تازہ ترین

زائرینِ حر مین شریفین سے

مبارک سفر کا مبارک اجر ہے

13 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد ہاشم قادری مصباحی۔۔۔۔ جمشیدپور
 اسلام کے فرائض میں سے ایک مستقل فرض بیت ا للہ کا حج ہے جو بندے پر عقل و بلوغ اور اسلام کے بعد صحت و تند رستی اور مالی وسعت کی حال میں فرض ہے۔حج کے ار کان، میقات سے احرام باندھنا، عرفات میں ٹھہر نااور خا نہ کعبہ کی زیارت و طواف وغیرہ کر نا اس پر سب کا اجماعِ اُمت ہے۔ بغیر احرام کے حرم شریف کے حدود میںداخل نہیں ہو نا چا ہیے۔ حرم کو حرم اس لیے کہا جاتاہے کہ یہ معابد ابراہیم  ؑہے اور امن وحر مت کی جگہ ہے، سب سے اول مسجد جو خدائے تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنائی گئی وہ ہے جو مکہ میں ہے یعنی کعبہ شریف وہ مبارک گھر ہے۔ اس میں مغفرت و رحمتِ خداوندی کی ہمہ وقت بارشیں ہیں اور سارے جہان کے لیے سیدھی راہ اور ہدایت کی یہی خانہ خدابنیاد ہے۔ سب رسولوںؑ کا، صحابوں ؓکا ،ولیوں کا اور مسلمانوں کا مشترکہ قبلہ الصلوٰۃ ہے، اس میں اللہ سبحا نہُ تعالیٰ کی بے شمار نشانیاں پنہاں وعیاں ہیں۔ قرآن مجید میں ار شاد باری تعالیٰ ہے:( القر آن، سورہ الحج22،آیت32،) تر جمہ: بات یہ ہے، اور جو اللہ کی نشا نیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پر ہیز گاری سے ہے،قر بانی کے جانور بھی شعائر اللہ میں سے ہیں ۔
محمد بن ابی مو سیٰ رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں عر فات میں ٹھہر نا اور مزدلفہ اور رمی جمار اور سر منڈ وانا اور قر بانی کے اونٹ شعا ئر اللہ ہیں۔(حدیث) ابن عمر رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں، میں نے اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پو چھا شعا ئر اللہ کیا ہیں؟ آپؓ نے فر مایا بیت اللہ اور صفا مروہ(حدیث4495،4861)اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں اور نبی کریم  ﷺ نے احا دیث طیبہ میں اللہ کی نشا نیوں کی عظمت بیان فر مائی ہے اور ان کی تعظیم کا حکم فر مایا۔ الحمد للہ، حجاجِ کرام! آپ کو اللہ نے اپنے گھر بلایا اور حج جیسی نعمت عطا فر مائی تو(آپ) حجاج کرام کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ حج جیسی اہم عبادت کو صحیح شرعی طریقہ( مناسک ) سے ادا کرنے کی کوشش کریں اور ساتھ ساتھ اس عبادت والے سفر کو با مقصد بنائیں۔حج کے تو پانچ ایام ہیں لیکن آپ کو وہاں38دن سے لے کر44 دن تک کا وقت ملتا ہے جس میں حرمِ مدینہ شریف آقا  ﷺ کی بار گاہ میں 8 دن کی حاضری کا شرف بھی حاصل ہو تاہے۔آپ اپنے نصیب پر خوش ہوں، دنیا کا ہر مسلمان مدینہ کی حاضری ،خانہ کعبہ کی زیارت کی تمنا رکھتا ہے۔آپ کی تمنا پوری ہو رہی ہے تو اس کے ایک ایک لمحے (Minute Single ) کو کار آمد اور باعث اجر بنائیں ۔ابھی سے آپ حج کے سفر کا چارٹ(Chart) بنائیں کہ ہم وہاں جاکر زیادہ سے زیادہ وقت حرم مکہ وحرم مدینہ منو رہ میں گزا ریں گے ،ہر دن کم ازکم 50 نفل نمازیں ادا کریں گے ان شا ء اللہ تعالیٰ، فرائض و واجبات کے علاوہ ہر دن زیا دہ سے زیادہ قرآن مجید کی تلاوت کریں گے، مدینہ طیبہ میں کم ازکم 5 قرآن مجید کی تلاوت پوری کریں گے،آقا  ﷺ کی بار گاہ میں کم ازکم ایک لاکھ درود پاک اور جتنا زیادہ ہوسکے نذرانۂ عقیدت پیش کریںگے، زیادہ سے زیادہ تو بہ استغفار کریں گے۔ حرمین کی بار گاہوں میں تو بہ قبول ہو تی ہے، دعائیں مقبول ہوتی ہیں ، اس عمل کی بہت اہمیت و فضیلت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے(القر آن،سورہ نساء4،آیت64) تر جمہ: اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطا عت کی جائے اور اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حا ضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چا ہیں اور رسول ان کی شفاعت فر مائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کر نے والا مہر بان پائیں۔(کنز الا یمان)۔ خا نہ کعبہ میں کم از کم 15 قرآن مجید کی تلاوت کریں گے اور طواف کعبہ زیادہ سے زیادہ کریں گے،توبہ استغفار زیادہ سے زیادہ کریں گے کم ازکم 15 عمرہ کریں گے قر آن کریم میں حج و عمرہ کی بہت فضیلت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (القرآن،سورہ البقرہ2،آیت196)تر جمہ:حج اور عمرہ اللہ کے لیے پورا کرو۔ 
یہ ایسی عبادت ہے کہ ہمیشہ ہوتی رہے گی،حج و عمرہ کی فضیلت پر یہ حدیث پاک ملا حظہ فر مائیں۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیت اللہ کاحج اور عمرہ یا جوج ماجوج کے نکلنے کے بعد بھی ہوتا رہے گا۔(صحیح بخاری شریف، حدیث 1593) یاد رہے کہ حج کے ایام آنے کے چار روز قبل بالکل آرام فر مائیں تاکہ آپ حج کے ارکان پورے کر نے کے لیے چاک و چوبند رہیں۔ابھی سے اپنا،اپنے بچوں ، ناتی ،پوتا ،احباب و رشتے داروں کے ذہن کو(Mind make up) کریںکہ اس سے پہلے جو سفر ہم نے کئے،گھو مے پھرے واپسی پر آپ لو گوں کے لیے تحفہ،تحائف Gift)) لائے ،اس بار اپنے لئے اورآپ سب کے لیے بہترین گفٹ لائیں گے جو انمول ہیں جن کی کوئی قیمت نہیں لگا سکتا، میں حر مین شریفین جاکر عبادت و ریاضت کرکے حج کا فریضہ ادا کروں گا، وہاں سے واپس آنے پر مولیٰ کریم مجھے سب سے بڑا انعام عطا فر مائے گا، مجھے گنا ہوں سے پاک کردے گا ، واپس آنے کے بعد میں قرآن وحدیث کے حکم پر عمل کروں گا۔ (میں وہاں سے کسی طرح کے دنیا وی سامان تعیش نہیں لائوں گا،اللہ ورسول نے جیسا فر مایا ہے ویسی زندگی گزارنے کی کوشش کروں گا،فرمان الٰہی ہے۔(القرآن،سورہ انعام6،آیت82) تر جمہ: جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی انہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔(کنزالایمان) رسول اللہ  ﷺ نے فر مایاـ: جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں گناہوں کی آمیزش نہیں کی تو آپﷺ کے اصحاب نے کہا یا رسو ل اللہ ﷺ!  یہ تو بہت مشکل ہے۔ ہم میں کون ایسا ہے جس نے گناہ نہیں کیا، تو یہ آیت کریمہ اُتری اور شرک سے منع کیا گیا۔(بخاری حدیث 32)اب ہم شرک نہیں کریں گے ہم گناہوں سے پاک و صاف ہوکرآئے ہیں اب ہم اللہ ورسول ﷺ کی پیروی کریں گے، میرے پیارے نبی  ﷺ کا فر مانِ عا لیشان ہے: کہ اگر کسی شخص کے دروازے پر نہر جاری ہو اور وہ روزانہ اس میں پانچ دفعہ نہائے تو تمہارا کیا گمان ہے؟ کیا اس کے بدن پر کچھ بھی میل رہ سکتا ہے؟ صحابہ ؓنے عرض کیا کہ نہیں یا رسو ل اللہ! ہر گز نہیں۔آپ  ﷺ نے فر مایا یہی حال پا نچوں وقت کی نمازوں کا ہے کہ اللہ ان کے ذریعہ سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔(بخاری شریف حدیث 528) جب اللہ نے اتنا کرم فر مایا گنا ہوں سے پاک کر دیا تو اب ہم برابر نماز ادا کریں گے تا کہ اللہ گناہوں کو مٹا تا رہے۔ ہم حج سے واپسی پر کسی طرح کا کوئی گفٹ کسی کے لیے نہیں لائیں گے، تم لوگ آس لگا کر مت رکھنا ،ہاں وہاں کا تحفہ’’آب زم زم‘‘شریف اور کھجوریں لائوں گا جو شفا ہے جس کو پینے کے لیے ساری دنیا کے لوگ چاہت رکھتے ہیں۔
مدینہ منورہ کی حاضری اور آداب :
او پائے نظر ہوش میں آ ،یہ کوے نبی ہے
آنکھوں سے بھی چلنا یہاں بے ادبی ہے
مدینہ منورہ میں صحابہ کرامؓ سے لے کر بڑے بڑے اولیائے کرامؒ نے ادب سے حاضری کو اپنے لیے سعادت مانا اور جانا۔ وہاں جاکر ادب سے رہیں، کعبہ شریف اور روضئہ رسول ﷺ کی جانب پیر نہ پھیلائیں آواز بلند نہ کریں ،آہستہ گفتگو کریں   ؎
اد ب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا
آسمان نے نیچے بارگاہ رسالت  ﷺ وہ مقام ہے جو عرش سے بھی زیادہ نازک ہے،حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ اور حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمہ جیسے بڑے بڑے اولیا اللہ بھی جب اس بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں تو ادب سے سانس تک روک کر حاضر ہوتے ہیں کہ کہیں تیز تیز سانسوں سے بارگاہ رسالت  ﷺ میں بے ادبی نہ ہوجائے۔اللہ رب ا لعزت کا فر مان ہے۔( القر آن، سورہ الحجرات49،آیت2)تر جمہ: اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس(نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہو جائیں اور تمھیں خبر نہ ہو۔( کنز الایمان) آہستہ آہستہ درود وسلام پیش کریں۔ ا ٓپ اللہ ورسولؐ کے مہمان ہیں، مہمان کو چا ہیے کی میز بان کی شان، عظمت و جلال کی قدر کریں ایسا نہ ہوکہ ساری ریاضتیں عبادتیں بر باد ہو جائیں۔ حر مین شریفین میں کسی سے الجھیں نہیں خاص کر وہاں انتظا می امور کے ذمہ داروں( پولیس) سے، صبر کے ساتھ اپنی عبادت میں دھیان دیں اور اپنے غصہ کو قابو میں رکھیں، کسی شخص کو بھی انعام ملتا ہے تو وہ اس انعام، ٹرافی، سرٹیفیکٹ، سپاس نامہ کو سنبھال کر رکھتا ہے۔ آپ کو اللہ ورسول  ﷺ کی جانب سے بڑا اعزاز ملا ہے اس کی قدرو منزلت کا خیال ہمیشہ ہمیش رکھیں عبادات ومعا ملات دونوں میں،تبھی آپ صحیح حاجی کہلانے کے حقدار ہوں گے ،ور نہ آپ نظر دوڑائیں اپنے ارد گردایسے کتنے ہی لوگ ملیں گے جو آنے کے بعد وہی پرانے طرز زندگی کو اپنائے ہوئے ہیں کوئی بدلا ئو نہیں وہی الٹا سیدھا کر رہے ہیں،اللہ آپ کو ہم کو سب کو زیارت حرمین الشرفین کی نعمت عظمیٰ کی اہمیت سمجھنے اور اس کی عمر بھر قدر کر نے کی توفیق عطا فر مائے ۔آمین ثم آمین۔
............................
Mob.: 09279996221
hhmhashim786@gmail.com