تازہ ترین

حضرت رفیدہ ؓ سے رزان النجار تک

یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

14 جون 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

مجتبیٰ فاروق کانہامہ بیروہ
اسلامی   تاریخ جہاں مردوں نے اسلام کی اشاعت اور تبلیغ میں نہایت اہم رول ادا کیا وہیں خواتین نے بھی دین اسلام کی اشاعت میں  کلیدی کردارادا کیا ۔ نبوت ﷺکے آغاز ہی خواتین نے اسلام کی ترویج و اشاعت کا فریضہ اپنے نازک کندھوں پر اٹھایا۔ انھوں دعوت الی اللہ،جہاد ، ایثار اور جود و سخاوت میں اثر انگیز کار نامے انجام دئیے ۔ خواتین نے ہر میدان میںاسلام کی فتح و نصرت میں حصہ لیا ۔ اسلام قبول کرنے کے فورا بعد خواتین (صحابیات) نے جن باتوں پر اللہ کے رسول سے بیعت کی ۔ اس کا تذکرہ قرآن مجید میں اسطرح وارد ہے : ’’اے نبی جب تمہارے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کے لئے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گی اور وہ چوری نہ کریں گی اور نہ وہ بدکاری کریں گی ۔ اور وہ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی ۔اور وہ اپنے ہاتھ اور پاؤں کے آاگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی ۔ ۔ اور وہ کسی معروف میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان سے اللہ کے لئے بخشش کی دعا کرو ۔‘‘ ( ملاحظہ ہو : سورۃ الممتحنہ )یہ وہ شرطیں ہیں جن کا ایمان کے لئے اور اسلام پر ثابت قدم رہنے کے لئے  اقرار کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے ۔ 
     اس تعلق سے سب سے پہلے حضرت خدیجہ ؒ نے ایسا رول ادا کیا جس کی مثال تاریخ میں آج تک نہیں مل پاتی ہے ۔ حضرت خدیجہ ؒ  تاریخ میں ایک منفرد کردار ہے ۔ یہ وہ عظیم ـخاتون ہیں جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو کبھی بھی اکیلا محسوس ہونے نہیں دیا ۔ انھوں کاشانہ نبوت ﷺ کو اس وقت ساتھ دیا جس وقت انہیں سخت ضرورت تھی ۔جب بھی اور جس وقت بھی آپ ﷺنے ان سے تعاون دینے کے لئے کہا،وہ لبیک کہتی تھیں ۔ وہ ہر وقت آپ ﷺ کو حوصلہ بڑھاتی تھیں ۔انھوں جن سنہرے اور جامع الفاظ میں آپ ﷺ کا تعارف کرایا ، وہ تاریخ میں محفوظ ہیں : 
کلا واللہ لا یخزیک اللہ ابدا انک لتصل الرحم وتکسب المعدوم و تقر ی الضیف و تعین علی نوائب الحق ۔
 (الصحیح  للبخاری ، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول للہ ﷺ)
  خدا کی قسم اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو کبھی رنج نہ دے گا ، آپﷺتو صلہ رحمی کرتے ہیں ، آپ ناتوانوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں ، آپ ناداروں کے لیے کماتے ہیں ، آپ مہمان نوازی کرتے ہیں ، آپ حوادث کے زمانے میں متاثرہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں ۔
   صحابیات میں سے ایک اور بے باک اور جرات مند خاتون حضرت صفیہ ؓ ہیں ۔ انہوں نے غزوہ خندق میں نہایت اہم کردار ادا کیا ۔ خندق میں خواتین بنی قریظ کی آبادی سے متصل ایک قلعہ میں رکھی گئی تھیں او ر ان کی حفاظت کے لئے حضرت حسان ؓ متعین کئے گئے تھے ۔ یہود نے جب دیکھا کہ تمام لشکر نبی کریم ﷺکے ساتھ ہے ، انہوں نے موقعہ کا فائدہ اٹھا کر قلعہ پر حملہ کردیا ، ایک یہودی قلعہ پر پھاٹک تک پہونچ گیا اور قلعہ پر حملہ کرنے کا موقع ڈھونڈ رہا تھا ،حضرت صفیہ ؓنے دیکھ لیا ، اور حضرت حسان ؓسے کہا کہ اتر کر اس کو قتل کردو ، ورنہ یہ جا کر دشمنوں کو بتا دے گا ۔ لیکن حضرت حسان ؓ نے اپنی کمزوری کی وجہ سے معذرت کر لی اور کہا کہ میں اس کام کا ہوتا تو یہاں کیوں ہوتا ؟  حضرت صفیہ ؓنے خیمہ کی ایک چوب اکھاڑ لی اور اتر کر یہودی کے سر پر اس زور سے ماری کہ سر پھٹ گیا ، حضرت صفیہ ؓچلی آئیں اور حضرت حسان سے ؓکہا کہ ہتھیار اور کپڑے چھین لاؤ ، حسان نے کہا جانے دیجئے مجھ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ،حضرت صفیہ ؓنے کہا اچھا جاؤ اس کا سر کاٹ کر قلعہ کے نیچے پھینک دو تاکہ یہودی مرعوب ہوجائیں لیکن یہ خدمت حضرت صفیہ ہی کو انجام دینی پڑی ، یہودیوں کو یقین ہوا کہ قلعہ مین بھی کچھ فوج متعین ہے اس خیال سے پھر انہوں نے حملہ کی جرات نہ کی ۔ حضرت ام ایمنؓ ایک اور درخشندہ ستارہ تھیں ۔ انھوں نے متعد د غزوات میں شرکت کی ، جہاں وہ لوگوں کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کو تیمار داری کرتی تھیں ۔ ایک اور روشن ستارہ حضرت سمیہؓ ہیں ۔انھوں ابتدا ہی میں ابتدا ہی میں اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل کر لی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا اسلام قبول کرنے والوں میں ساتواں نمبر تھا ۔ اسی کی بدولت انھوں بے شمار صعوبتیں جھلی تھیں ۔ مشرکین مکہ نے ان کو مکہ کی جلتی تبتی ریت پر پر لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں کھڑا کرتے تھے لیکن ان کے عزم و استقلال میں میں زرا بھر بھی فرق نہیں پڑتا تھا ۔انہیں جلتی تبتی ریت پر دن بھر رکھا جاتا تھا ۔ ایک دن شام کے وقت گھر آئیں تو ابو جہل نے انہیں گالیاں دینی شروع کیں اور پھر اس کا غصہ اس قدر تیز ہوا کہ کہ اٹھ کران کے دل میں ایسی برچھی ماری کہ حضرت سمیہ ؓ  شہادت کے درجہ پر پہنچ گیں ۔ حضرت سمیہ ؓ  کو تاریخ اسلام میں پہلی شہیدہ کا درجہ حاصل ہے ۔ام المومنین حضرت عائشہؓ صدیقہ ؓ  تمام صحابیات میں سب سے زیادہ عالم تھیں ۔ بڑے بڑے اکابر اور عظیم المرتبت صحابی ؓ ان ان سے دقیق مسائل پوچھا کرتے تھے ۔غزوہ عہد میں وہ ہاتھ سے مشک بھر بھر کر زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں ۔ حضرت ام عمارہ  ؓبھی ایک معروف صحابیہ ہیں ۔وہ انتہائی عالمہ ،مجاہدہ اور باکمال خاتون تھیں ۔ انھوں نے غزوہ احد، حدیبیہ ،حنین ، اور جنگ یمامہ میں شرکت کر کے نہایت حیرت انگیز کارنامے سر انجام دیئے ۔  جب تک مسلمان فتح یاب تھے ، وہ مشک میں پانی بھر کر پلا رہی تھیں ۔ حضرت ام سلیم ؓ صبر استقامت کی ایک اعلیٰ مثال تھیں ۔وہ بھی غزوات میں میں زخمیوں کے علا ج و معالجے اور انہیں پانی پلانی کی خدمات سر انجام دیتی تھیں۔ حضرت انس ؓ ان کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ غزوہ عہد کے دوران جب مجاہدین کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا تو میں نے دیکھا کہ حضرت عائشہؓ  اور حضرت ام سلیم ؓ اپنی پیٹھ پر مشکیزے اٹھائے ہوئے زخمیوں کو پانی پلا رہی تھیں ۔ حضرت ام فضل ؓ بھی وہ خوش بخت خاتون تھیں جنھوں نے ابتدا ہی میں ااسلام کو گلے لگایا ۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کا قبول اسلام نمبر دوسراہے ۔ قبول اسلام کے بعد انہیں انتہائی مشکلات اور و مصائب کا سامنا کرنا پڑا ۔ حضرت خنسا ء ؓ عرب کی مشہور مرثیہ گو شاعرہ اور عظیم المرتبت خاتون تھیں ۔ کہا جاتا ہے کہ عرب میں ان کے برابر کوئی عورت شاعر نہیں پیدا ہوئی ۔ جنگ قادسیہ میں وہ اپنے چاروں نوجوان بیٹوں کے ساتھ شریک تھیں اور ان کو مخاطب کر کے یوں جوش دلایا :’’پیارے بیٹو۱ ہم نے اسلام اور ہجرت اپنی مرضی سے اختیار کی ہے ۔ خدا کی قسم تم ایک ماں اور باب کی اولاد ہو ، میں نے نہ تمہارے باب سے خیانت کی اور نہ تمہارے ماموں کو رسوا کیا ، تم جانتے ہو کہ دنیا فانی ہے اور اور کفار سے جہاد کرنے کا بڑا ثواب ہے ۔ اس بنا پر صبح اٹھ کر لڑنے کی تیاری کرواور آاخر وقت تک لڑو۔‘‘جب ان کے چاروں بیٹے شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا ۔ حضرت رفیدہ ؒوہ خوش بخت خاتون تھیں جنہیں اللہ کے رسول ﷺ کے روبرو اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل کر لی تھی ۔طب اور علاج و معالجہ سے ان کو خصوصی دلچسپی تھیں جس کی بنا پر انھوں اپنے لئے تیمار داری اور علاج و معالجہ کے کام کو انتخاب کیا ۔ انھوں نے اپنے آپ کو زخمی مجاہدین کی خدمت اور ان کی تیمار داری کے لئے واقف کردیا ۔ان کا اپنا ایک خیمہ تھا جس میں وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں ۔  مورخ محمود طعمہ حلبی ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’ ایک ایسا شخص جو زخموں سے چور ہونے کی بنا پر اپنے آپ کو سنبھالنے سے عاجز آچکا ہے ، یا کوئی ایسا زخمی شخص جس نے اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لئے اس کی راہ میں اپنا خون بہایا ہو ،اس کی تیمار داری اور معاونت سے بڑ کر بھی کوئی خدمت ہوسکتی ہے ۔ بلاشبہ یہ ایک بہت بڑی خدمت ہے لیکن اس کی توفیق نصیب والے کو ہی ملتی ہے ۔سیدہ رفیدہ ؒ نے ہر زخمی مجاہد کی دیکھ بال اور تیمار داری میں رحم دلی اور خدمت گذاری کے حوالے سے ایک مثالی کردار ادا کیا ۔ام عطیہ ایک بہادر صحابیہ تھیں ۔ مسلم کتاب الجہاد باب النساء الغازیات میں ان کے بارے میں آیا ہے کہ وہ غزوات میں مریضوں کی تیمار داری ، زخمیوں کے لئے کھانا پکاتی ، ان کے سامان کی حفاظت کرتی اور ان کی مرہم پٹی کرتی تھیں ۔  دعوت و عظیمت کا ایک اور کردار حضرت اسماء بنت ابی بکر ؒ ہیں ۔ حضرت اسماء بچپن ہی سے متحرک تھیں ۔ جب نبی کریم ﷺ نے غار ثور  پناہ لی تواپﷺ اور ابو بکر صدیق نے حضرت اسماء اپنا راز دار بنایا ۔ وہ دشمنوں کی سرگرمیوں کی خبر آپ ﷺ تک پہنچاتی تھیں ۔ ان کے ذمے دوسرا کام یہ تھا کہ وہ دشمنوں کی نظروں سے چھپ کر آپ ﷺ کو کھانا پہنچایا کرتی تھیں ۔  
صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے مشن کوآگے بڑھاتے ہوئے ۲۱ سالہ فلسطینی بہن رزان النجار فلسطین میں زخمیوں کی قابل تحسین اور بے لوث خدمات انجام دے رہی تھیں ۔ وہ پیشہ کے لحاظ سے نرس تھیں ۔کم عمری میں ہی انہیں اس پیشہ میں عمدہ مہارت حاصل تھیں ۔ اس ہر دلعزیز بہن نے نے گزشتہ دو سالوں سے زخمیوں کی تیمار داری اور علاج و معالجہ میں قابل داد خدمات انجام دیں ۔ پچھلے جمعہ کو بھی وہ اسی مشن پر گامزن تھیں ۔لیکن اس کو کیا معلوم تھا کہ آج وہ خود اسرائیلی دہشت گردوں اور درندوں کے خون آلود ہاتھوں کی زد میں آجائیں گی ۔رزان اس وقت شہادت کے درجے پر فائز ہوئیں جب وہ غزہ میں ایک زخمی مزاحمتی کار کو علاج کرنے کی غرض سے دوڈ رہی تھیں ۔اسرائیل فوجیوں کی گولیاں رزان کے سینے میں پیوست ہوگئی اور روزے کی حالت ہی میں شہید ہوگئیں ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے وسطے داروسن کہاں
اس عظیم المرتبت شہیدہ نے قلیل وقت میں بلند اہداف طے کیں ۔ اس عمر میں ہماری بہنیں جیولری ، میک اپ ، ناز و نخرے ،کپڑوں کی خریداری اور نت نئے فیشنوں میں مصروف رہتی ہیں ۔ لیکن رازن اس عمر میں ہمہ وقت انسانیت کی خدمت کرنے میں مصروف رہتی تھیں ۔اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے اسے ایک بڑے اعزاز سے نوازا ۔ انہوں نے زندگی کو خطرات میں ڈال کر جینا سیکھا اور دنیا کو دکھا دیا کہ خطرات میں بھی اپنا کردار ادا کیسے کیا جاسکتا ہے ۔ بقول ایک عربی شاعر : 
اباک فی الناس اہل المطموع      ومن یستلذ رکوب الخطر 
ومن لا یحب صعود الجبال         یعش ابداََ الدھر بین الحفر 
 اس یعنی میں بلند عزائم رکھنے والوں اور ان لوگوں کو مبارک باد دیتا ہوں جو اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے خطرات مول لیتے ہوئے لزت محسوس کرتے ہیں ۔ جو لوگ پہاڑوں پر چڑھنے کا خطرہ مول لینا پسند نہیں کرتے وہ ہمیشہ پستیوں میں رہتے ہیں ۔ فلسطین میں خواتین نے بڑی مصیبتیں اٹھائی ہیں اور ہر طرف عورتیں صعوبتیں جھیل رہی ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود وہاں حضرت سمیہ ؒ, ، حضرت رفیدہ ،ؓ حضرت خنساء ؓ، حضرت ام سلیم ؓکے اسوہ کی اتباع کرنے والی خواتین کی ایک بڑی تعداد ہیں جو اہل باطل اور ظالموں کو للکار رہی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کو قبول فرمائیے ۔ آمین ۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
mujtabafar@gmail.com
فون نمبر 7906931017
