تازہ ترین

نواز شریف، مریم اور صفدر کے وارنٹ گرفتاری جاری

سابق وزیر اعظم کا سزا کیخلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ

8 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 اسلام آبادٌٌ // پاکستان احتساب عدالت نے نواز شریف، مریم اور کیپٹن (ر) صفدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔قومی احتساب بیورو (نیب) نے احتساب عدالت سے نواز شریف، مریم اور کیپٹن صفدر (ر) کے وارنٹ گرفتاری حاصل کرلیے ہیں۔ نیب کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ احتساب عدالت سے حاصل کرلیا ہے اور گرفتاری کے وارنٹ بھی حاصل کرلئے ہیں۔ قانون کے مطابق نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر، حسن اور حسین نواز کی گرفتاری کے لئے لائحہ عمل کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔نیب نے نواز شریف کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ معلوم ذرائع سے زائد اثاثے ہونا نیب احتساب آرڈیننس کے تحت کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔احتساب عدالت نے گزشتہ روز نواز شریف، مریم اور کیپٹن (ر) کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنایا ہے۔  عدالت نے معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ اور بے نامی دار کے نام پر جائیداد بنانے پر نواز شریف کو نیب آرڈیننس کے سیکشن 9 اے فائیو کے تحت سزا سنائی تاہم نیب آرڈیننس کے سیکشن 9 اے فور یعنی کرپشن کے پیسے سے جائیداد بنانے کے الزام سے بری کردیا۔ اس پر نواز شریف اور ان کے حامیوں نے اپنے ردعمل میں کہا کہ انہیں کسی کرپشن پر اور سرکاری خزانے کی خرد برد پر سزا نہیں دی گئی۔دریں اثنا ء نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے لیے وارنٹ گرفتاری احتساب عدالت سے حاصل کرلیے ہیں اور وزارتِ داخلہ نے کیپٹن صفدر کا نام بلیک لسٹ میں شامل کردیا ہے۔اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جمعے کو ایون فیلڈ ریفرنس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو 10 سال قید اور 80 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ، ان کی صاحب زادی مریم نواز کو سات سال قید اور 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔سابق وزیرِ اعظم نے ہفتے کو لندن سے اپنی قانونی ٹیم سے ٹیلی فونک کے کانفرنس کے ذریعے احتساب عدالت کے فیصلے پر مشاورت کی۔اطلاعات کے مطابق نوازشریف کی قانونی ٹیم نے انہیں جلد از جلد پاکستان آنے کا مشورہ دیا ہے اور احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا بھی کہا ہے۔نوازشریف نے اپنی لیگل ٹیم کو اسلام ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ پیر کو اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردی جائے گی۔نوازشریف نے وطن واپسی کے لیے اپنی قریبی رفقا سے بھی مشاورت شروع کردی ہے لیکن ابھی اس بات کا تعین ہونا باقی ہے کہ وہ لاہور میں اتریں گے یا اسلام آباد میں۔نواز شریف نے گزشتہ روز عدالتی فیصلے پر اپنے ردِ عمل میں کہا تھا کہ وہ اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی حالت بہتر ہوتے ہی وطن واپس آئیں گے۔دریں اثنا نیب کی ہدایت پر وزارتِ داخلہ نے نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کا نام بلیک لسٹ میں ڈال شامل کردیا ہے۔