تازہ ترین

افسانچے

24 جون 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

جنید جاذب

عُریاں فاصلے

 
’’ بھائی تو اس آفت کا مارا تھا ہی ا ب بہن کو بھی چسکا لگ گیا ہے ۔۔۔۔خدایا تو ہی کچھ ہدایت دے ان نامعقولوں کو ‘‘  نالاں نالاں سی یہ آواز رسوئی سے آئی تھی۔
’’دیکھو تو۔۔۔۔کیسے پتھر بنے بیٹھے ہیں۔مجال ہے جوآپس میں بھی کوئی بات کر لیں ‘‘رسوئی سے ملحق  لِونگ ایریا سے فوراً تائیدی ردعمل آیا۔
لِوِنگ ایریا میں تقریباًآ ٓمنے سامنے  بیٹھے  دونوں بہن بھائی ایک دوسرے سے لاتعلق  چیٹنگ میں یوں منہمک تھے جیسے آس پاس اور کوئی موجود نہ ہو۔
معروف کی دوستی نفیسہ نامی لڑکی سے تھی جب کہ عافیہ کسی ساحل سے پینگیں بڑھارہی تھی۔ بات آگے بڑھی تو اپنا اپناایڈریس ایکسچینج کیا گیا، مشغولیت کے بارے میں باتیں ہوئیںاور پسند نا پسند کا ذکر چھڑا۔ ساحل کے ایڈرس میں اپنے ہی شہر کا نام دیکھ کر عافیہ کچھ جھجک گئی ،لیکن پھر کچھ سوچ کر اپنا اور اپنے شہر کا صحیح نام  بتانے سے گریز کرتے ہوئے اس نے  چیٹ جاری رکھی ۔فرضی ناموں  کے استعمال میں بہرحال یہ فایدہ  ہوتا ہے کہ ایک دوسرے پر کتنا بھی کھُل ڈُل جائو ایک دفاعی پردہ اور محفوظ فاصلہ بہر حال بنا رہتا ہے اور کل کلاں کوئی بات بگڑ بھی جائے توبات گھر اور گلی محلے تک نہیں پہنچتی۔
ڈِسکشن کچھ کچھ ’ نان ویج‘ رنگ پکڑنے لگا توعافیہ انگڑائی لیتے ہوئے اُٹھ کھڑی ہوئی اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ ایک نظر بھائی کی طرف دیکھا جو اِس کی موجودگی سے بے نیاز اپنے کام میں مصروف تھا۔وہ مسکرا کراپنے کمرے میں آ گئی۔دروازہ بند کیا اور چیٹ پہ بحال ہو گئی۔
’’اپنے  روم میں آگئی‘‘
’’تو ابھی تک کہاں تھی‘‘
’’بھائی کے روم میں تھی ،۔۔۔۔۔مطلب بھائی کے ساتھ بیٹھی تھی لابی میں۔۔۔۔۔۔۔۔گھبرائو نہیں، میں اب اپنے کمرے میں واپس آگئی ہوں۔۔۔بولو کیا پوچھ رہے تھے۔۔۔؟‘‘  
’’عافیہ۔۔۔۔۔۔یہ تم!!؟؟؟؟؟؟؟؟‘‘  
میسج کے ڈیلیور ہوتے ہی دوسرے کمرے سے معروف چیخا۔
 

داغ

شادی کے چار سال بعدبھی بے اولادہونے کا صدمہ ہی کچھ کم نہیں تھا کہ اب بیوی طلاق کا مطالبہ کر بیٹھی تھی۔ہزار سمجھانے بجھانے بلکہ منت سماجت تک کرنے کے باوجود وہ اپنی ہٹ پہ اڑی رہی اور ایک دن اسے اور اس کے گھر کو لات مار کرچلی گئی۔دبے لفظوں میں نامردی کے الزام کا جوگولہ  وہ  جاتے جاتے  اس کی جانب داغ گئی تھی وہ ہائیڈروجن بم کی طرح پھٹ کراس کی انا اور اِمیج دونوں کے چیتھڑے اڑا گیا ۔
گو یہ کام آسان نہیں تھا لیکن وہ کسی بھی طرح اور کسی بھی قیمت پراس بد نما داغ کو مٹاکرکر اپنی ساکھ اور سکون بحال کرنا چاہتا تھا۔
 والدین اور دوستوں کی رائے اور کوششوں سے بالآخر ضرورت مند والدین کی ایک نو عمر لڑکی کے ساتھ اس کی شادی ہو گئی ۔لڑکی نے ڈیڑھ دو سال میں ہی ایک خوب صورت سے بچے کو جنم دے کر  اُس کی ذات پر لگے بھدے داغ کو دھو ڈالا۔لیکن اب  اس کے اندر جو ایک اور داغ مسلسل پھیلتا جا رہا تھااسے سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ اس کا ازالہ وہ کیسے کرے۔
 

ارتقا

 ’’۔۔۔۔اس طرح ان سب شواہد سے اب یہ بالکل واضح ہو چکا ہے کہ ہم انسان، یا یوں کہہ لو کہ زندگی ،اپنی موجودہ شکل کوپہنچنے سے پہلے کئی مرحلوں سے گزری ہے۔۔۔۔۔‘‘ نئے تعینات ٹیچر نے بائیو کی اپنی پہلی کلاس میں ہی طلبا کو اپنا گرویدہ بنا لیاتھا۔ سوال کرنے،  اپنی رائے سامنے رکھنے اور ٹاپک پر کھل کر تبصرہ کرنے  کے لئے اس نے طلبا کی بہت  حوصلہ افزائی کی۔
دوسری کلاس میں بھی اس نے  نامیاتی ارتقا(EVOLUTION) پر ہی ڈسکشن آگے بڑھایا۔ 
’’خرد بینی اور یک خلیہ جانداروں سے آہستہ آہستہ بڑے جانداروں  نے ترقی پائی ۔۔۔سادہ جانوروں  سے پیچیدہ ساخت والے جانوروں نے اور پھر ان سے  ترقی پاکر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسرے لفظوں میں  ہم ایک لمبے پروسس  (Process)کے بعد جانور سے انسان بنے  ہیں  اور پھر  دھیرے دھیرے جنگلی اور وحشی انسان سے  مہذب اور سماجی انسان بنے ہیں‘‘ 
ایک بچہ جو ابھی تک صرف غور سے سن رہاتھا، پہلی بار کچھ پوچھنے کے لئے کھڑا ہوا، ’’سر یہ نامیاتی  اِرتقا اب رِیورس (reverse) نہیں ہوسکتا ؟‘‘
 
 

ضرورت

اس کے ساتھ قطع تعلق کرنے والوں میں سب سے آخری، لیکن سب سے شدید، اس کی بیوی تھی۔
ـ’’میں آج سے اپنا کمرہ الگ کررہی ہوں اور تمہارے ساتھ کوئی واسطہ نہیں رکھنا چاہتی۔۔۔۔۔‘‘وہ روہانسی ہو گئی لیکن  پھر فیصلہ کُن انداز میں بولی، ’’۔۔۔۔ میں ایک دہریے کے ساتھ ایک بستر پہ کیسے سو سکتی ہوں۔۔۔۔آج تک جو تھا سو تھا  لیکن اب تمھارے کھلے عام کفر کے اعلان کے  ساتھ ہی شرعاً ہم میںمیاں بیوی کا رشتہ  ختم ہوچکا ہے‘‘
وہ خود کماتی تھی اس لئے شوہر سے الگ ہونے کے باوجود اس نے تینوں بچوں کو دینی اوراعلیٰ عصری تعلیم دلوائی اور بہترین مسقبل کے خواب ساتھ باندھ کر انھیں بدیس بھیج دیا۔
 برسوں بعدایک دن  وہ اسے بازار میں مل گئی تو وہ اسے چھوڑنے اس کے گھرتک آگیا۔
 ’’ آئو۔۔۔۔اندر آو۔‘‘
’’مگر۔۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ کچھ جھجھکا۔
’’اوہم م م م مم م‘‘ اور وہ بازوسے پکڑکر اُسے اندر لے گئی۔
چائے اور سنیکس کے بعد وہ جانے کےلئے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’کہاں جا رہے ہو۔۔۔۔۔ رک  نہیں سکتے‘‘
’’مگر۔۔۔۔ شرعاً  ۔۔۔۔‘‘
’’ایک دہریہ دوسرے دہریئے کے ساتھ تو رہ سکتا ہے نا۔۔۔‘‘ 
 
 

گھرکا معاملہ

’’میں نے دروازے پہ کیمرے والی ڈور بیل نہیں لگوارکھی۔ دروازہ کھولنے کے لئے بھی میں زیادہ تر ریمورٹ کا استعمال نہیں کرتی ۔ جب بھی کوئی  دستک دیتا ہے میں دروازہ کھولنے سے پہلے کی ہول(keyhole) سے ایک نظر دیکھ لیتی ہوں۔آج جب دروازہ ٹھوکنے کی آواز آئی تو میں نے  حسبِ معمول کیِ ہول سے باہرجھانکنا چاہا لیکن وہ بند تھا ۔ کی ہول میں چابی  ڈالے کوئی مسلسل گھمائے جارہاتھا۔میں نے پلٹ کر دیکھا میری چابیاں اپنی جگہ پر موجود تھیں۔ ۔۔۔۔میں نے ہڑبڑاہٹ پر پوری طرح  قابو پاتے ہوئے  بلڈنگ  کے سیکیورٹی گارڈ کا نمبر ڈائل کر دیا۔۔۔۔۔دروازے کے باہر اچانک فون کی رِنگ ٹون گونجی اورکوئی گھبراہٹ میں چابی  دروازے میں ہی پھنسی چھوڑکر بھاگ گیا‘‘۔
 انسپکٹرنے میرا ا بیان ریکارڈ کیا اور بولا’’ میڈم یہ تو آپ کا گھریلو معاملہ لگتا ہے ۔۔۔ گھر کی بات گھر میں ہی نپٹا لو، باہر کیوں پھیلا رہے ہو‘‘
 
راجوری،جموں کشمیر،+91 9906525666