تازہ ترین

دو دہائیوں کی لال فیتہ شاہی سے آزادی

کلرکوں کی تنخواہ میں تفاوت دور

12 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
 سرینگر//قریب دو دہائیوں تک لال فیتہ شاہی کی زنجیروں میں جکڑی پے اناملی فائل کو بالآخر گورنر نریندر ناتھ ووہر ا نے بیک جنبش قلم چھڑا کر کلرکوں اور دیگر ملازمین کی دیرینہ مانگیں پوری کرلیں۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ 2007اور 2012میں حکومت نے ایسے ملازمین کے مطالبا ت کو ،جنہیں تنخواہوں میں تفاو ت کی شکایت تھی ، کے لئے کھانڈے کمیٹی اور بعد ازاں ویاس کمیٹی تشکیل دے کر ان کی مانگوں کا جائزہ لینے کے لئے کہا تھا ۔اس دوران مختلف محکمہ جات میں تعینات کلرکوں نے احتجاج بھی کیا اور ہڑتال بھی، تاہم بار بار کی ہڑتالوں اور احتجاجوں کے باوجود بھی ان کی مانگوں کو پورا نہیں کیا گیا۔ اس دوران ملازمین کے لئے دو پے کمیشن بھی لا گو ہوئے تاہم ان پے کمشنوں میں بھی کلرکوں کے مطالبات کو درخور اعتنا نہیں سمجھا گیا ۔ذرائع نے کہا کہ جب ریاست میں ساتویں تنخواہ کمیشن کا نفاذ بھی عمل میں لایا گیا تو اس وقت بھی کلر کوں کی تنخواہوں میں پائے جانے والی تفاوت کو دور کر نے کے حوالے سے بر سوں پرانی مانگ کو پوارا نہیں کیا گیا جس کے بعدجموں و کشمیر لداخ کلرکل ایسو سی ایشن کی کال پر ہڑتال کی گئی ۔سابق وزیر خزانہ الطاف احمد بخاری کے ساتھ بنکیٹ ہال سرینگر میں کلرکل ایسو سی ایشن کے زمہ داروں نے ملاقات کی جس کے دوران سابق وزیر خزانہ نے وعدہ کیا کہ آنے والی کابینہ میٹنگ کے دوران مطالبات کو منظوری دی جائے گی ۔لیکن حکومت کی برخاستگی کے بعد معاملہ پھر لٹک گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ گورنر کے صلاح کار اور سابق چیف سیکرٹیری بی بی ویاس نے یقین دلایا تھا کہ معاملہ گورنر کی نوٹس میں لایا گیا ہے اور جلد اس سمت میں مثبت پیش رفت ہوگی ۔اس حوالے سے کلرکل ایسوسی ایشن کے صدر فاروق احمد ملک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ہمیں امید ہے کہ آنے والی ایس اے سی میٹنگ کے دوران اس فائل کو منظوری دی جائے گی جس کے ساتھ ہی ہزاروں ملازمین کی بر سوں پرانی مانگ پوری ہو جائے گی ۔انہوں نے بتایا کہ ہماری برادری گزشتہ قریب دو دہائیوں سے جدو جہد کررہے تھے اور بالآخر اس جد وجہد نے رنگ لایا۔