تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

6 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(   صدرمفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیراحمد قاسمی
 سوال: اگرچہ سارا بینکنگ نظام سود خوری کے زمرے میں آتا ہے لیکن اس کے باوجود گیس کنکشن نکالنے کےلئےبینک اکائونٹ کھولنا لازمی ہے اور ہمارے ملازمین حضرات کو بھی بینک کے ذریعے ہی تنخواہ واگزار کی جاتی ہے۔ ایسی صور ت میں اس نظام سے بچنے کےلئے شریعت کا کیا حکم ہے؟۔
مبارک لون ۔۔۔سرینگر
لازمی ضروریات کےلئے بنک کھاتہ کھولنا جائز
جواب:۔ یقیناً بینکنگ کا موجودہ سارا نظام سودی لین دین پر قائم ہے، اس لئے اس سودی نظام کے لین دین میں شریک ہونا ہر گز جائز نہیں ہے لہٰذا اگر کسی نے بینک میں اس وجہ سے اکائونٹ کھولاتاکہ وہ سود حاصل کرے تو اس نیت سے اکائونٹ کھولنا حرام ہے۔ کیونکہ یہ نیت فاسد ہے اور پھر سود لے کر خود کےلئے استعمال کرنا تو اللہ سے اعلان جنگ کا مخاطب بنتا ہے،جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔ اگر کسی شخص نے سودی رقوم حاصل کرنے کی نیت کے بغیر کسی اور غرض کےلئے بنک میں کھاتا کھولا ہو تو وہ اس حرام کے زمرے میں نہیں آتا ۔ مثلاً ملازم کو تنخواہ لینی ہے، گیس کنکشن کا معاوضہ بذریعہ بینک ہی ادا کرنا ہے، یا رقم ٹرانسفر کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس طرح کی ضروریات کےلئے بینک میں کھاتہ کھولنا جائز ہے اور اس کے کھاتہ میں اگر کوئی سودی اضافہ ہو ا تو وہ سودی اضافے والی رقم اپنی ذات پر ہر گز خرچ نہ کرے ورنہ سود کھانے کا سنگین گناہ یعنی حرام کھانا لازم آئے گا۔ اس لئے کھاتہ کھولتے ہوئے اولاً صرف کرنٹ اکائونٹ کھولا جائے، جس میں سود لینے یا دینے کا مسئلہ ہی نہ ہوگا اور اگر کرنٹ کھاتہ نہ کھولا جاسکے تو پھر سیونگ کھاتہ کھولا جائے مگر سود نکال کر شرعی ضوابط کے مطابق مقرر مصرف میں خرچ کیا جائے۔
سوال:۔ ایک مقامی جامع مسجد شریف کی ایک علیحدہ بلڈنگ مسجد شریف کی آمدنی کے واسطے تعمیر کی گئی ہے۔ اب اس بلڈنگ کو کرایہ پر دیا گیا ہے۔ جو بھی کرایہ وصول ہوتا ہے اس کو مسجد شریف کےتعمیراتی کاموں اور دیگر ضروریات  کےلئے خرچ کیا جاتا ہے۔ کچھ سالوں سے یہ بلڈنگ ایک بنک کو کرایہ پر دی گئی ہے۔ کیا اس بلڈنگ کو بینک کو کرایہ پر دینا جائز ہے نیز کیا اس سے حاصل شدہ کرایہ مسجد شریف پر خرچ کرنا جائز ہے؟ شریعت کے رو سے جواب عنایت فرمائیں؟
نذیر احمد بٹ و حاجی ڈاکٹر غلام محی الدین بٹ 
نادی ہل بانڈی پورہ 
مسجد کی ملکیتی عمارت بنک کو کرائے پر دینا!
جواب:۔ بینک اگر چہ کئی مفید اور راحت کے کام بھی انجام دیتا ہے ۔ مثلاً رقوم کی حفاظت، رقوم کی منتقلی وغیرہ اور یہ دونوں آج کی اہم ترین ضروریات بن گئی ہیں۔ اس لئے کہ رقوم کی حفاظت کا دوسرا کوئی قابل اطمینان متبادل نہیں۔ اسی طرح رقوم کو دوسری جگہ یا دوسرے شخص کو منتقل کرنا ہوتو اس کا بھی کوئی ایسا راستہ نہیں کہ انسان بے فکر ہو کر رقم دوسری جگہ پہنچا سکے۔ ان دو اہم ضرورتوں کو بنک ہی انجام دے رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ بینک کا سارا کاروبار سود پر مبنی ہے اور اس کی آمدنی کا غالب تر حصہ صرف سود ہےاور یہ سراسر حرام ہے۔ اگر کوئی بلڈنگ بینک کو کرایہ پر دی گئی تو کرایہ کی رقم بھی بینک اپنے حاصل کردہ سود سے ادا کرےگا دوسرا کوئی جائز ذریعہ آمدنی بینک کے پاس نہیں کہ جس کے متعلق یہ کہا جائے کہ اس جائز آمدنی سے بلڈنگ کا کرایہ ادا ہو رہا ہے۔ بینک جب سودی رقم کرایہ کے طور پر دے گاتو ظاہر ہے اس کے متعلق مطلقاًحلال ہونے یا جائز ہونے کی بات اسلامی اصول کے مطابق متصورنہیں۔ اس لئے فتاویٰ کی تمام کتابوں میں سراحتہ ًموجود ہے کہ مسجد کی بلڈنگ بینک کو کرایہ پردینا جائز نہیں ہے ،اسلئے یہ امر معصیت میں تعاون کے قبیل سے ہے اور یہ قرآن کریم کے صریح حکم کے مطابق سخت منع ہے۔
سوال:۔ کم علمی کی وجہ سے پیدائش کے بعد بچوں کا عقیقہ نہیں ہوا۔اب چونکہ بچے جوان ہوئےاور اب علم ہوا تو کیا اس صورت میں عقیقہ کیا جاسکتا ہے؟
مشتاق احمد جانبازؔ
امیراکدل سرینگر
بچپن میں عقیقہ نہ ہوا ہو؟
جواب:۔ اگر لا علمی یا مالی کمزوری کی بنا پر کسی شخص نے اپنے بچوں کا عقیقہ بچپن میں نہ کرایا ہو تو اب بچوں کے جوان ہونے کے بعد عقیقہ کرنا لازم تو نہیں ہے مگر عقیقہ کرنے میں کوئی ہرج بھی نہیں ہے۔
سوال:۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ملازمت کے دوران کئی حضرات رشوت خوری کے مرتکب ہوجاتے ہیں اور ان کے طور طریقوں سے خزانہ عامرہ کو نقصان پہنچتا ہے لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ ان لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہے جو جلد ہی شرمندہ ہوکر خدا تعالیٰ سے معافی کے طلبگار ہو جاتے ہیںاور توبہ کرتے ہیں۔ مگر اس کےباوجود ان کے دل میں خلش قائم رہتی ہے اور ان کو معلوم نہیں پڑتا کہ کریںتو کیا کریں۔ برائے کرم ایسے حضرات کی رہبری کےلئے واضح کریں کہ سرکاری خزانہ سے ناحق پیسہ لیکر کفارہ کا کیا اسلامی طریقہ ہے۔
محمد یوسف ڈار
چاڈورہ بڈگام
دوران ملازمت خزانۂ عامرہ کو نقصان پہنچانے والوں کےلئے مشورہ!
جواب:۔ جن لوگوں نے قومی خزانے سے غیر شرعی و غیر قانونی طور پر رقوم نکالی ہوں تو ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ ان سے سراسر ظلم ، حرام کام اور حرام خوری کا ارتکاب ہوا ہے ۔ اب اگر دوران ملازمت یا ریٹائرمنٹ کے بعد احساس ہوا ہے کہ یہ حرام عمل ہے،تو اس کےلئے توبہ و استغفار بھی لازم ہے اور ساتھ ہی اُن رقوم کا حساب لگانا بھی ضروری ہے ،جو خزانہ عامرہ سے غیر شرعی طور پر نکالی گئی ہوں۔ پھر وہ رقوم کسی مناسب تدبیر سے خزانہ میں واپس داخل کردی جائیں۔ چاہئے اس کےلئے کوئی رسید بھی کاٹنی پڑے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک دفعہ ایک عظیم عالم باعمل حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نے ریل کا سفر کیا مگر جلدی کی وجہ سے ٹرین کا ٹکٹ نہ لے سکے۔ بعد میں اُسی فاصلے کا اُسی ٹرین کا ٹکٹ لے کر ضائع کر دیا ۔ اس طرح رقم واپس داخل کر دی۔ اس سلسلے میں آج رقم واپس داخل کرنے کے ساتھ مزید کچھ اضافی رقم اپنی طرف سے شامل کرنی چاہئے۔ اسلئے کہ کرنسی کی مالیت کے گرنے کی وجہ سے پوری رقم ادا کرنا مشکل ہے ۔ اسلئے کچھ اضافی رقم سے تلافی کی کوشش کی جائے ۔ اس طرح غیر شرعی طور پر نکالی گئی رقم واپس قومی خزانہ میں داخل ہو جائے گی۔
سوال:۱- نکاح خوانی کا طریقہ کیا ہے ؟
سوال:۲-مہر کتنا مقرر کرنا چاہئے ؟
سوال:۳- مہر کے علاوہ تھان نکاح اور زیورات کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے ۔ نکاح کی مجلس میں ان معاملات کے متعلق کیا کچھ تحریر میں لایا جانا چاہئے؟
سوال:۴-مجلس نکاح میں ایجاب وقبول کا کیا طریقہ ہوتاہے ؟
سوال:۵- لڑکی سے نکاح کی اجازت لینے کا حق کس کو ہے اور اس کی طرف سے کس بات کو رضامندی سمجھا جائے ۔
سوال:۶- نکاح مجلس کے بعد نکاح خواں کو اُجرت دی جاتی ہے ۔ یہ اُجرت لڑکے والے کو دینی ہوتی یا لڑکی والوں کو۔ عام طور پر لڑکے والے یہ اجرت دیتے ہیں اگر نکاح خواں لڑکی والے بلا کرلے آتے ہیں ۔ توپھر لڑکے والوں سے کیوں اُجرت لی جاتی ہے ۔یہ اجرت لینا جائز ہے یا نہیں ۔تفصیل سے لکھئے ۔
ایک امام …کپواڑہ کشمیر
نکاح خوانی، مہر اور تھان…شریعت کا عمل
جواب:۱-نکاح خوانی کا طریقہ یہ ہے کہ مجلس نکاح میں پہلے نکاح کی فضیلت ، ضرورت اور زوجین کے حقوق مہر کے احکام اور نکاح کو کامیاب بنانے کے اصول بیان کئے جائیں ۔ اس کے لئے ازدواجی زندگی کے رہنما اصول از پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم کا مطالعہ مفید رہے گا۔اس کے بعد دونوں طرف کے حضرات سے مہر مقرر کرنے کا حکم بیان کیا جائے ۔ اُس کے بعد مہر کے علاوہ دئے جانے والے تحائف کی تفصیل معلوم کی جائے پھرلڑکے کی طرف سے مقرر شدہ وکیل سے وکالتِ نکاح کابیان لیا جائے اور اُس کی طرف سے آنے والے گواہان سے شہادت لی جائے ۔ اسی طرح لڑکی کی طرف سے مقررہ وکیل سے پوچھا جائے کہ کیا وہ وکیل ہے ۔کیا لڑکی نے اُسے نکاح کرنے کی اجازت دی ہے اور مہر کے متعلق لڑکی نے کیا کہاہے۔ یہ سب باتیں وکیل سے معلوم کرکے پھر گواہوں سے شہادت لے کر طے کی جائیں ۔پھر نکاح کی دستاویز لکھی جائے ۔ جب نکاح نامہ میں تمام مندرجات لکھے گئے تو حاضرین مجلس کو سنا دیا جائے۔اُس کے بعد خطبۂ نکاح پڑھا جائے ۔ پھر لڑکی کی طرف سے مقررہ وکیل سے اقرار کرایا جائے کہ اُس نے لڑکی کا نکاح فلاں ولد فلاں کے ساتھ کردیا۔ اس کے بعد لڑکے کے وکیل سے نکاح قبول کرنے کو کہاجائے ۔جب وکیل ناکح زبان سے کہے کہ میں نے اس مقررہ مہر کے عوض یہ نکاح اپنے موکل (لڑکے)کے لئے قبول کرلیا تو نکاح ہوگیا ۔ 
اب نکاح کے بعد جو مسنون دعا پڑھی جائے اور رشتہ کی کامیابی کی بھی دعا کی جائے ۔اس کے بعد نکا ح نامہ پر دستخط کرائے جائیں ۔ دستخط میں نام بھی لکھوایا جائے ۔پھر نکاح نامے کی ایک کاپی لڑکے کے وکیل اور دوسری کاپی لڑکی کے وکیل کے حوالے کی جائے ۔اگر مجلس نکاح میں مہر ادا کیا جائے تو پہلے مہر کی رقم لڑکی کے وکیل کے حوالے کر کے اُس سے مہر وصو ل کرنے کا اقرار لیا جائے اُس کے بعد دستخط کرائے جائیں ۔
جواب:۲-شریعت اسلامیہ نے مہر کی مقدار اپنی طرف سے مقرر نہیں کی ہے بلکہ اس کا فیصلہ دونوں طرف کے اولیاء کے ذمہ رکھاہے ۔ وہ دونوں اپنی مالی حیثیت ، معاشرتی درجہ اور اپنے عرف و اپنے خاندانوں کے رائج مہر کو سامنے رکھ کر دونوں کی رضامندی سے جو مہر مقرر کریں گے اسلام کی نظر میں وہ قبول ہوگا۔ البتہ جومہر بھی مقرر ہوجائے اس کے لئے اولین ترجیح اس کو دی جائے کہ وہ مجلس نکاح میں بھی ادا ہوجائے اور زیورات جن کو کشمیری عرف میں تھانِ نکاح کہتے ہیں اُن کو مہر میں ہی شامل کیا جائے تو وہ بھی درست ہوگا بلکہ زیادہ بہتر ہے تاکہ لڑکی کو یہ چیزیں رسماً لینے کے بجائے شرعاً لینے کا حق ملے ۔ اس لئے تھان کے نام پر دئے جانے والے زیورات کے لئے بہتر ہے کہ اُن کو مہر قرار دیا جائے۔
جواب:۳-مہر کے علاوہ زیورات تحائف دینے کا رواج ہے ۔ یہ شرعاً لازم بھی نہیں اور شرعاً منع بھی نہیں ہے۔ اگر دئے گئے تو کوئی فضیلت یا گناہ نہیں اور اگر نہ دئے گئے تو بھی گناہ نہیں، یا کوئی حق تلفی نہیں ہے ۔اگر زیورات یا نقد رقم تھان کے نام پر دی جائے تو نکاح مجلس میں اس کی وضاحت کرائی جائے کہ یہ زیورات یا سونا اور دوسرے تحائف جو تھان کے نام پر دئے جارہے ہیں یہ لڑکی کو بطور تحفہ دیئے جارہے ہیں۔ یا بطور عاریت کے یعنی کیا ان کی مالک لڑکی ہوگی یا لڑکا؟ اگر یہ تحفہ کے طور پر دئے گئے تو نکاح نامہ میں تھان کے خانے میں لکھ دیا جائے کہ یہ سب بطور تحفہ کے ہیںتاکہ آئندہ لڑکی سے یہ تحائف واپس لینے یا نہ لینے کا نزاع پیدا نہ ہو پائے۔ اگر یہ زیورات عاریتاً استعمال کئے جائیں تو یہ بات لڑکی والوں پر اچھی طرح واضح کر دی جائے کہ اب تک اور آج جو زیورات دئے گئے ہیں ان کو لڑکے والے امانت قرار دے رہے ہیں ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ لڑکا جب چاہے یہ زیورات واپس لے سکتاہے ۔ یہ صورتحال جب لڑکی والوں کے سامنے پوری طرح واضح ہوگئی تو وہ اس پراپنی رضا یا عدم رضا کا اظہار کریں گے اور ممکن ہے کہ وہ مہر میں ہی اضافہ کرنے کی تجویز پیش کریں۔بہرحال تھان کے متعلق اچھی طرح سے یہ بات طے کرائی جائے کہ یہ کیا ہے ؟ تحفہ یا امانت !!یہ اس لئے ضروری ہے تاکہ آئندہ زوجین کے درمیان کوئی ابہام یا نزاع نہ ہونے پائے اور دونوں اس پر کاربند رہیں ۔ ورنہ خاندانوں کے نزاعات کا ایک سبب یہ بھی ہے ۔
جواب:۴- مجلس نکاح میں ایجاب وقبول کرانے کا طریقہ ایک یہ ہے کہ لڑکی کے وکیل سے ایجاب کرایا جائے اور لڑکے کے وکیل سے قبول کرایا جائے ۔اس کے برعکس بھی کرانا درست ہے ۔ ایجاب وقبول کے الفاظ نکاح خواں کہلوائے یہ بھی درست ہے اور وہ الفاظ خود کہہ کر اُن سے صرف اقرار کرایا جائے یہ بھی درست ہے ۔ 
جواب:۵- لڑکی سے اجازت لینے والا وکیل کون ہو۔اس کے لئے سب سے بہتر یہ ہے کہ لڑکی کا باپ خود وکیل بنے جیسے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس حضرت فاطمہؓ کی طرف سے وکیل بنے تھے ۔ اگر باپ حیاء کی وجہ سے آمادہ نہ ہو تو لڑکی کا بھائی ، دادا ، چاچا ، ماموں وغیرہ ایسے حضرات وکیل بنیں جو لڑکی کے محرم ہوں ۔ کسی نامحرم کو وکیل یا گواہ بنانا گناہ ہے ۔ 
جواب:۶- نکاح خوانی ایک دینی کام ہے اُس کی اُجرت طے کرنا ، اُجرت لینے کا مطالبہ کرنا یا اُس پر بحث وتمحیص اور ردوکد کرنا ہرگز درست نہیں ہے اور پھر اجرت پر تکرار واصرار بھی شرعاً غلط ہے ۔ ہاں اگر لڑکے والے یا لڑکی والے اپنی رضامندی کے بغیر مطالبہ کے بطور تحفہ دیں اور اصرار کے ساتھ اسے قبول کرنے کی التماس کریں تو یہ ہدیہ لینا دُرست ہے ۔ تفصیل کے لئے امداد دارالفتاویٰ اجرت نکاح کا بیان دیکھئے جس کا عنوان الصراح فی اجرۃ النکاح ہے ۔کشمیر کے عرف میں نکاح خواں کا انتظام لڑکی والے کرتے ہیں۔ تاہم لڑکے والوں کوبھی یہ حق ہے کہ وہ خود اس کاانتظام کریں اور یہاں کے عرف میں ہی یہ بھی ہے کہ عموماً نکاح خواں کو ہدیہ لڑکے والے دیتے ہیں ۔اس میں بھی مضائقہ نہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ یہ اُجرت نہ ہو بلکہ ہدیہ ہو ۔ اُجرت اور ہدیہ میں بہت فرق ہے ۔اُجرت کا مطالبہ ہواکرتاہے ۔ ہدیہ کا مطالبہ نہیں بلکہ محبت واصرار سے پیش کی جاتی ہے ۔ اُجرت کی بنیادمحنت ہے ہدیہ کی بنیاد محبت ہے ۔