تازہ ترین

ترہگام ہلاکت پر مزاحمتی خیمہ برہم

کہا فرقہ پرست طاقتیں فورسز کی پیٹھ تھپ تھپا رہے ہیں

13 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 سرینگر//حریت (گ)،تحریک حریت ،لبریشن فرنٹ،ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی،لبریشن فرنٹ( آر )،نیشنل فرنٹ اور ووئس آف وکٹمز نے ترہگام کپوارہ میں فوج کے ہاتھوں ایک اور معصوم اور نہتے نوجوان کی بہیمانہ ہلاکت پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے آئے دنوں کی ہلاکتوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کو سنگین قرار دے دیا ہے۔ حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی نے معصوم شہریوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کئے جانے کی وارداتوں کا نہ ختم ہونے والے سلسلے پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے عوام کو حقِ خودارادیت کے مطالبے کی پاداش میں انتہائی بے رحمی کے ساتھ تہہ تیغ کیا جارہا ہے اور دنیائے انسانیت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ انہوںنے میمندر شوپیان کے 9برس کے معصوم طالب علم سالک اقبال اور ترہگام کپواڑہ کے ایک اور طالب علم خالد غفار ملک کو بھارتی فوج کی راست فائرنگ کے نتیجے میں ان کے سفاکانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے ان معصوم شہداء کو خراج عقیدت ادا کیا۔  تحریک حریت کے نظربند چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے خالد غفار ملک ترہگام کپواڑہ کو فورسز کے ہاتھوں جاں بحق کئے جانے اور 8سالہ سالک اقبال میمندر شوپیان کی دھماکے میں جاں بحق ہونے پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عام اور نہتے جوانوں کو اندھا دھند گولیاں چلاکر مارنا انتہائی سنگین جُرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز کی طرف سے قتل عام کا رقص جاری ہے۔ جموں کشمیر کے اطراف واکناف میں طلباء اور جوانوں کا خون بڑی بے دردی سے بہایا جارہا ہے۔ فورسز کو نہتے اور معصوموں کا قتل عام کرنے کی نہ صرف کھلی چھوٹ ہے، بلکہ فرقہ پرست حکمران فورسز کی پیٹھ تھپ تھپا رہے ہیں۔صحرائی نے کہا کہ دنیا کا کوئی مہذب سماج، قانون یا اخلاق اس بات کی اجازت نہیں دیتا ہے کہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے پُرامن احتجاج کرنے یا راہ چلتے لوگوں کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کردیا جائے، مگر بھارت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا مرتکب ہورہاہے جس نے انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کو پاؤں تلے روندھتے ہوئے گزشتہ 70برسوں سے جموں کشمیرکے بے گناہ اور نہتے انسانوں کا خون پانی کی طرح بہایا۔ لبریشن فرنٹ نے ترہگام میں بھارتی فوجیوں کی بلا اشتعال فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک اور بچے کو بھارتی فوجیوں نے براہ راست فائرنگ کرکے سفاک طریقے پر قتل کیا ہے اور یوں انسانی ظلم و جبر کی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ کیا گیا ہے۔پارٹی چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا کہ اس قتل عام پرہمارے دل مجروح اور ہماری آنکھیں اشکبار ہیں لیکن اس کے باجود ہم ظالم و قابض کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ یہ قتل عام اور نسل کشی ہمیں ہماری جدوجہد سے دور نہیں لے جاسکتی بلکہ آزادی اور حق خودارادیت کیلئے ہماری جدوجہد اور بھی تیز تر ہوگی اور تب تک جاری رہے گی کہ جب تک نہ کشمیری اپنے مقدس ہدف کو حاصل نہیں کریں گے۔درایں اثناء لبریشن فرنٹ کے نائب چیئرمین شیخ محمد افضل اور ظہور احمد بٹ نے ترہگام پہنچ کر خالد غفار کی نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کی۔ فریڈم پارٹی کے ایک ترجمان نے خالد احمد ملک ولد عبد الغفار ملک ساکن ترہگام کے غمزدہ والدین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ صرف اُن والدین کو ہی ہلاکتوںکے درد کا اصلی احساس ہے جن کے لخت جگر بھارتی فورسز کی بربریت کا شکار بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے والدین کی کمر ٹوٹ جاتی ہے جب اُن کے بچوں کی لاشیں اُن کے گھروں میں پہنچ جاتی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ  فورسز معمولی باتوں پر بھی گولیاں اور پیلٹ چلانے لگتی ہیں جس کے نتیجے میں سر زمین کشمیر لال ہورہی ہے یہاں تک کہ عام لوگ نفسیاتی طور متاثر ہوئے ہیں۔لبریشن فرنٹ( آر ) کے سرپرست اعلیٰ بیرسٹر عبدالمجید ترمبو ،ایڈوکیٹ ایوب راٹھور اور وجاہت بشیر قریشی نے خالد غفار ملک کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی اور تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز انتقامی جذبے کے تحت نہتے کشمیریوں کے خلاف بر سر جنگ ہے۔ نیشنل فرنٹ کے ایک ترجمان نے ترہگام میں فوج کی فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہر بات پر بندوقوں کے دہانے کھولنے سے یہاں کے عوام کو شدید نفسیاتی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی کولگام اور شوپیان میں شہری ہلاکتوں کے زخم تازہ ہی تھے کہ ترہگام میں ایک اور نوجوان کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا جس سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ فورسز نے کشمیری قوم کو بندوق کی نوک پر سرنڈر کرانے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ووئس آف وکٹمز کے کوارڈی نیٹر عبدالرئوف خان نے کہا کہ ہندوستان کی اس طرح کی پالیسی سے جموں و کشمیر میںحالات سدھرنے کے بجائے مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے مہلوک نوجوان کے غمزدہ خاندان سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اقوام عالم سے اپیل کی کہ وہ کشمیر کی صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیکر اس کے حل کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔