 آر پی سی درج کر لیا ہے۔پولیس نے فوج کی 5 بہار رجمنٹ یونٹ کو خالد کے قتل میں ملوث قرار دیا ہے۔