تازہ ترین

غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ ،جگہ جگہ فورسز کی بھاری تعداد تعینات

پائین شہر میں دوسرے روز بھی معمولات زندگی درہم برہم

8 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: امان فاروق    )

بلال فرقانی
سرینگر// انتظامیہ نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کے پیش نظر پائین شہر کے حساس علاقوں میں دوسرے روز بھی پابندیاں عائد رہیں جس کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح سے درہم برہم ہوکر رہ گئی۔ سید علی گیلانی،میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے جمعرات کو این آئی اے کی طرف سے دختران ملت سربراہ آسیہ اندرابی اور انکی دو ساتھیوں کو دہلی منتقل کرنے کے خلاف ہڑتال کی کال دی دی تھی۔اس دوران ہڑتال کال کے پیش نظر اور حزب کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی کے پیش نظر پائین شہر کے حساس علاقوں میں دوسری روز بھی قدغنیں عائد کی گئیں۔تاریخی جامع مسجد کے ارد گرد فورسز اور پولیس کی بھاری تعداد ار کو تعینات کیا گیا تھااور مقامی لوگوں کے مطابق دوسرے روز بھی مسجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ادھر ہڑتال کے پیش نظرپائین شہرکے اہم سڑکوں ،پلوں اور چوراہوں پر بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ ناکے بٹھاکر نقل و حمل کو ناممکن بنایاگیا ۔لوگوں کے مطابق ان بستیوں میں چپے چپے پر پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد تعینات رہی ۔ پائین شہر میں ایک مرتبہ پھر کرفیو جیسی بندشیں عائد کی گئی تھی جبکہ حساس علاقوں میں اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ہڑتال اور بندشوں کے نتیجے میں شہر میں وسیع آبادی گھروں میں محصور ہوکر رہ گئی۔کرفیو جیسی پابندیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پائین شہر کے چپے چپے پر پولیس اورسی آر پی ایف اہلکاروںکی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی ۔ امکانی مظاہروں کے پیش نظر سرینگر کے بیشتر علاقوں میںپولیس اور نیم فوجی دستوں نے جگہ جگہ ناکے بٹھائے تھے ۔ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے فورسز اور پولیس کو شہر خاص کے حساس علاقوں میں غیر معمولی طور پر متحرک رہنے کی ہدایت دی گئی تھی تاکہ کسی بھی امکانی احتجاجی مظاہرے کو قبل از وقت ہی روکا جائے۔ادھر فورسز کو ان علاقوں میں سنگبازی سے نپٹنے کیلئے جدید ساز و سامان سے لیس ہوکر گشت کرتے ہوئے دیکھا گیا۔