تازہ ترین

آسیہ اندرابی کی دلی منتقلی کیخلاف ہڑتال سے عام زندگی متاثر

پائین شہر میں بندشیں ،بانڈی پورہ میں دفعہ144نافذ،انٹرنیٹ و ریل خدمات معطل

8 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر// قومی تفتیشی ایجنسی کے ہاتھوںدختران ملت سربراہ آسیہ اندرابی اور انکی دو ساتھیوں کو دہلی منتقل کئے جانے کے خلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کے پیش نظر وادی کے یمین و یسار میں مکمل ہڑتال سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔  پائین شہر کے حساس علاقوں کے علاوہ بانڈی پورہ اور ترال میں کرفیو جیسی بندشیں عائد کی گئیں۔ادھر سرینگر سمیت جنوبی کشمیر میں انٹرنیٹ سروس  کے علاوہ بانہال،بارہمولہ ریل سروس کو معطل رکھا گیا۔

ہڑتال

ہڑتال سے جہاں بازار بند رہے،وہیں ٹرانسپورٹ کی نقل وحرکت بھی متاثر رہی۔کئی علاقوں میں نجی گاڑیاں سڑکوں پر حرکت کرتی ہوئیں نظر آئی۔ہمہ گیر ہڑتال سے سرینگر کے علاوہ وادی کے دیگر اضلاع اور تحاصیل صدر مقامات میں تمام طرح کی دکانیں ،کاروباری ادارے،بازار،بینک او رغیر سرکاری دفاتر بند رہے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا۔سول لائنز کے لال چوک ،ریگل چوک ،کوکر بازار ،آبی گذر ،کورٹ روڈ ،بڈشاہ چوک ،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ ،مہاراجہ بازار ،بٹہ مالو اور دیگر اہم بازاروں میں تمام دکانیں اور کاروباری ادارے مقفل رہے اور ٹرانسپورٹ سروس معطل رہی۔ہڑتال سے شہرمیں ہر قسم کی سرگر میاں متاثر رہی اور لوگوں نے زیادہ ترگھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی جس کی وجہ سے شہر میں خاموشی چھائی رہی ۔ تجا رتی مرکز اور شہر کے دیگر سیول لائنز علاقوں میں اس صورتحا ل کا کافی اثر دیکھنے کو ملا۔شوپیاں میں مکمل ہڑتال کے بیچ ہواور کشیدگی کا ماحول رہا۔نامہ نگار شاہد ٹاک کے مطابق قصبہ کے علاوہ حساس مقامات پر فورسز اور پولیس اہلکاروں کی اضافی کمک کو تعینات کیا گیا تھا،اور انہیں کسی بھی طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہنے کی تاکید کی گئی تھی۔اسلام آباد(اننت ناگ) سے نامہ نگار ملک عبدالاسلام نے بتایا کہ ضلع کے بجبہاڑہ،آرونی،سنگم، کھنہ بل،دیلگام،مٹن،سیر ہمدان،کوکر ناگ،وائل سمیت دیگر علاقوں میں مثالی ہڑتال دیکھنے کو ملی۔ڈورو ،ویری ناگ ،قاضی گنڈ اورکوکر ناگ میں مکمل ہڑتال رہی جس دوران تمام دکانیں بند رہی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک غائب رہا۔اس دوران انتظامیہ نے قصبہ میں کسی بھی امکانی گڑبڑ کو روکنے کیلئے حساس مقامات پر فورسزکو تعینات کیا تھا ۔ پلوامہ کے کئی علاقوں میں بندشوں اور قدغنوں کے بیچ مکمل ہڑتال کی گئی،جبکہ ضلع کے پانپور،ترال،نیوہ، کاکہ پورہ،اونتی پورہ اور دیگر علاقوں میں بھی مکمل ہڑتال سے زندگی کی رفتار تھم گئی۔وسطی کشمیر میں بڈگام اور گاندربل میں بھی مکمل ہڑتال کا سماں نظر آیا جس کے دوران معروف و مصروف بازار صحرائی منظر پیش کر رہے تھے۔نامہ نگار عازم جان کے مطابق بانڈی پورہ ضلع میں ہڑتال رہی ۔اس دوران حاجن میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔بارہمولہ اور کپوارہ میں ہڑتال کی وجہ سے نظام زندگی پوری طرح سے مفلوج رہا جس کے دوران تمام کاروباری اور عوامی سرگرمیاں مفلوج ہوکر رہ گئیں۔ نامہ نگار اشرف چراغ کے مطابق کپوارہ میں بھی مکمل ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔

کئی علاقے سیل

  ہڑتال کال کے پیش نظر پائین شہر کے حساس علاقوںمیں کرفیو جیسی صورتحال جاری رہی جبکہ مصروف بازار صحرائی مناظر دیکھنے کو ملے۔ مزاحتمی تنظیموں کی طرف سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر شہر کے لالچوک،مائسمہ،گائو کدل، مدینہ چوک، ریڈکراس روڑ،بر بر شاہ، گھنٹہ گھر، آبی گذر، ریگل چوک ، بڈشاہ چوک اور دیگر ملحقہ علاقوں میں پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد تعینات کی گئی تھی اور انہیں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار حالت میں رکھا گیا تھا۔شہر میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر شہر میںحفاظت کے سخت انتظامات کئے گئے تھے جس کیلئے پولیس اور سی آر پی ایف کی اضافی تعداد سڑکوں پر تعینات رہی۔سول لائنز کے لال چوک ، بڈشاہ چوک، ریگل چوک ، مولانا آزاد رو،اور دیگر علاقوں میں بھاری پولیس بندوبست کیا گیا تھا اور بڈشاہ چوک میں واقع اکھاڑہ بلڈنگ کے اردگرد بھی پولیس اور سی آر پی ایف کا سخت پہرہ بٹھایا گیا تھا۔ اس دوران حزب کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی کے پیش نظر انتظامیہ نے جنوبی قصبہ ترال میں اعلانا ً کرفیو نافذ کیا ۔ضلع انتظامیہ پلوامہ کی ہدایت پر قصبہ ترال میں ہفتہ کی علی الصبح پولیس کی لائوڈ اسپیکروں کے ذریعے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کرایا گیا ۔نامہ نگار سید اعجاز کے مطابق قصبہ ترال کو جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کو ہی فوج وفورسز نے مکمل طور پر سیل کیا ،جس دوران پولیس کی لائوڈ اسپیکروں کے ذریعے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا گیا ۔پولیس ۔نمائندے کے مطابق قصبہ ترال کے تمام داخلی وخارجی راستوں کو مسدود کیا گیا ،تاکہ کرفیو کو سختی کے ساتھ نافذ کیا جاسکے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ جب وہ ہفتہ کی الصبح دودھ اور روٹی لانے کیلئے گھر سے باہر آئے ،تو یہاں تعینات فورسز اہلکاروں نے اُنہیں واپس گھروں کو لوٹنے کی ہدایت دی۔اس دوران بانڈی پورہ میں انتظامیہ نے9جولائی تک  دفعہ144کے تحت جلسوں،عوامی میٹنگوں اور لوڈ سپیکروں کا استعمال کرنے کے خلاف پابندی عائد کی ہے۔

انٹرنیٹ و ریل سروس معطل

 انتظامیہ نے وادی کے بیشتر حصوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو اگلے احکامات تک معطل کردیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر افواہ بازی پر لگام کسنے اور وادی میں ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے اگلے احکامات تک موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل کردیا ہے۔اس دوران ہڑتال کے پیش نظر ریل خدمات اتوار کو بھی معطل رہیں گی۔ محکمہ ریلوے کے ایک عہدیدار نے بتایا ’ہم نے آج (ہفتہ کے روز) چلنے والی تمام ریل گاڑیاں معطل کردی ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ سرینگر سے براستہ جنوبی کشمیر جموں خطہ کے بانہال تک کوئی ریل گاڑی نہیں چلے گی۔ ادھر فسٹ ٹرم کے تحت آٹھویں جماعت لئے جانے والے امتحانات کو ملتوی کیا گیا ۔