تازہ ترین

گنڈولہ اور گُڑیا

فلیش فکشن

9 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

ڈاکٹر ریاض توحیدی
 نصف شب تک وہ بستر پر کروٹیں بدل بدل کر گنڈولہ کی سواری کے خواب دیکھتا رہا۔یہ خواب وہ کئی برسوں سے دل میں سجائے بیٹھا تھا۔آنکھ لگتے ہی اس نے خود کو گنڈولہ کی سواری کا مزہ لیتے ہوئے پایا۔اب اس کا  یہ خواب پورا ہونے جارہا تھا کیونکہ کل اسکول کے طلبہ گلمرگ کی سیر کو جارہے تھے‘چونکہ اب کشمیر میں گلمرگ اور گنڈولہ جیسے ہم نام بن چکے ہیںکیونکہ جو بھی گلمرگ کی سیر کرنے جاتا ہے تو اس کی سوچ پر گنڈولہ کی سواری کا چسکا ضرور چھایا رہتا ہے۔سویرا ہوتے ہی ماں نے اسے جگا یا ۔باتھ روم سے فراغت کے بعدناشتہ ختم کرنے کے ساتھ ہی وہ پکنک کی تیاری میں جٹ گیا۔ماں نے ٹفن اور واٹر بوتل کے ساتھ بیگ اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے سو روپے کا نوٹ بھی دے دیا۔ وہ جونہی گھر سے باہر نکلا تو پیچھے سے چھوٹی بہن کی توتلی آواز آئی کہ’’ بھیا گھڑیا ضرور لانا۔‘‘بہن کی توتلی آواز سن کر وہ مسکراتے ہوئے سر ہلا کر اسکول کی جانب چل پڑا۔چلتے چلتے گاؤں کے دوسرے بچے بھی ساتھ جڑتے رہے اور ایک دوسرے کو کھانے پینے اور پاکٹ منی کے بارے میں بتاتے رہے۔وہ بھی خاموشی کے ساتھ سبھی کی باتیں سنتا رہا ۔چند بچے جب  اپنے اپنے پاکٹ منی کا ذکر بڑے فخرسے کرنے لگے تو اسے ماں کا دیا ہوا سو کا نوٹ یاد آیا۔      
 سبھی لڑکے اور اسکولی عملہ گاڑیوں میںسوار ہوکرگلمرگ کی طرف روانہ ہوئے۔دوران سفر بچے مستی میں گیت و سنگیت سے بھی محظوظ ہوتے رہے۔دو ڈھائی گھنٹے کے بعد گاڑیاں پکنک سپاٹ پر پہنچ گیئں۔ گاڑیوں سے اتر کر طلبہ گلمرگ کے سحر انگیز ماحول میں کھو سے گئے۔ایک دو گھنٹے گلمرگ کی سیر کرکے لنچ کے بعد اساتذہ نے سبھی طلبہ کو ایک جگہ جمع ہونے کے لئے کہا۔سبھی طلبہ جب اکٹھے ہوگئے تو ایک استاد ہاتھ میں قلم کاغذ سنبھالے ہوئے کہنے لگا کہ جس جس کو گنڈلہ پرچڑھنے کا شوق ہے وہ اپنا نام بتائے تاکہ ہم ایک ساتھ ٹکٹیں بک کرواسکیں۔سبھی لڑکوں کے ساتھ ساتھ اس کا دل بھی خوشی سے مچل اٹھا اور وہ بھی قطار میں کھڑا ہوکراپنا نام اور پیسے جمع کرانے کے لئے بے تابی سے انتظار کرنے لگا۔دوسرے طلبہ کی طرح وہ بھی بیچ بیچ میں گنڈولہ کی طرف بار بار دیکھتا رہتا ۔اسی دوران ایک کھلونے بیچنے والا بھی ادھر کھلونے بیچنے کے لئے آگیا۔کئی لڑکوں نے کھلونے
 خریدے ۔اس نے بھی پچاس روپے میں ایک گڑیا خرید ی۔وہ گڑیا کو بیگ میں بھر ہی رہا تھا کہ اس کا ایک دوست پیسہ جمع کرکے اس کے پاس پانی پینے کی خاطر آگیا۔وہ پانی کی بوتل دیتے ہوئے اسے پوچھنے لگا کہ کتنے پیسے جمع کرانے پڑتے ہیں:
’’سو روپے‘‘دوست نے پانی پی کر بوتل واپس دیتے ہوئے کہا۔’’اور ہاں جنید‘یہ اسٹوڈنٹس کے لئے
خصوصی ڈسکاونٹ ہے، نہیں تو یہاں پر تین چار سو روپے کی ٹکٹ ملتی ہے۔‘‘
سو روپے کا نام سنتے ہی جیسے اس کے پاؤں تلے زمین کھسک گئی۔وہ پریشان ہوکر سوچنے لگا کہ کل تو  اسکول میں بچے کہہ رہے تھے کہ اسٹوڈنٹس کے لئے گنڈولہ کا کرایہ صرف پچاس روپے ہیں لیکن یہاں توسو روپے  کاکہہ رہے ہیںاوراس کے پاس صرف پچاس ہی ہیں۔اس نے گڑیا بیگ سے نکالی اور کھلونے والے کی طرف دوڑ پڑا۔کھلونے والا ایک جھاڑی کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔پھولتے سانس کے ساتھ وہ جب گڑیا واپس کرنے کے لئے پہنچ گیا تو وہاں پر ایک چھوٹی بچی کے ہاتھ میں گڑیا دیکھ کر اس کے قدم رک سے گئے۔اسے اپنی چھوٹی بہن کی توتلی باتیں یاد پڑیں۔وہ اب ذہنی کشمکش میں یہ سوچنے سے قاصر رہا کہ اب گڑیا کھلونے والے کو واپس دیکر سو روپے برابر کرلے تاکہ گنڈولہ پر چڑھنے کی چاہت پوری ہوجائے یا چھوٹی بہن کی خوشی کو پورا کرے۔ اسی تذبذب میں وہ کبھی گڑیا کی طرف دیکھتا رہا اور کبھی گنڈولہ کو حسرت بھری نظروں سے تکتا رہا۔
چھوٹی بہن کی خوشی اپنے خواب پر بھاری پڑی اور وہ مایوس ہوکر جھاڑی کی دوسری جانب چھپ گیا تاکہ کوئی دوست اسے گنڈولہ کی سواری کے بارے میں نہ پوچھ بیٹھے۔طلبہ نے پیسے جمع کرکے ٹکٹیں حاصل کرلیں اور وہ مستی کے عالم میں گنڈولے میں داخل ہوتے رہے ۔یہ نظارہ دیکھ کر اس کے اندر مایوسی کا سمندر موجیں مارنے لگا۔آج اس کے دل پر پہلی بار یتیمی اور غریبی کا تیز خنجر وار کرنے لگا۔وہ اپنے خواب کا خون ہوتے دیکھ کرچلانا چاہتا تھا لیکن زبان جیسے گنگ سی ہوگئی تھی۔گنڈولہ جب پہاڑی کی بلندی کی طرف چڑھنے لگا تو اس کی آنکھیں آبدیدہ ہوگیں اور اس کو گڑیا کا چہرہ بہن کا چہرہ محسوس ہوا۔اس نے مسکراتے  ہوئے گڑیا کو سینے سے لگایا۔ٹپ ٹہ آنسوئوں کے موتی گڑیا کے چہرے کوچمکانے لگے اوراسے اُڑتے گنڈولہ کو دیکھتے ہوئے یہ محسوس ہونے لگا کہ جیسے وہ بھی چھوٹی بہن کے ساتھ گنڈولہ میں سوار ہوکر برسوں کا خواب پورا کررہاہے۔
 
 وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر193221
E.mail:drreyaztawheedi777@yahoo.com
Mob;9906834877