تازہ ترین

دل بدلی قانون کے باوجود حکومت سازی کیونکر ممکن؟

گورنر راج میں بھی صورتحال نہیں بدلی، کشمیر میں خون بہنا جاری:عمرعبداللہ

10 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

یوگیش سگوترہ
 
جموں// نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت سازی کے حوالہ سے ابہام پیدا کررہی ہے۔انہوں نے گورنر سے اپیل کی کہ وہ ریاستی اسمبلی کو فوری طور پر تحلیل کرنے کی سفارش کریں تا کہ اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت کی افواہوں کی بازگشت بند ہو ۔ پارٹی ورکروں کی کنونشن کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا’ اگر بی جے پی کے قومی جنرل سیکرٹری رام مادھو کے بیان پر جائیں تو انہوں نے کھلے طور پر حکومت سازی کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرکز ریاست میں گورنر راج سے مطمئن ہے تاہم پارٹی کی ریاستی اکائی کی طرف سے متضاد بیانات دئیے جا رہے ہیں۔پچھلے چند روز سے بی جے پی کے ریاستی لیڈر ایک نیا گٹھ جوڑ کر کے حکومت تشکیل دینے کے اشارے دے رہے ہیں جب کہ مرکزی قیادت دوسری بات کہہ رہی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ان میں کون صحیح ہے اور کون غلط‘۔ ریاست میں دل بدلی قانون پرعمر عبداللہ نے کہا’  ان لوگوں سے یقینی طور پر سوال کیا جانا چاہئے جن کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس حکومت بنانے کے لئے (اراکین اسمبلی کی ) تعداد موجود ہے ، دل بدلی قانون کے ہوتے ہوئے یہ کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے ۔ ‘قابل ذکر ہے کہ ریاستی آئین کے دل بدلی قانون کے مطابق اگردوتہائی تعداد سے ممبر اسمبلی بھی دل بدلی کرتے ہیں تو ان کی رکنیت جا سکتی ہے ۔عمر نے کہا کہ ابھی تک پی ڈی پی کے صرف تین سے چار ممبران اسمبلی نے پارٹی قیادت کے خلاف کھل کر باغیانہ تیور اپنائے ہوئے ہیں اور یوں بھی یہ پی ڈی پی کا اندرونی معاملہ ہے ، نیشنل کانفرنس کا نہ تو پی ڈی پی کی تشکیل میں کوئی ہاتھ تھا اور نہ ہی ہم اس کا شیرازہ بکھیرنے میں کوئی دلچسپی رکھتے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے کچھ ممبران اسمبلی کی بی جے پی میں شمولیت کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے اسمبلی کو تحلیل کرنے کی مانگ دہرائی اور کہا کہ گورنر کو فوری طور پر ان افواہوں کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے اسمبلی کو تحلیل کر دینا چاہئے۔ ’’اسمبلی کو تحلیل کرکے ہی ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت ، سیاسی جماعتوں میں عدم استحکام پیدا کرنے اور متبادل سرکار کی تشکیل کی افواہوں پر روک لگ سکتی ہے ‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم جلد انتخابات کی مانگ نہیں کر رہے ، ہمیں اس بات کا پوری طرح احساس ہے کہ کشمیر میں انتخابات کیلئے سازگار ماحول بنانے میں کچھ وقت لگے گا لیکن اس دوران ہم حکومت سازی کے حوالہ سے آئے دن اڑنے والی افواہوں پر لگام چاہتے ہیں‘‘۔ کشمیر کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ گورنر ی راج کے نفاذ سے بھی وادی کے حالات میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا ’گزشتہ روز کولگام میں تین عام شہریوں کو ہلاک کر دیا گیا، گلی کوچوں میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں، عسکری کارروائیاں بدستور جاری ہیں ، نوجوان بدستور جنگجوئوں کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ دہلی میں بیٹھے لوگ بیشک دعوئے کریں کہ حالات بہتر ہو گئے لیکن زمینی سطح پر ہمیں ایسا کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے‘‘۔عمر عبداللہ نے کہا کہ سابق سرکار کے بی جے پی پی ڈی پی وزراء پر کورپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں ، ہم یہ بات گورنر کی نوٹس میں لائیں گے تاکہ ان کی تحقیقات ہو سکے ۔