تازہ ترین

کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کیس: ملزمان کی پنجاب منتقلی کا حکم

سی بی آئی تحقیقات کی عرضداشت سپریم کورٹ میں پھر مسترد

10 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اروند شرما
نئی دہلی+جموں //سپریم کورٹ نے کٹھوعہ عصمت دری و قتل معاملہ کے 7ملزمان کو کٹھوعہ ضلع جیل سے پنجاب کے گورداسپور شہر کی جیل منتقل کرنے کا حکم دیا ہے ، عدالت نے مرکزی سرکار اور ملزمان کے وکلاء کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غیر معمولی حالات کی وجہ سے یہ فیصلہ لیا جا رہا ہے ۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی سہ رکنی بنچ جس میں جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس اندو ملہوترہ بھی شامل تھیں نے ریاستی حکومت کی طرف سے پیش کردہ سٹیٹس رپورٹ بھی منظور کر لی۔ عدالت عظمیٰ ،جو اس سے قبل بھی اس کیس میں کئی اہم ہدایات دے چکی ہے ، نے حکومت کو 8ہفتہ کے اندر کیس کی سپلمنٹری چارج شیٹ دائر کرنے کے لئے کہا۔ متاثرہ بچی کے والد محمد اختر کی طرف سے پیش وکیل اندر جے سنگ ملزمان کو کٹھوعہ ضلع جیل سے گورداسپور منتقل کرنے کی یہ کہتے ہوئے مانگ کی کہ کم سیکورٹی کی وجہ سے ملزمان کے جیل یا عدالت سے فرار ہونے کا امکان ہے۔ ملزمان جن میں دو پولیس افسر بھی شامل ہیں، گواہوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے وکیل کے دلائل سے اتفاق کر لیا۔ اس دوران معزز عدالت نے پنجاب اور جموں کشمیر کی حکومتوں کو حکم دیا کہ پٹھانکوٹ ضلع عدالت کے جج اوراس کیس کے پبلک پراسکیوٹروں کو مناسب سیکورٹی فراہم کی جائے۔ معزز عدالت نے اپنے پہلے حکمنامہ میں بھی ترمیم کر دی جس کے مطابق ملک کی کسی بھی دوسری عدالت اس کیس کے حوالہ سے پٹیشن دائر نہیں کی جا سکتی تھی اور ملزموں نیز متاثرہ کنبہ کو ٹرائل کورٹ کی طرف سے دی جانے والی ہدایات کے خلاف پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ جانے کی اجازت دے دی۔ فاضل بنچ نے ڈسٹرکٹ و سیشن جج پٹھانکوٹ کو حکم دیا کہ وہ معاملہ کی ’فل کورٹ ان کیمرہ ‘سماعت کریں جس کے مطابق سماعت کے دوران جج، وکلاء اور عدالتی عملہ کے علاوہ کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو کمرۂ عدالت میں آنے کی اجازت نہ ہوگی۔ اس سے قبل مرکزی سرکار کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالسٹر جنرل مہندر سنگھ نے ملزمان کی کٹھوعہ سے گورداسپور منتقلی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو دوسری جیل منتقل کرنے سے قبل نوٹس جاری کیا جانا چاہئے تھاتا کہ انہیں اپنے دلائل پیش کرنے کا موقعہ مل سکے ۔ملزمان کی طرف سے پیش ہونے والے وکلاء نے کہا کہ اس سے ملزمان کے اہل خانہ کو گورداس پور آنے جانے میں دقت پیش آئے گی۔ عدالت نے ملزمان کے اہل خانہ کو گورداس پور آنے جانے کے اخراجات ریاستی حکومت کے ذمہ کر دئیے ہیں۔ سینئر ایڈوکیٹ شیکھر نفاڈے اور ریاستی حکومت کی طرف سے پیش وکیل شعیب عالم نے ریاستی حکومت کی طرف سے سٹیٹس رپورٹ فاضل بنچ کے روبرو پیش کی جس میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ کی بنیادوں پر پٹھانکوٹ میں چل رہی سماعت کے دوران ہرملزم کی طرف سے 7وکلاء پیش ہو رہے ہیں۔بیک وقت عدالت میں 50وکلاء صفائی جمع ہو جاتے ہیں جس سے استغاثہ کی طرف سے پیش ہونے والے گواہ سخت دبائو محسوس کرتے ہیں اور اس سے ان کیمرہ سماعت کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے ۔ ایڈوکیٹ شیکھر نے عدالت سے مانگ کی گواہوں کی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ جرح کا حکم دیا جائے ۔ تاہم معزز بنچ نے یہ مانگ منظور نہیں کی ۔سپریم کورٹ نے کٹھوعہ معاملہ کی سی بی آئی انکوائری کروائے جانے کی مانگ کو ایک بار پھر ٹھکرا دیا ۔ جیسا کہ کل خبر دی جا چکی ہے تلک راج نامی ملزم کی طرف سے دائر درخواست کو مسترد کئے جانے کے بعد از سر نو عرضی دائر کی گئی تھی جسے عدالت عظمیٰ نے مسترد کر دیا۔ کلیدی ملزم سانجھی رام کے بیٹے وشال جنگوترہ کی طرف سے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی ہے جس پر 16جولائی کے بعد سماعت ہوگی۔وکیل صفائی اے کے ساہنی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سپریم کورٹ میں سی بی آئی انکوائری کے لئے عرضی دائر کی گئی تھی جسے عدالت عظمیٰ نے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ اس کے لئے پٹیشن دائر کی جائے لیکن مالی دشواریوں کی وجہ سے پٹیشن دائر نہ ہو سکی اور کائونٹر درخواست دائر کی گئی تھی لیکن اسے منظور ہی نہیں کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ اس دوران وشال جنگوترہ کے وکیل انکور شرما نے سی بی آئی انکوائری کیلئے پٹیشن دائر کر دی ہے جس پر اگلے ہفتہ سماعت کا امکان ہے ۔ ادھرکٹھوعہ عصمت دری اور قتل معاملہ کی سماعت کر رہی پٹھانکوٹ ضلع عدالت نے ملزمان میں سے ایک کی طرف سے کرائم برانچ کی طرف سے ہراساں کرنے کی شکایت پولیس سربراہ کو بھیج دی ۔ پرویش کمار عرف منو کی طرف سے عائد الزامات کو کرائم برانچ کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم SITکی طرف سے خارج کئے جانے کے بعد فاضل جج نے جموں کشمیر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو معاملہ کی تحقیقات کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ سیشن جج نے کرائم برانچ کے تمام اہلکاروں کو فرداً فرداًبیان حلفی دائر کرنے کیلئے کہا تھا جس میں انہوں نے ملزم کی طرف سے عائد الزامات کو خارج کر دیا تھا۔ ملزم کی طرف سے عائد الزامات کا نکتہ وار جواب دیتے ہوئے پولیس اہلکاروںنے اپنے جواب میں کہا ہے کہ یہ شکایت من گھڑت ہے اور ملزم کی بوکھلاہٹ کی مظہر ہے جسے ڈاکٹروں کے بورڈ نے بالغ قرار دے دیا ہے ۔