تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

8 جون 2018 (00 : 01 AM)   
(   صدرمفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیراحمد قاسمی

 اعتکاف کے اہم مسائل 

  اْجرت پر اعتکاف کرانا
س:بعض جگہوں پر کسی اجنبی مسافر کو بستی والے اْجرت پر اعتکاف میں بٹھاتے ہیں کیا اس طرح سے یہ مبارک سنت ادا ہوتی ہے؟
 
ج:         کسی بھی اعتکاف کرنے والے شخص کو اعتکاف کی اْجرت لینا، اور اْسے اعتکاف کی اجرت دینا دونوں حرام ہیں۔ اس سے نہ تو خود اْس شخص کا اعتکاف ادا ہوگا۔ اور نہ اْس محلہ یا بستی کے لوگوں سے اعتکاف کا حکم ساقط ہوگا۔ اعتکاف سنت کفاریہ ہے۔ جس کے معنیٰ یہ ہیں کہ کوئی ایک شخص بھی اگر اخلاص سے ، بلاکسی دنیوی لالچ کے محض اللہ کی رضا کیلئے اعتکاف کرے گا تو یہ سنت سب کی طرف سے ادا ہوجائے گی۔ لیکن جب اْجرت لینے دینے کا معاملہ ہوگا تو اس سے اعتکاف کی سنت ، ادا ہونا توکئی گناہ ہونا بھی یقینی ہے اور اس محلہ پر ترک اعتکاف کا وبال بھی لازمی ہے۔
 
س: فرصت والے بوڑھے بھی خود اعتکاف میں بیٹھنے کو عار محسوس کرتے ہیں۔ اس لئے روپیہ دے کر کسی کو بٹھاتے ہیں۔ کیا حکم ہے؟
 
ج:         ایسا بوڑھا شخص کہ جسے دنیوی مشاغل سے بھی فراغت ہو اْس کو تو ضرور اس سعادت سے فائدہ اْٹھانا چاہئے۔ وہ اعتکاف میںطہارت، دعا، استغفار اور بوقت ضرورت آرام بھی کچھ کرسکتا ہے۔ فراعت کے باوجود اعتکاف کو عار سمجھنا یقینا محرومی ہے بلکہ بدقسمتی کی ایک بدترین قسم ہے کہ اللہ کے گھر سے قیام کرنے کی توفیق سلب ہورہی ہے۔جس کی بنا پر اْجرت دے کر کسی شخص کو اعتکاف کیلئے بٹھانے کا جرم کرنا پڑتا ہے۔
 
س:        بعض مساجد میں بیت الخلاء کا انتظام نہیں ہوتا ہے۔ کیا معتکف اپنے گھر جاسکتا ہے اگر چہ گھر ذرا سا دور ہو کیونکہ مسجد کے ہمسایہ گھروں میں جانے کو جی نہیں چاہتا مستورات کی وجہ سے۔
 
ج:         مسجد میں بیت الخلاء کا انتظام نہ ہو تو وہ اپنے گھر قضائے حاجت کیلئے ضرور جاسکتا ہے۔ اور وہاں اگر اپنے گھر کی خواتین پر نگاہ پڑے تو اعتکاف فاسدنہ ہوگا۔ اسی طرح اگر راستے میں کسی نامحروم پر نگاہ پڑجائے تو اعتکاف فاسد نہ ہوگا۔ البتہ اعتکاف کے اثرات اور ثمرات کا شدید نقصان ہوسکتا ہے۔ ایسا شخص گھر میں صرف قضائے حاجت کیلئے جائے۔ وہاں ایک لمحہ بھی قیام نہ کرے۔ لیکن اس کے ساتھ اْس مسجد والوں پر لازم ہے کہ وہ بیت الخلاء￿ کا قریب سے قریب جگہ میں کوئی معقول انتظام کریں۔ تاکہ معتکف اطمینان سے اعتکاف کرسکے۔
 
س:        اگر مسجد کے ہمسایہ کا صحن میںالگ تھلگ بیت الخلاء￿ ہو جس میں گھر کی مستورات کی آمدورفت بھی ہو تو کیا اْس کو استعمال کرسکتے ہیں۔
 
ج:         مسجد کے پڑوس میں بیت الخلاء کی ضرورت کیلئے ،جب کہ مسجد میں کوئی انتظام نہ ہوسکے جانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ نہ اس سے اعتکاف ٹوٹے گا۔ اور نہ یہ گناہ ہے۔ البتہ جتنا قریب سے قریب ہوسکے وہی بہتر ہے۔
 
س:        معتکف فجر کے بعد ہی اندھیرے میں جمعہ پڑھنے کیلئے نکلتا ہے اور مغرب کے بعد اپنی مسجد میں واپس آتا ہے سوال یہ ہے کہ جمعہ کی نماز کے لئے کب نکلنا ہے کب واپس آنا ہے۔
 
ج:         اگر اعتکاف کسی ایسے گاؤں میں ہورہا ہو جہاں جمعہ کی نماز ہوتی ہی نہیں ہے۔ اور اس شخص کو کسی دوسری بستی میں جمعہ کیلئے جانے کی ضرورت پڑے تو اس معتکف کو جمعہ کے دوسرے گاؤں میں جانادرست نہیں۔ اْس معتکف کو اْس مسجد میں نماز ظہر دوسرے ایام کی طرح ادا کرنا چاہئے۔اور اگر اْسی گاؤں یا قصبہ کی دوسری مسجد میں جمعہ ادا کرنا ہو تو اس اعتکاف والے شخص کو ایسے وقت اپنی مسجد سے نکلنا ہوگا کہ وہ جمعہ والی مسجد میں پہنچ کر صرف سنت پڑھ کر خطبہ سن ہوسکے۔ اور فرضوںکی ادائیگی کے بعد وہ واپس اپنی مسجد میں آکرسنت ادا کرے۔اگر اعتکاف والا صبح نکلا اور شام کو واپس آیا تو اْس کا اعتکاف ٹوٹ گیا۔ اب وہ بقیہ ایام اسی مسجد میں پورے کرے۔ اور عید کے بعد ایک دن کی قضا کرے گا۔ یہ قضا اس طرح کرے کہ ایک دن رات کا اعتکاف کرے اور اْس میں روزہ بھی رکھے۔
 
س:        جن دیہاتوں میں جمعہ کی نماز نہیں ہوتی وہاں کا معتکف کیا کرے؟
 
ج:         جس گاؤںمیں جمعہ نہ ہو وہاں ہفتہ کے دوسرے ایام کی طرح جمعہ کے دن بھی نماز ظہر ادا کرے۔ جیسے کہ اْس گاؤں والوں کے لئے یہی حکم ہمیشہ کیلئے ہے اسی طرح رمضان شریف کیلئے بھی ہے۔
 
س:        معتکف کھانے کیلئے ہاتھ دھونے، تھوکنے کیلئے حمام میں جاتا ہے۔ اس سے اعتکاف ٹوٹتا تونہیں؟
 
ج:         اعتکاف کرنے والا کھانے پینے کیلئے یا ہاتھ دھونے کیلئے یا تھوکنے کیلئے اگر حمام (صْفہ) پر نکلے تو اْس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔فاسد ہونے سے بچ جائے۔
 
س:        رمضان میں جس کے گھر کسی کی موت ہوجائے تو کیا زندوں کو چار دن روزہ معاف ہے۔
 
ج:         جس شخص کے گھر میں کسی کی موت ہوجائے اْس کا یہ سمجھنا کہ اْس کے گھر والوں پر چار دن کے روزے معاف ہو گئے۔ سراسر غیر شرعی ، جاہلانہ سوچ ہے اور سنگین گناہ کا عمل ہے۔ از خود کسی حلال کو حرام، اور کسی فرض کو ساقط کرنا یا کسی لازم حکم کو غیر لازم قرار دینا مسلمان کو تو کفر تک پہونچا سکتا ہے۔ اس لئے کہ یہ مقام اور حیثیت صرف نبی کو حاصل ہوتی ہے کہ وہ لازم کو غیر لازم یا غیر لازم کو لازم یا کسی فرض کو کسی مخصوص حدیث میں مستثنیٰ کرے بہر حال میت کے پسماندگان کو روزہ چھوڑنے کا سنگین گناہ ہر گز نہیں کرنا چاہئے۔ اور رمضان کو جنگ بدر ہوئی، جس میں چودہ عظیم صحابہ شہید ہوئے اور اْسی سال رمضان کے روزے بھی فرض ہوئے تھے۔ تو ان شہید ہونے والے صحابہ کے اہل خانہ نے کہیں بھی از خود روزے ترک نہیں کئے اور نہ ہی حضرت نبی کریم صلی اللہ ولیہ وسلم نے ایسا کوئی حکم دیا۔
 
اسی رمضان میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی حضرت رقیہؓ جو حضرت عثمان غنیؓکی زوجہ محترمہ تھی وفات پاگئیں۔ تو کسی کو بھی روزہ معاف نہ ہوا۔ اس لئے کسی مسلمان کو از خود روزے معاف قرار دینے کا حق ہرگز نہیں ہے۔ بہر حال یہ قطی طور پر غیر شرعی سوچ ہے جاہلانہ رسم ہے اور مجرمانہ عمل ہے۔
 
س:        معتکف جنازہ کی نماز میں شرکت کرسکتا ہے کہ نہیں؟
 

جنازہ میں معتکف کی شرکت

ج:         اگر معتکف جنازے کی شرکت کیلئے مسجد سے باہر نکلے تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ البتہ جب جنازہ آچکا ہو تو معتکف وضو کی نیت سے باہر نکلے اور وضو کرکے جنازے میں شریک ہوکر بغیر رْکے ہوئے واپس مسجد میں داخل ہوجائے تو حرج نہیں۔
 
س:        اگر کسی کا رشتہ دار فوت ہوجائے تو معتکف کیا کرے؟
 
ج:         اگر کسی کا کوئی قریبی رشتہ دار فوت ہوجائے تو بھی اعتکاف چھوڑ کر مسجد سے باہر آنا درست نہیں۔ ایسی حالت میں وہ فوت ہونے والے کیلئے دعا استغفار کرے۔ لیکن اگر اس معتکف کے بغیر کفن دفن کا انتظام اْس کے مسجد سے باہر آئے بغیر ،نہ ہوسکے تو پھر اعتکاف توڑ کر وہ بغرض تجہیز و تکفین باہر آئے۔ اور پھر اس اعتکاف کی قفابھی کرے۔
 
س:        اعتکاف میں کب بیٹھنا ہے اور کب نکل سکتا ہے؟
 
ج:         مسنون اعتکاف کا وقت بیس رمضان المبارک غروب آفتاب سے پہلے شروع ہوتا ہے اور عید کا چاند نظر آنے پر یا چاند کے اعلان ہوجانے پر اعتکاف کاوقت ختم ہوجاتا ہے۔ اب معتکف اْسی وقت مسجد سے باہر آسکتا ہے اور اگر عید کی رات مسجد میں ہی بغرض عبادت گذارے تو افضل اور بہت بہتر ہے حدیث میںاس رات کو انعام کی رات قرار دیا گیا ہے۔
 
س:        اگر معتکف تمباکو،سگریٹ پینے کا عادی ہے کب پئے گا؟ یا دس دن پینا چھوڑدے؟
 

سگریٹ پی کر بد بو کو کیا کرے گا؟

 
ج:         معتکف ضرور سگریٹ کو ایام اعتکاف میں ترک کردے اور اگر ایسا نہ کرسکا تو بیت الخلاء میں قضائے حاجت کے دوران اس قابل نفرت ضرورت کو پورا کرے تاکہ اعتکاف فاسد ہونے سے بچ جائے۔ اور پھروضو میں اپنے منہ سے بدبو زائل کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرے۔
 
س:        بعض معتکف موبائیل فون چالو رکھتے ہیں اور موبائیل پر کاروبار چلاتے ہیں اس سے اعتکاف کا مقصد حاصل ہوسکتاہے؟
 

اعتکاف میں فون کرنا

 
ج:         اعتکاف میں بوقت مجبوری فون کرسکتے ہیں۔ لیکن فون کو جاری رکھنا یقینی طور پر روحِ اعتکاف کے بھی خلاف ہے، ثمرات اعتکاف کو ختم کرنے والا ہے اور مسجد میں کلام دنیوی کرنے کی بنا پر گناہ بھی ہے۔
 
س:        معتکف موبائیل میں رنگ ٹون رکھتا ہے۔ جس سے مسجد میں ساز سابجتا ہے۔ ایسا کرنا جائز ہے کیا؟
 
ج:         موبائیل فون پر میوزک والی رِنگ حرام ہے۔ اور جب یہ موسیقی کا ساز مسجد میں بجنے لگے تو دوہرا گناہ ہوگا۔ اور مسجد میںسازچلانے پر دوسرے نمازیوں کو جو خلل ہوگا وہ بڑا گناہ ہوگا۔ اس لئے سادہ اور عام رِنگ ٹون رکھنا ہی شرعاً لازم ہے۔ اور یہ کلیہ ہمیشہ کیلئے ہے۔
 

ہاف شرٹ میں نماز

 
س:        ہاف شرٹ میں نماز ادا کرنا جائز ہے۔ یا نہیں اسی طرح نیکر میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں۔ ایک امام آدھی آستین والی قمیض پینے ہوئے لوگوں کو مسجد میں آنے سے روکتا ہے۔ کیا یہ جائز ہے۔
 
ارشد حسین۔۔۔۔۔۔جموں
 
ج:         ایسی شرٹ جس کی آستینیں چھوٹی ہوں اور کہنیوں کو کھلا رکھ کر نماز پڑھی جائے وہ نماز ادا ہوجاتی ہے۔ البتہ مکروہ ہوتی ہے۔ جب ایسی شرٹ پہنے ہوئے ہوں تو بجائے نماز چھوڑدینے سے اْسی حالت میں نماز پڑھ لینی لازم ہے۔
 
ایسا نیکر جس میں ران کھلی ہوئی ہو ہر گز نماز ادانہیں ہوتی اس لئے ناف سے لے کر گھٹنے تک کے حصے کو کپڑے سے ڈھانک لینا نماز کے فرائض میں سے ہے۔ اگر نیکر ناف سے لیکر گھٹنے سے نیچے تک ہو تو نماز درست ہے۔ ایسے افرادکو مسجد میں آنے سے روکنے کے بجائے نرمی سے سمجھانا اور اصلاح کرنا مطلوب شریعت ہے۔
 
سوال:۔ ایمان کیا ہے؟ براہ کرم جانکاری فراہم کرکے مشکور فرمائیں عنایت ہوگی؟
 
مشتاق بن صمد کاشمیری…
 

ایمان کی توضیح

جواب:۔ احادیث کی تقریباً تمام کتابوں میں ایک حدیث ہے جو حضرت عمر ؓ اور حضرت ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے، اس کو حدیث جبریل کہتے ہیں ۔ مشکو۱ۃ شریف میں یہ کتاب الایمان کی پہلی حدیث ہے۔ اس میں حضرت جبریل نے انسانی شکل میں حاضر ہو کر پانچ سوالات پوچھے ہیں۔ اُن میں سے پہلا سوال یہ تھا کہ ایمان کیا ہے۔ اس سوال کے جواب میں حضرت نبی کریم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اللہ پر اُس کے رسولوں پر، اُس کی کتابوں پر اور آخرت پر یقین رکھنا ایمان لانا ہے۔ مختصر لفظوں میں کہ حضرت نبی اکرم علیہ السلام نے جو کچھ فرمایا اُس کو دل سے مان لینا ایمان ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ کی ذات کو ویسا ہی مان لینا جیسا حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور حضرت نبی اکرم ﷺ کو ویسا مان لینا جیسااللہ جلہ شانہ نے فرمایا۔ پھرا للہ نے اور اللہ کے نبی ؐنے آخرت کے متعلق جو کچھ فرمایا اُس کو دل سے تسلیم کرلینااور یہ یقین کر لینا کہ دنیا و آخرت کی کامیابی اللہ اور اس کے نبی کے احکام مان لینے میں ہے۔ جو کام اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے لازم کئے اُن کو قبول کرنے اور عمل میں لانے کا عہد کرنے اورجو کام حرام قرار دیئے ان سے مکمل پرہیز کرنے کا عہد کرنا۔ اور اگر کرنے والے کاموں میں کبھی کوتاہی ہوگئی یا بچنے والے کاموں یعنی حرام کام میں مبتلا ہوگئے تو فوراً توبہ کرنے کا پختہ عزم کرنا۔ ان تمام باتوں کو دل میں بٹھالینا ایمان ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسے شخص کو سب سے زیادہ محبت اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ہوگی۔ اور سب سے زیادہ ڈر اللہ کی ذات کا ہوگا۔ اور سب سے زیادہ فکر دین پر چلنے اوردنیا میں دین کے پھیلنے کی ہوگی۔ جتنا اللہ کا ڈر اور اس کی محبت ہوگی نیز جس قدر آخرت کے لئے تیاری ہوگی اورجس درجہ اللہ کے نبی اکرمﷺ کی محبت و اطاعت ہوگی اُسی قدر ایمان پختہ ہوگا۔
 
شرعی کتابوں میں جن جن امور کوماننا لازم قرار دیا ہے اُن سب کو ماننا ایمان کی بقاء کیلئے لازم ہے۔ مثلاً حضرت نبی کریم ﷺ کو خاتم النبین ماننا ایمان کا اہم جُز ہے۔ اگر کوئی تمام امور ایمان کو تسلیم کرے مگر اس ایک جُزکو نہ مانے تو وہ ایمان سے خارج ہے ۔تمام ایمانیات کا یہی اصول ہے۔