تازہ ترین

ریاستی گورنر شہریوں کی ہلاکتیں روکے:عمر

نیا ایس او پی وضع کیا جائے

12 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
 سرینگر // ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبدللہ نے مسلح تصادموں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت کو ٹالنے کی اپیل کرتے ہوئے ریاستی گورنر این این ووہراسے کہا ہے کہ وہ وادی بالخصوص جنوبی کشمیر میں عام شہریوں کی ہلاکتیں روکنے کیلئے نئے سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) وضع کریں۔بدھ کو سرینگر میں اپنی دادی بیگم اکبر جہاں کی 18ویں برسی کے سلسلے میں نسیم باغ سرینگر میں منعقدہ ایک تقریب پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عمر نے کہا کہ لوگوں کو امید تھی کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد حالات میں آہستہ آہستہ بہتری آنی شروع ہو جائے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، نہ ہی ہمیں وہ بہتری نظر آرہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وادی خاص کر جنوبی کشمیر میں مسلح تصادم آرائیوں میں عام شہری مارے جا رہے ہیں اور اس پر جب تک روک نہیں لگائی جا تی تب تک یہ کہنا اور اُمید کرنا کہ حالات میں بہتری آئی ہے،غلط ہوگا۔ ۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم نے اس حوالے سے ریاستی گورنر سے پہلے ہی گذارش کی ہے کہ انہیں اس طرح کا ایس او پی تیار کرنا ہوگاجس کی بدولت مسلح تصادموں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت کو ٹالا جاسکے‘۔عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیر وادی میں زمینی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی ہے  اور مسلح تصادم کے مقامات پر عام شہریوں کا جاں بحق ہونا اب معمول بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا ’وادی کی زمینی صورتحال آپ کے سامنے ہے۔ ہر روز یا تو جنگجوؤں کے حملے ہوتے ہیں یا عام شہری مارے جاتے ہیں۔ گذشتہ ایک ڈیڑھ ماہ میں 28 نوجوان جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہوچکے ہیں، میں نے جموں میں سنا کہ کشتواڑ میں آٹھ نوجوان لاپتہ ہوگئے ہیں۔ اگر کشتواڑ میں ملی ٹینسی دوبارہ شروع ہوگئی تو یہ پیش رفت ریاست کے لئے بہت ہی خطرناگ ثابت ہوگی۔عمر عبداللہ نے ایک نجی چینل کو محبوبہ مفتی کی طرف سے دئے گے انٹرو یوکے ردعمل میں کہا کہ انہوں نے ریاست کے لوگوں کی ہمدردی کیلئے ایک لفظ بھی نہیں کہا اور نہ ہی یہ تسلیم کیا کہ اُن کی اور اُن کے والد مرحوم کی تین سالہ حکمرانی کے دوران لوگوں کو کس قدر مشکلات کا سامنا رہا ۔انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کو ریاست جموں وکشمیر کے لوگوں سے معافی مانگنی چاہئے ۔