تازہ ترین

میراماندریاںتحصیل کا سڑھ کانڈی گائوں بنیادی سہولیات سے محروم

انتظامیہ کی عدم توجہی کے شکارمشکلات جھیل رہے لوگ گورنرسے فریادی

13 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

طارق ابرار
 جموں//اگرچہ جموں وکشمیرنے آزادی ہندوستان کے ستربرسوں میں تعمیروترقی کے بے شمارسنگ طے کیالیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ابھی بھی ضلع جموں میں ایسے دیہات اوربستیاں موجودہیں جہاں کے لوگ آج تک بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اورروزمرہ زندگی میں بے شمارمشکلات جھیلنے پرمجبورہیں تاہم ضلع وتحصیل انتظامیہ بنیادی سہولیات سے محروم باشندوں کوآئینی حقوق دینے سے قاصرہے ۔اس کی نمایاں مثال ضلع جموں کی تحصیل میراماندریاںسے لگ بھگ 20کلومیٹردور کاگائوں کانڈی ہے جہاں سینکڑوں کنبے انتظامیہ کی عدم توجہی کاشکارہوکر آزادی ہندوستان کے 70سال گذرنے کے بعدبھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اورانتظامیہ ہاتھ پرہاتھ دھرے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جس کے منفی اثرات کانڈی گائوں کے لوگوں اوران کی نوجوان نسلوں پرمرتب ہورہے ہیں۔اس سلسلے میں نمائندہ کوتفصیلات بتاتے ہوئے مقامی شخص نیک عالم نے کہاکہ اکھنورسے لگ بھگ 20کلومیٹرکی دوری پرآبادکانڈی گائوں کے محلہ سڑکے ڈیڑھ سوکنبے گذشتہ کئی دہائیوں سے گائوں میں پکی سڑک اورطبی سہولیات کاخواب دیکھ رہے ہیں لیکن تاحال کسی بھی سرکارنے ہمارے گائوں کوبنیادی سہولیات فراہم کرنے کی سعی نہیں کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ تحصیل انتظامیہ میراماندریاںاورضلع انتظامیہ جموں کو متعددبارگائوں والوں کوبنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے سبب درپیش پریشانیوں سے متعلق  تحریری وزبانی تحریری طورگذارشات پیش کیں لیکن ان عرضیوں کوانتظامیہ نے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیااورلوگوں کوبنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے عملی طورپرکوئی بھی قدم نہیں اٹھایاجس کی وجہ سے گائوں جدیداورتیزرفتارترقی کے دورمیں بھی پسماندہ اوردیگردیہات سے پچھڑکررہ گیاہے ۔عبدالقادرنامی ایک شخص نے کہاکہ اس گائوں کی حالت دیکھ کروزیراعظم نریندرمودی کے ڈیجیٹل انڈیا کے نعرے پرہنسی آتی ہے کیونکہ آج بھی ہندوستان بالخصوص جموں وکشمیرکے ضلع جموں کی تحصیل اکھنورمیں کانڈی جیسے بے شمارایسے دیہات ہیں جنھیں تعمیروترقی کی ہواتک نہیں لگی ہے جوکہ افسوس کی بات ہے۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی سترفیصدآبادی دیہات میں رہتی ہے توہندوستان تب تک ڈیجیٹل نہیں بن سکتاہے جب تک تمام دیہات میں بنیادی سہولیات کی فراہمی نہ ہو۔تنویراحمدنامی ایک بچے نے کہاکہ ہماراسکول تین کلومیٹردورہے جہاں ہمیں پیدل جاناپڑتاہے ۔انہوں نے کہاکہ پرائمری اورپری پرائمری نیزآٹھویں جماعت تک کے بچے بھی سکول تک اکیلے نہیں جاسکتے ہیں جس کی وجہ سے بے شماربچوں اوربچیوں نے تعلیم کے سلسلے کوترک کردیاہے۔نیک عالم نے مزیدکہاکہ برسات کے موسم میں ہرسال کئی لوگ جنہیں سانپ یادیگرزہریلے کیڑے کاٹ لیتے ہیں یاپھرحاملہ خواتین گائوں  میںسڑک اور ہیلتھ سنٹرکی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ایس ڈی ایچ اکھنورتک نہیں پہنچ پاتے ہیں اورراستے میں ہی دم توڑدیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارے گائوں تک بالخصوص مڈل سکول کانڈی سے محلہ سڑگوجربستی تک پہونچنے کیلئے چارکلومیٹرسڑک کی ضرورت ہے جوفی الحال کچی ہے جسے مقامی لوگوں نے نریگاکے تحت مزدوری کرکے تعمیرکیاہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے بہت سی سرکاریں دیکھی ہیں لیکن کسی بھی سرکاریاتحصیلدارنیز ڈی سی نے محلہ سڑکانڈی کی چارکلومیٹرسڑک تعمیرکرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے۔ انہوں نے کہاکہ انتخابات کے دنوں میں برساتی مینڈکوں کی طرح بہت سے لیڈرنمودارہوتے ہیںجووعدے کرکے ہمارے ووٹ لے جاتے ہیں اوربعدمیں گائوں کی تعمیروترقی کیلئے کوئی بھی اقدامات نہیں اٹھاتے۔ مقامی لوگوں نے ریاستی گورنراورتحصیل وضلع انتظامیہ سے پرزورمطالبہ کیاہے کہ کانڈی گائوں کے محلہ سڑمیں سڑک اورہیلتھ سنٹرکی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ لوگوں کی مشکلات کاازالہ ہوسکے۔