تازہ ترین

نئے میڈیکل کالجوں کیلئے سرکاری پینل قائم

بہترین کارکردگی دکھانے والوں کی حوصلہ افزائی پر گورنر کازور

10 اگست 2018 (28 : 01 AM)   
(      )

 
 
 سرینگر //ریاست میں نئے پانچ میڈیکل کالجوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے شروع کرنے کو یقینی بنانے کے لئے گورنر این این ووہرا نے افسروں اور ماہرین پر مشتمل ایک ہمہ جہتی کمیٹی تشکیل دینے پر زور دیا ہے تا کہ ان کالجوں میں تدریسی عمل شروع کرنے اور ڈھانچے کے بہتر قیام کے لئے تال میل بنایاجاسکے۔گورنر نے چیف سیکرٹری کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری طور اس کمیٹی کا قیام عمل میں لائیں جو مختلف محکموں کے مابین تال میل کو یقینی بنائے گی تا کہ اننت ناگ، بارہ مولہ، کٹھوعہ، راجوری اور ڈوڈہ میں میڈیکل کالجوں کی شروعات بغیر کسی رکاوٹ کے یقینی بن سکے۔یہ کمیٹی ان کالجوں کے قیام سے جڑے مختلف معاملات کا جائیزہ لے گی۔دریں اثنا گورنر نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے اُن انجنیئروں ، تعمیراتی کمپنیوں اور ٹھیکہ داروں کو اعزازات سے نوازنے کے لئے کہا ہے جو ان کالجوں کے تعمیراتی کاموں میں بہتری کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔انہوں نے مقررہ مدت سے پہلے تعمیراتی پروجیکٹ مکمل کرنے والی عمل آوری ایجنسیوں کو اعزازات سے نوازنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کے دُور رس نتائج برآمد ہوں گے۔گورنر نے تعمیراتی کاموں پر لوح پٹی نصب کر کے اُس پر کام سے متعلق ضروری تفصیلات بشمول پروجیکٹ کو شروع کرنے کی تاریخ، پروجیکٹ پر آئی لاگت، تعمیراتی ایجنسی اور ٹھیکہ دار کا نام اور پروجیکٹ کی تکمیل کی تاریخ درج کر نے کی ہدایت دی۔گورنر نے منصوبہ بندی اور ترقی محکمہ کوہدایت دی ہے کہ وہ ایسے پروجیکٹوں کی تفصیلات تیار کریں جو مالی دشواریوں کے سبب التواء میں پڑے ہیں جن پر اب لاگت میں اضافی ہوا ہے۔انہوں نے مختلف پروجیکٹوں پر مالی بقایاجات کے بارے میں بھی تفصیلات تیار کرنے کے لئے کہا۔گورنر نے کہا کہ ریاستی حکومت مرکزی حکومت کو یک وقتی مالی استثنی کی گذارش کرے گی تا کہ اس طرح کے تمام پروجیکٹوں پر اب تک ہوا کام ضائع نہ ہو اور ان پروجیکٹوں کو بغیرکسی رکاوٹ کے دوبارہ شروع کیا جاسکے۔گورنر نے کہا کہ اُن کے حالیہ مختلف اضلاع کے دوروں کے دوران انہوں نے کئی ایسے پروجیکٹوں کا بھی جائیزہ لیا جو کئی برسوں سے وسائل کی کمی کے سبب التواء میں پڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان پروجیکٹوں کے تعلق سے کافی بقایاجات بھی ہیں جن کی مطلوبہ انتظامی منظوری کے عمل کا جائیزہ لیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں مرکزی سرکار سے یک وقتی مالی مدد کی گذارش کی جائے گی۔گورنر نے کہا’’ یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ مختلف محکمے فائنانس ڈیپارٹمنٹ کی منظوری کے بغیر کچھ پروجیکٹ دردست لیتے ہیں اس عمل سے نہ صرف سرکاری خزانے پر بوجھ پڑتا ہے بلکہ پروجیکٹوں کی تکمیل نہ ہونے کے سبب رقومات ضائع ہوجاتی ہیں‘‘۔گورنر نے سرکاری محکموں پر زور دیا کہ وہ مالی انتظام کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ اس طرح کے عمل پر فوری طور روک لگائیں اور پروجیکٹوں کو تفصیلی رپورٹ بنانے اور اس کو منظوری ملنے کے بعد شروع کریں۔