تازہ ترین

ظلم وتشدد کا کوئی جنس نہیں ہوتا!

یک رُخی سوچ غلط ہے

26 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

احساس نایاب ۔۔۔ شیموگہ،کرناٹک
 اکیسویں   صدی میں جب کہ دنیا کے ہر کونے میں مرد اور خواتین کو ہرمیدان میں برابر کے حقوق دئے جارہے ہیں، جس وجہ سے خواتین کی بڑی تعداد ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی اپنی کامیابی کا پرچم لہرارہی ہیں، پھر بھی اس کو مظلوم کا نام دے کر عورت غلط بھی ہو تو اسی کو صحیح ٹھہراتے ہوئے اس کی بے جا حمایت میں ایک بڑا ہجوم اکٹھا ہوجاتا ہےاور حقیقت کو جانے سمجھے بغیر مرد کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے ۔ماناکہ عورت نازک صنف ہونے کی وجہ سے بظاہربےقصور نظر آتی ہے اور ہمدردی کی مستحق ہے، لیکن ضروری نہیں کہ ہر جگہ ہر مرتبہ عورت ہی صحیح اور مرد غلط ہوںکیونکہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بے چارے مرد بھی چند عورتوں کی سازشوں اور مظالم کا شکار ہو کر اپنی جان تک گنوا چکے ہیں ، اس لئے ہر مرتبہ عورت ہی مظلوم نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھی عورت کے ظلم کا شکار بنے مرد بھی مظلوموں کی فہرست میں شمار ہوتے ہیں ، اور جس طرح مظلومیت کا ہتھیار عورت اپنے دفاع کے لئے استعمال کرکےآسانی سے لوگوں کی حمایت حاصل کرلیتی ہے۔ اس کے آگے ایک پہاڑ جیسا مضبوط انسان بھی ڈھیر ہوجاتا ہے، اور اس کی جو ذلت و رسوائی ہوتی ہے، سوالگ۔ مثال کے طورپر ایک واقعے کا ذکر سنئے ۔ ایک عزت دار گھرانے کے نواجون کے ساتھ ایک ایسا ہی حادثہ رونما ہوا جس نے اُس معصوم کی زندگی چھین لی۔ وہ غیرت مندنوجوان عزت کی خاطر اپنی جان کادشمن بن بیٹھااووہ خطرناک کام کیاجو کوئی کوئی انسان مایوسی اوربے چارگی کی حالت میں کرسکتاہے۔ ایک دن یہ نوجوان بس میں سفرکررہاتھا۔  اس دوران بس میں اچانک بریک لگنے سے جھٹکے میں وہ توازن کھوکر پاس کھڑی لڑکی سے جا ٹکرا یا ۔ اس لڑکی نے بغیر سوچے سمجھے چیخنے چلانے لگی کہ اس نوجوان نے مجھ سے بدتمیزی کی ہے، یہ مجھے چھیڑرہاہے ۔ پھر کیا تھا بس کی دوسری سوار یاں اُس نوجوان پہ ٹوٹ پڑی، اس کازدوکوب کرنے لگے ، بے قصور نوجوان اپنی بے گناہی کی دہائی دیتا رہا لیکن کسی کو اس کی ایک نہ سنی ، کیونکہ ایسے مواقع پر  لڑکی ہی مظلوم سمجھی جاتی ہے ۔بے گناہ نوجوان پر نزلہ گرا تے ہوئے گالی گلوچ سے اس کو ذلیل و رسوا کیا گیا ۔ نوجوان اس حادثہ سے ابھی سنبھلا بھی نہیں تھا کہ گھر پہنچا ، یہاں دیکھا کہ وہی لڑکی نیو زچینل پر اپنی مظلومیت کا رونا رورہی تھی اور نیوز اینکر اپنا گلا پھاڑپھاڑ تے ہوئے بلات کاری کہہ کر اسے سزا دینے کی مانگ کررہا تھا ۔ نوجوان اپنی قسمت پر رونے لگامگر اس کی بدنصیبی نے یہ شکل اختیار کر لی کہ   کسی فتنہ پرورانسان نے غلط فہمی پر مبنی اس قصے کی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا اور نیوز چینلس کو شیئر کردی ، جس میں بے قصور نوجوان کا چہرہ صاف نظر آرہا تھا ۔اصل واقعہ جانے بغیر نیوز چینلس نے اپنی ٹی آر پی کی خاطر اس بے قصور نوجوان کو ذلیل و بدنام کر کے اس کاحال اور مستقبل دونوںبرباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔خود کو مظلوم کہنے والی لڑکی بھی جھوٹی شہرت( نفع بخش بدنامی) بڑھانےکے لئے مگرمچھ کے آنسو بہارہی تھی، جس کی قیمت اُس بے چارے بےقصور نوجوان کو اپنی جان دے کر چکانی پڑی۔
 افسوس صد افسوس کہ دن بہ دن حالات ایسا کڑا رُخ اختیار کر تے ہیں کہ لگتا ہے کہ یہاں کوئی محفوظ نہیں رہا ،نہ مرد نہ عورت، کیونکہ آج کوئی پیشہ اعتماد کے قابل نہیں رہا، چاہے وہ محافظ کہلانے والی پولیس ہو یا انصاف دلانے والے عدالت اور وکیل ہویا جمہوریت کا چوتھا ستون کہلانےوالا میڈیا۔ ہر شخص اورہر پیشہ بکاؤ مال کی طرح فروخت ہورہا ہے اور مظلوموںیا عام انسانوں کی آواز کہلانے والا میڈیا سچ اورحق کو چھوڑ کر محض بزنس پلیٹ فارم بن کر رہ گیا ہے اور سب اپنے اپنے حقیر مفاد کے لئے اپنا فرض اوراپنی ذمہ داریاں بھلاکر اپنا دین دھرم بیچ ر ہے ہیں ۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ سارے فسطائیت اور حیوانیت کے رنگ میں رنگ رہے ہیں۔ افسوس کہ چند بےوقوف اورناعاقبت اندیش افرادسستی شہرت کی چاہت میں اس طرح کی خطرناک حرکات کر جاتے ہیں۔ ماناکہ دنیا بھر میں کئی معصوم خواتین مردوں کے ظلم و زیادتی کا شکار ہورہی ہیں ، اس بات کو جھٹلایا بھی نہیں جاسکتا کہ خواتین کو زیادہ تر سماجی تکالیف کا سامنا کر ناپڑ رہاہے،لیکن سماج میں چند ایسی عورتیں بھی موجود ہیں جو نام نہاد مظلومیت کا ڈھونگ کر کے مختلف بہانوں سے بےگناہ مردوں کو تباہ وبرباد کررہی ہیں،ان کی زندگی کو عذاب بناکے رکھ رہی ہیں ۔ اس کام میں اہم کردار میڈیا ادا کرتاہے ، جو کسی بھی چھوٹے سے مسئلہ اور مدعا کو مرچ مسالہ لگاکر پیش کرنے کا عادی بن چکا ہے، جوحقیقت کو چھپاکر جھوٹ کا پرچار کرتا جارہا ہے ، جو اپنے معمولی مفاد کی خاطر سرکار کے ہاتھوں بکاہوا ہے ، تبھی تو آئے دن نیوز چینلس میں مذہب کے نام پہ بلا ضرورت مباحثے کرائے جاتے ہیں جن میں شریعت کر خاص کرنشانہ بنانے کے لئے چند مولوی نما بکاؤ لوگوںکو بلایا جاتا ہے۔ان میں اتنی قابلیت نہیں ہوتی کہ وہ چنلس کی سازش کو سمجھ سکیں اورجان بوجھ کرڈیبیٹ میں شریک مسلمانوں کی ترجمانی کرنے والے شخص کو اس قدر غصہ دلا کر اکسایا جاتا ہے کہ کوئی بھی انسان بھڑک کر اپنا آپا کھو بیٹھے ۔ یہی حا ل خواتین کے ساتھ جھوٹ موٹ کی ہمدردی دکھانے والوں کا ہے کہ انہیں مردوں کو بلا وجہ بدنام کرنے کاپوراپورا موقع دیا جاتا ہے اور مردوں کی شبیہ یاسی پیش کی جاتی ہے جیسے ہر بھائی، باپ ،شوہر اور بیٹا گھر کی عورتوں کے لئے ننگی تلوار ہو ۔ چاہے معاملہ طلاق کا ہو یا عورت کے پردے کا وہ اُس وقت تک گلاپھاڑے چلاتے ہیں جب تک جھوٹ کو سچ نہ ثابت کردیں ۔ حال ہی میں ’’زی ہندوستان ‘‘نامی نیوز چینل میں نام نہاد ڈیبیٹ کے دوران معروف عالم دین مفتی اعجازارشد کو اس قدر بھڑکایا کہ انہوں نے اپنا آپا کھودیا ، یہاں بھی بد تمیزی کی پہل فرح نامی عورت کے تھپڑ سے ہوئی ،سپریم کورٹ کی وکیل لکشمی ورماعرف فرح نے مفتی اعجازارشد کو تھپڑ مارا اور تھپڑ کے جواب میں مفتی اعجازارشدنے بھی اپنے دفاع میں اُس عورت پہ پلٹ وار کیا ، ویسے دیکھا جائے تو مفتی اعجازارشد کی جگہ کوئی اور سادھو سنت بھی ہوتا تو وہ بھی جذباتیت میں بہک کر بھی یہی کرتا ۔ سچ یہ ہے کہ  غلطی کا ارتکاب دونوں طرف سے ہوا لیکن جس نے پہل کی انصاف کہتا ہے وہی موردالزام ٹھہرتاہے ۔ جب ایک عورت لائیو پروگرام میں ساری دنیا کے آگے یہ بھول سکتی ہے کہ وہ ایک عورت ہے تو مرد کیسے یاد رکھے گا کہ وہ عورت سے مخاطب ہو کر ناشائستگی کا جواب شائستگی سے دے، جب کہ یہی عورت خود کو مرد کے برابر ہونے کا دعویٰ کرتی ہے،اور ہر لحاظ میں برابری کے حقوق کی مانگ کرتی ہے ۔ اور سوچنے والی بات یہ بھی ہے کہ اگر مفتی اعجازارشد مار کھاکر اسٹیڈیو سے خاموش چلے آتے تو دنیا انہیں جینے دیتی ؟؟؟ بالکل نہیں! طعنے کس کس کران کا جینا حرام کردیتی اور آج جس طرح لائیو ڈیبیٹ کے دوران ایک عورت نے تھپڑ مارا کل کو اس سے حوصلہ پاکردوسری عورتیں بھی اپنے ساتھی ڈیبیٹرپراس طرح کاحملہ کرسکتیں اورپھر یہ سب کچھ سستی شہرت پانے کے لئے علمائے کرام کو بےعزت کرنا، تھپڑ مارنا میڈیا کا شیوہ بن جاتا۔ ویسے بھی آج کے دور میں جب ایک بچہ اپنے بچاؤ میں پلٹ وار کرسکتا ہے توایک صحیح سالم انسان کیا اشتعال انگیزیوں کے باوجودچوڑیاں پہن کر بیٹھنا چاہے گا؟ جہاں اس کی جان ، عزت،غیرت داؤ پر ہو ،وہ طاقت ور ہو یا کمزور، پلٹ وار ضرورکرے گا کے بجائے اس کے کہ ذلت ، رسوائی، بےعزتی برداشت نہ کر تے ہوئے خودکشی کرلے ۔ خلاصہ ٔ کالم یہ کہ جہاں بعض ظالم وجابر اور ہوس پرست مرد بنتِ حوا کے لئے شمشیر بے نیام کہلائے جاسکتے ہیں ، وہاں کچھ عورتیں بھی ظالمانہ اور قاہرانہ کردار ادار کر کے اپنی نسوانیت کا نیلام کر تی ہیں ۔ انصاف یہی ہے کہ ظالم کو ظلم وتعدی کا جواب اُسی کے سکے میں دیا جائے چاہے وہ جو کوئی بھی ہو ۔
