تازہ ترین

شینا زبان

حکومتی عدم توجہی کی شکار کیوں؟

12 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد شفیع ساگر ؔ
 جموںو کشمیر کے آئین میں شامل زبانوں میں ایک زبان شینا بھی ہے ۔ یوں تو یہ زبان جموںو کشمیر کے آئین میں دردی کے نام سے درج ہے، شینا زبان بولنے والوں کی سب سے بڑی آبادی پاکستان کے شمالی علاقہ جات یعنی گلگت اور اس کے گردو نواح میں آباد ہے۔اس علاقے کو باہر والے دردستان کے نام سے جانتے ہیں اور یہاں کے رہنے والوں کو درد اور یہاں کی زبان کو دردی کہا جاتا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں کے لوگ اس بات کو آج تک سمجھ نہیں پائے کہ انہیں درد اور اُن کی زبان کو دردی کیوں کہا جاتا ہے۔یہ لوگ اپنے بودوباش کے علاقے کو’ ’شناکی‘ ‘اپنی زبان کو شینا اور خود کو شین کہتے ہیں ۔یہاں سے مختلف ادوار میں لوگ ہجرت کرتے کرتے ریاست جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں آباد ہوئے ہیں۔ جموں و کشمیر میں ان کی زبان کو آئینی حیثیت حاصل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسے وہ تمام حقوق مل گئے جو آئین میں شامل باقی زبانوں کو مل رہے ہیں۔ آیئے ہم اس بات پہ اجمالی غور وفکر کرتے ہیں ۔ 
جموں و کشمیر میں زبانوں کی ترقی و ترویج کے لیے کام کرنے کے لیے ایک ادارہ جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لنگویج کے نام قائم ہے جس کے ذمہ ریاست کی ہر زبان کی ترقی وترویج کے لئے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے ۔ اسی مقصد سے اکیڈمی میں ہر زبان کا اپنا الگ شعبہ ہے لیکن شینا زبان کے لئے آج تک کوئی سیکشن قائم نہیں کیا گیا ۔ شینا زبان کی ترقی و ترویج کے لیے حکومت نے دو اسامیاں اکیڈمی کے لئے منظور بھی کئے ہیں لیکن تا حال ان کا انٹرویو عمل میں نہیں آیا ۔ اکیڈمی میں دیگر زبانوں میں ماہنامہ شیرازہ باقاعدہ نکلتا ہے لیکن شینا زبان میں آج تک ایک بھی شیرازہ شائع نہیں ہوا ۔اس کے علاوہ اکیڈمی کی طرف سے ملک کے مختلف شہروں میں ہر سال کلاکاروں کو مدعو کیا جاتا ہے لیکن شینا زبان کے ایک بھی کلا کار کو آج تک نہیں بلایا گیا ۔ یہ ہے اکیڈمی کے اندر شینا زبان کے  بُرے حال کا سرسری تذکرہ۔ اب ہم ریڈیو میں شینا زبان کا حال کا جائزہ لیتے ہیں ۔ شینا زبان بولنے والوں کی زیادہ تعداد دراس اور گریز میں آباد ہے لیکن ریڈیو اسٹیشن نہ گریز میں ہے نہ دراس میں ۔ دراس میں ایک ریلے کیندر ہے جہاں سے آکاش وانی کے پروگرام نشر ہوتے ہیں ۔ ریڈیو سٹیشن کرگل سے پُرگی اور بلتی زبانوں میں خبریں نشر ہوتی ہیں لیکن شینا زبان میں خبریں نشر نہیں ہوتیں جب کہ شینا زبان بولنے والوں کی تعداد پُرگی کے بعد سب سے زیادہ ہے ۔یہاں سے ہفتے میں ایک دن آدھے گھنٹے کا پروگرام شینا زبان میں نشر توہوتا ہے لیکن دراس میں یہ پروگرام بھی صاف سنائی نہیں دیتا ۔ دراس کے لوگوں نے حکومت سے کئی بار اپیلیں بھی کیں کہ کرگل ریڈیو اسٹیشن کو دراس کے ریلے کیندر کے ساتھ لنک کیا جائے  تاکہ شینا پروگرام صاف سنائی دے لیکن اس مطالبے پہ کبھی عمل درآمد نہیں ہوا ۔ ریڈیو کشمیر سے بھی آدھے گھنٹے کا پروگرام ہفتے میں ایک بار نشر ہوتا ہے لیکن یہاںسے بھی شینا زبان میں خبریں نشر نہیں ہوتیں ۔ نیزان پروگراموں میں شینا ادیبوں اور قلم کاروں کو شرکت کے بہت کم مواقع ملتے ہیں ۔ بس کبھی کبھی مشاعرے منعقد ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دور درشن میں بھی شینا پروگرام کی کبھی کبھار ایک جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔ جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی طرف سے سال 2017ء میں چوتھی جماعت کے لئے شینا قاعدہ مرتب کیا گیا ، جب کہ باقی زبانیں اسکولوں میں آٹھویں جماعت تک متعارف ہو چکی ہیں ۔ کشمیری اور ڈوگری زبانیں تو دسویں جماعت میں بھی متعارف ہوئی ہیں۔ یونیو رسٹی میں بدقسمت شینازبان کے بولنے والوں کے لیے کوئی الگ شعبہ بھی نہیں  پایاجاتاہے ۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر ایک طرف حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ ریاست میں رائج الوقت اور دم توڑتی زبانوں کی ترویج و ترقی کے لیے بہت کچھ ہو رہا ہے ، تو ودسری دوسری طرف شینا زبان کا کوئی پُرسان حال کیوں نہیں ۔ شینا زبان بولنے اور لکھنے والوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیوں ؟ 
 
 حال دراس کرگل، لداخ 
Email:- smartdrass786@gmail.com
Mobile No:- 9622221748, 9419399487, 9469278518